شام میں ترکی کی فوجی کارروائی: متعدد یورپی ممالک نے ترکی کو اسلحہ کی برآمدات معطل کر دیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
متعدد یورپی ممالک نے شمالی شام میں فوجی مداخلت کے بعد ترکی کو اسلحہ کی برآمدات معطل کر دی ہیں۔
ترکی کو اسلحہ فروخت کرنے والے بڑے سپلائرز روایتی طور پر امریکہ اور یورپ ہیں لیکن حال ہی میں ترکی نے دفاعی میزائل نظام کی خریداری کے لیے روس سے بھی رابطہ کیا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ کن ممالک نے ترکی کو اسلحے کی فروخت پر پابندیاں عائد کی ہیں اور اب ترکی کو ہتھیار خریدنے کے لیے کیا کرنا ہو گا؟
یہ بھی پڑھیے
پابندی کن کن ممالک نے عائد کی ہے؟
نو یورپی ممالک نے ترکی کو اسلحے کی فروخت پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیک ریپبلک، فِن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدر لینڈ، سپین، سویڈن، برطانیہ اور کینڈا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ترکی کے لیے اسلحہ برآمدی لائسنس کی منظوریوں کو بند کر رہے ہیں یا اس پر پابندی عائد کر رہے ہیں۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ترکی کو اسلحے کی فروخت جاری رکھے گا مگر اسلحہ برآمد کرنے کے نئے لائسنس جاری نہیں کیے جائیں گے کیونکہ نیا خریدا جانے والا اسلحہ شام میں جاری فوجی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔
جرمنی اور سپین نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کا اطلاق صرف نئے معاہدوں پر ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی یونین نے وسیع پیمانے پر اسلحے کی باضابطہ پابندی کی توثیق نہیں کی ہے، اگرچہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اس بات پر متفق تھے کہ وہ 'ترکی کو اسلحہ برآمد کرنے کی پالیسی کے حوالے سے سخت موقف اپنائیں گے۔'
دفاعی تجزیہ کار ایوان سٹیفانیا ایسٹیفیو کا کہنا ہے کہ اسلحے کی فروخت پر لگنے والی پابندیوں کا انقرہ کے جاری فوجی آپریشن پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بات شام میں استعمال ہونے والے اسلحے پر پابندیوں سے آگے نکلی تو اس کا ترکی کی دفاعی انڈسٹری پر منفی اثر ہو سکتا ہے۔
ترکی کو اسلحہ فروخت کرنے والے بڑے ممالک کون سے ہیں؟
سنہ 1991 سے سنہ 2017 تک ترکی ہتھیار درآمد کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک تھا۔
اپنی دفاعی اور سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترکی نیٹو میں موجود اپنے اتحادیوں جیسا کہ امریکہ اور یورپ پر انحصار کرتا ہے۔
امریکہ ترکی کو اسلحہ برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور ترکی نے سنہ 2014 سے سنہ 2018 کے درمیان برآمد کیے گئے تمام اسلحے کا 60 فیصد امریکہ سے خریدا تھا۔
ترکی کو اسلحہ فراہم کرنے والے بڑے یورپی سپلائیرز میں فرانس، سپین اور برطانیہ شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی اور نوے کی دہائی میں ترکی کی فوجی حکومتوں کے ادوار میں امریکہ سے اسلحے کی خریداری ریکارڈ سطح تک بلند ہوئی۔
ان ادوار میں لڑاکا طیارے، میزائلز، ہیلی کاپٹرز، ٹینکس، بحری جہاز اور اسی نوعیت کا دوسرا اسلحہ خریدا گیا جو آج بھی ترک فوج کے زیر استعمال ہے۔
تاہم حال ہی میں 2.5 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی میزائل سسٹم کی خریداری کے لیے ترکی نے روس کا رخ کیا ہے اور اس فیصلے کے باعث ترکی کے نیٹو میں موجود اتحادی خدشات کا شکار ہوئے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ ترکی کا نیٹو مخالف ملک (روس) سے ایس 400 سسٹم کا حصول نیٹو کی سلامتی کو بہت نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ ترکی کا فوجی سسٹم اور بارڈر ڈیفنس سسٹم نیٹو کے مرکزی نطام سے منسلک ہیں۔
ترکی کے اس اقدام کا جواب امریکہ نے اسے ایف 35 سٹیلتھ جنگی طیاروں کی فروخت روک کر دیا۔ ایف 35 دنیا کے سب سے جدید جنگی جہاز ہیں۔
جیوسٹرٹیجک اہمیت کے باعث امریکہ اور نیٹو کے بہت سے فوجی اڈے ترکی میں موجود ہیں۔ مشرقی ترکی میں میزائل ڈیفنس ریڈار سسٹم اور نیٹو کمانڈ آپریشنز بھی ہیں۔
جنوبی ترکی کے شہر عدانا میں ایک ایئربیس پر 50 کے قریب جوہری بم بھی موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کی اپنی ہتھیاروں کی صنعت
اسلحے کی خریداری میں بیرونی ممالک پر دارومدار کم کرنے کی غرض سے ترکی نے گذشتہ ایک دہائی میں اپنی ہتھیاروں کی صنعت کو جدید بنیادوں پر استوار کیا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ ترکی اپنی فوجی ضرورت کا 70 فیصد تک اسلحہ خود تیار کرتا ہے جبکہ ترکی میں بنے اسلحے کو دیگر ممالک کو برآمد بھی کرتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار ایوان سٹیفانیا ایسٹیفیو کہتی ہیں کہ 'ترکی کی دفاعی صنعت قومی فوجی ضروریات کو کس حد تک پورا کر رہی ہے اس کا قطعی طور پر اندازہ لگانا آسان نہیں ہے۔'
انھوں نے کہا کہ جن ہتھیاروں کو ترکی اپنی دفاعی صنعت کی پراڈکٹ ظاہر کرتا ہے درحقیقت وہ لائسنس کے ذریعے حاصل ہونے والے یا برآمدی اسلحے کے زمرے میں آتا ہے۔
سنہ 2014 سے سنہ 2018 کے درمیان ترکی کی آرمز ایکسپورٹس میں 170 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سنہ 2018 تک ترکی دنیا کا 14واں بڑا برآمد کنندہ تھا اور اس کے ہتھیاروں کے خریداروں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکمانستان شامل ہیں۔












