جاپان کا وہ تالاب جس میں غسل کے لیے لوگ چار دن پیدل چلتے ہیں

جاپان

،تصویر کا ذریعہlily crossley-baxter

    • مصنف, للی کراسلی بیکسٹر
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

جاپانی کوہ الپس پر دریائے کوروبے کے بغل میں ایک چھوٹا لیکن شفاف نیلے رنگ کے گرم پانی کا تالاب ہے۔ میں بھی یہاں اپنے ایک دوست کے ساتھ پہنچی۔

قریب ہی نیلے پیلے رنگ کی کچھ بالٹیاں رکھی تھیں جو تالاب میں اترنے سے قبل غسل کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ نزدیک پتھروں پر کپڑے پھیلے ہوئے تھے۔

گزشتہ 1000 برسوں سے زیادہ عرصے سے قدرتی طور پر گرم پانی والے تالاب جنھیں جاپانی زبان میں آنسین کہا جاتا ہے، یہاں کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ جاپانی لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں جسم اور روح دونوں کی صفائی ہوتی ہے۔

جاپان میں 3000 سے زیادہ گرم پانی کے تالاب ہیں، جن کا پانی معدنیات سے بھرپور ہے۔ زمین کے نیچے سے گرم پانی بلبلوں کے ساتھ اوپر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جاپان

،تصویر کا ذریعہlily crossley-baxter

بغیر کپڑوں کے غسل

لوگ اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ یہاں آتے ہیں اور ایک ساتھ غسل کرتے ہیں۔ ان میں سے چند گرم تالاب شہروں میں ہیں جہاں اب سمارٹ سپا بن گئے ہیں۔

چند گرم تالاب سمندر کے ساحلوں پر غاروں میں بھی ہیں۔ سب کی اپنی اپنی خاصیت ہے لیکن ایک تالاب سب سے مختلف ہے۔

تاکاماگہارا تالاب جاپان کے سب سے دور دراز علاقے میں واقع ہے۔ یہاں پہنچنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔

چوبو سانگکو نیشنل پارک میں واقع اس تالاب تک پہنچنے کے لیے آنسین کے مداح جنگلات اور دریاؤں کے راستے چالیس کلومیٹر ٹریک کرتے ہیں۔

پہاڑیوں پر چڑھائی کرتے ہوئے لوگ سنسان جھونپڑیوں میں رات گزارتے ہیں۔ اس سفر کے لیے جسمانی صحت کے علاوہ موسم کی سمجھ ہونا بھی ضروری ہے۔

جاپان کے ہر تالاب میں پائے جانے والے معدینات اور پتھروں کی بناوٹ بھی مختلف ہے۔

جاپان

،تصویر کا ذریعہ lily crossley-baxter

کھلے آسمان کے نیچے غسل

دنیا بھر میں کھلے آسمان کے نیچے، معدنیات سے بھرپور پانی میں غسل کرنے کا طریقہ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

کوہ الپس کے درختوں سے گھرے تاکاماگہارا تالاب میں ایسا ہی زبردست تجربہ حاصل ہوتا ہے۔

جنگلات اور پہاڑیوں کے راستے چار دن کا یہ سفر مشکل ہے لیکن جاپان میں لوگ یہ سفر صدیوں سے طے کرتے چلے آ رہے ہیں۔

جاپان کے کسی گرم تالاب میں غسل کے لیے یہ میرا پہلا سفر نہیں تھا لیکن یقیناً یہ سب سے مشکل تھا۔

جاپان

،تصویر کا ذریعہlily crossley-baxter

سفر کا آغاز

میں نے ٹوکیو سے تویاما جانے کے لیے دیر رات بولٹ ٹرین پکڑی۔ اگلی صبح دو گھنٹے بس میں سفر کرنے کے بعد میں اوریٹیٹ نامی چھوٹے سے گاؤں پہنچی۔

یہاں سے پتھریلے راستے پر چڑھائی شروع ہوتی ہے۔ پتھروں کو کاٹ کر بنائے جانے والے یہ راستے بہت تنگ ہیں۔

ہم راستے میں اکیلے نہیں تھے۔ جاپانی لوگوں کے علاوہ ہمیں چند یوروپی سیاح بھی ملے۔ تھوڑا اور آگے بڑھے تو پہاڑیوں پر دھند چھانے لگی اور موبائل فون کے سگنل بھی چلے گئے۔

پتھریلا راستہ جلد ہی ختم ہو گیا اور اس کی جگہ لکڑی کے تختوں سے بنایا گیا ایک راستہ شروع ہو گیا۔

