بریگزٹ: برطانوی پارلیمان نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کی منظوری دے دی

یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے معاملے پر مہینوں سے جاری ڈیڈ لاک کے بعد برطانوی دارالعوام نے ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کے بل کو منظور کر لیا ہے۔
12 دسمبر کو ہونے والے قبل از وقت انتخابات کے بل کے حق میں 438 جبکہ مخالفت میں 20 ووٹ پڑے۔ اس بل کی منظوری کے بعد برطانیہ میں سنہ 1923 کے بعد پہلی مرتبہ دسمبر میں قبل از وقت انتخابات کا انعقاد ہو گا۔
دارالعوام سے منظوری کے بعد یہ بل اب ہاؤس آف لارڈز (دارالعمرا) کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا اور امید ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام تک یہ بل دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد قانون بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
ہاؤس آف لارڈز سے اس بل کے منظور ہونے کا مطلب یہ ہو گا کہ سیاسی جماعتوں کو پولنگ کے دن سے قبل الیکشن مہم چلانے کے لیے صرف پانچ ہفتے میسر ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ 'عوام کو بریگزٹ اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے موقع دیا جانا چاہیے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ قبل از وقت عام انتخابات میں برطانوی عوام انھیں نیا مینڈیٹ دیں گے تاکہ وہ اپنی مجوزہ بریگزٹ ڈیل مکمل اور ملک میں موجود پارلیمانی ڈیڈ لاک کو ختم کر سکیں۔
انھوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ کنزوٹیو پارٹی کے وہ 21 اراکین پارلیمان جنھیں انھوں نے بریگزٹ کے معاملے پر فیصلوں کی مخالفت کرنے پر پارٹی سے بیدخل کیا تھا ان میں سے دس اراکین کو واپس پارٹی میں شامل کر لیا گیا ہے۔
لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کاربن کا کہنا ہے کہ 'یہ (قبل از وقت) انتخابات ہمارے ملک کو تبدیل کرنے اور ذاتی مفادات کے حامل لوگوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ایک بڑا موقع فراہم کریں گے۔'
انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت ان انتخابات کے ذریعے حقیقی تبدیلی کو ممکن بنانے کے لیے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی مہم شروع کرے گی۔
تاہم لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے چند ممبران پارلیمان ان انتخابات کی ٹائمنگ پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بریگزٹ کے مسئلے پر ایک اور ریفرنڈم ہی اس معاملے کو سلجھا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز پر برطانوی پارلیمان میں یورپی یونین سے انخلا میں توسیع کے حق میں قرارداد کی منظوری کے بعد وزیرِ اعظم بورس جانسن نے بریگزٹ میں تاخیر کے لیے یورپی یونین کو تحریری طور پر درخواست بھیجی تھی۔
تاہم وزیر اعظم کی جانب سے لکھی گئی اس درخواست پر ان کے دستخط نہیں تھے۔
اس درخواست کے بعد بورس جانسن نے یورپی یونین کو ایک اور خط بھی لکھا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے خیال میں بریگزٹ میں تاخیر ایک غلطی ہو گی۔
دو ہفتے قبل بریگزٹ میں تاخیر کی قرارداد دارالعوام کے آزاد رکن سر اولیور لیٹون نے پیش کی تھی اور پارلیمان کے 322 ارکان نے اس کی حمایت جبکہ 306 نے مخالفت کی تھی۔
قانون کے تحت دارالعوام سے قرارداد کی منظوری کے بعد وزیرِ اعظم یورپی یونین کو بریگزٹ کی 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے درخواست کرنے کے پابند تھے۔
یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے بعدازاں ایک ٹویٹ کے ذریعے برطانوی وزیرِ اعظم کی جانب سے تحریری درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے اس حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اب وہ یورپی یونین کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے کہ 'اس پر کیا ردِعمل دیا جائے۔'
وزیر اعظم کی جانب سے بھیجے گئے خط میں یورپی یونین کے رہنماؤں کو کہا گیا تھا کہ وہ ممبران پارلیمان کو اپنا فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا کہیں اور وقت ضائع کرنے کے بجائے اس ڈیل پر ووٹ کرنے کا کہیں جو پہلے ہی برطانیہ اور یورپی یونین میں طے پا چکی ہے۔
اس سے قبل وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ یورپی یونین کو بریگزٹ کی 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کرنے کے بجائے کھائی میں گر کر مرنا پسند کریں گے۔