لکڑی کے تختوں سے بنا یہ راستہ بے حد خوبصورت لگتا ہے۔ جہاں تک نظر جاتی ہے، یہی نظر آتا ہے۔ آگے بڑھنے پر ہمیں موسم کے آخری پھول بھی نظر آئے۔

جاپان

،تصویر کا ذریعہlily crossley-baxter

پہاڑی پر سرائے

ان سرایوں تک ہیلی کاپٹر سے سپلائی پہنچائی جاتی ہے۔ یہاں کام کرنے والے افراد یہیں رہتے ہیں۔ان کی وجہ سے مسافروں کو بھاری سامان کے ساتھ سفر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

یہاں گھر کا بنا کھانا ملتا ہے۔ اس علاقے میں باہر کی دنیا سے تعلق صرف انھیں سرایوں سے ہو سکتا ہے۔

یہاں مسافروں کو آگے کے راستے اور موسم کے بارے میں بھی مطلع کیا جاتا ہے تاکہ وہ راستے میں گم نہ ہو جائیں۔

پہلے یامگویا پہنچ کر ہم نے نیپالی کھانا کھایا اور اپنی بوتلوں میں تازہ پانی بھرا۔ ہم جس سرائے میں ٹھہرنے والے تھے اس کا ترچھا ڈھانچہ بارہ کلومیٹر دور سے دکھائی دے رہا تھا۔

سونے کے لیے جس ہال میں انتظام تھا اس جانب لے جانے والے میزبان نے ہمیں اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ برسوں موسم سے ٹکرانے کے باوجود اس کی لکڑی اب بھی بہت مضبوط ہے۔

جاپان

،تصویر کا ذریعہThom_Morris/Getty Images

سبھی لوگ بہت بھوکے تھے۔ رات کے کھانے کے بعد ہم اپنے ساتھ بیٹھے سیاحوں سے باتیں کرنے لگے۔ لوگوں نے جوش میں گانے بھی گائے۔

مشترکہ غسل

یہاں آنے والوں کا خیال ہے کہ اکٹھے غسل کرنے سے دوستوں اور رشتہ داروں کے درمیان امتیازی خیالات مٹ جاتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے کھل کر بات کرتے ہیں۔

اس خیال کو ہداکا نو تسوکیانی (ننگی دوستی) کہا جاتا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ ایک ساتھ غسل سے سب لوگ ایک برابر ہو جاتے ہیں۔

جاپان

،تصویر کا ذریعہlily crossley-baxter

تین مختلف تالاب

تاکاماگہارا میں مردوں اور خواتین کے غسل کے لیے دو مختلف تالاب ہیں جنھیں بانس کی چھتوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ ساتھ میں ایک تیسرا مکمل طور پر کھلا تالاب بھی ہے جہاں مرد اور خواتین ایک ساتھ غسل کرتے ہیں۔

جاپان میں انیسویں صدی تک مردوں اور خواتین کا ایک ساتھ غسل کرنا عام بات تھی لیکن اب چند قدیمی گاؤں میں ہی گرم تالابوں میں ایسی روایات باقی ہے۔

جب ہم وہاں پہنچے تو تیسرے یعنی مشترکہ غسل والے تالاب میں دو بزرگ مرد پہلے سے موجود تھے۔

ایک شخص نے بتایا کہ وہ آٹھ دن کا سفر طے کر کے تاگاماگہارا غسل کے لیے پہنچا ہے کیوںکہ اسے کھلے آسمان کے نیچے غسل کرنا اچھا لگتا ہے۔

جاپان

،تصویر کا ذریعہlily crossley-baxter

اس سفر کے دوران میرا ساتھی اپنے دوستوں کے ساتھ غسل کے لیے چلا گیا اور میں خواتین کے تالاب میں غسل کے لیے چلی گئی۔

تالاب کے ارد گرد پتھر لگے ہوئے تھے اور کپڑے بدلنے کے لیے ایک سٹال بنا ہوا تھا۔

میں بالکل تنہا تھی۔ دوسری جانب غسل کرنے والوں سے درمیان میں پردہ تھا لیکن دور دراز پیڑ اور پہاڑ صاف نظر آ رہے تھے۔

میں تالاب کے پانی میں داخل ہو گئی۔ پیدل چڑھائی کرنے کی ساری تھکن منٹوں میں دور ہو گئی۔

سفر کے آغاز سے پہلے میں نے سوچا تھا کہ قدرت کے ساتھ ہونے کا مطلب ہے کہ آپ تنہا ہوں۔ میں نے کبھی مشترکہ غسل کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ لیکن جاپانی روایات کا ساتھ غسل کا جو مقصد ہے کیا میں وہ پورا کر رہی ہوں؟ یہ سوچ کر میں اس تالاب سے نکلی اور تیسرے تالاب میں داخل ہو گئی۔