لائیو, ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکی کردار ادا کرنے کو تیار ہے: اردوغان کی ٹرمپ کو پیشکش
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ترکی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
خلاصہ
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکی کردار ادا کرنے کو تیار ہے: اردوغان کی ٹرمپ کو پیشکش
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع ہیں، لیکن ابھی کوئی مفاہمت نہیں ہوئی: جیرڈ کشنر
ترک وزیرِ خارجہ کی آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایرانی وزیرِ خارجہ سے مشاورت
پاکستان نے انڈین وزیرِ داخلہ کا 'آئی ایس آئی کا حمایت یافتہ نیٹ ورک' تباہ کرنے کا دعویٰ مسترد کر دیا
عدالتی کمیشن نے زیارت حملے میں 31 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی انکوائری شروع کردی
ایران کے معاملے پر رکاوٹ بننے کی صورت میں عمان پر بمباری کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
لائیو کوریج
آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے جہاز پر حملے کی اطلاع، عملے کا ایک رکن ہلاک: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز
،تصویر کا ذریعہUKMTO
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے ایک جہاز کو نامعلوم نوعیت کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق اس واقعے میں عملے کا ایک رکن ہلاک جبکہ جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمانی کوسٹ گارڈ اس وقت جہاز کے باقی عملے کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی، جبکہ حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کم ہو کر چند ایک رہ گئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ تعداد روزانہ 130 سے زیادہ تھی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکی کردار ادا کرنے کو تیار ہے: اردوغان کی ٹرمپ کو پیشکش
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ترکی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ترک ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ٹیلیفونک گفتگو کے دوران رجب طیب اردوغان نے امن کی کوششوں میں انقرہ کی حمایت اور تعاون کی آمادگی کا اظہار کیا۔
امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔ تاہم فریقین ابھی تک کسی باہمی مفاہمت تک نہیں پہنچ سکے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کشنر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایرانی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان مذاکرات شاید پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں، لیکن دونوں جانب ابھی تک کسی اتفاقِ رائے یا مفاہمت تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع ہیں، لیکن ابھی کوئی مفاہمت نہیں ہوئی: جیرڈ کشنر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔ تاہم فریقین ابھی تک کسی باہمی مفاہمت تک نہیں پہنچ سکے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کشنر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایرانی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان مذاکرات شاید پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں، لیکن دونوں جانب ابھی تک کسی اتفاقِ رائے یا مفاہمت تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
جیرڈ کشنر جو غزہ کے لیے ایک امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر ہیں، نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ طویل مذاکرات کیے ہیں، تاہم بظاہر ان بات چیت میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
اسرائیل پہنچنے سے قبل اُنھوں نے مصر میں حماس کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی تھی۔
ترک وزیرِ خارجہ کی آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایرانی وزیرِ خارجہ سے مشاورت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے پیر کے روز اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
تاہم ترک سفارتی ذرائع نے اس ٹیلی فونک گفتگو کی مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔
اس سے قبل ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا تھا کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث اپنی پالیسی کو دفاعی سے تبدیل کر کے ’مکمل جارحانہ‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عہدیدار کے مطابق امن مذاکرات اور سٹریٹجک آبنائے ہرمز کے راستے آئل ٹینکروں کی آمدورفت بحال کرنے کی کوششیں عملی طور پر تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔
پاکستان نے انڈین وزیرِ داخلہ کا ’آئی ایس آئی کا حمایت یافتہ نیٹ ورک‘ تباہ کرنے کا دعویٰ مسترد کر دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے انڈیا کے وزیرِ داخلہ کے اُن دعوؤں کو مسترد کیا ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ یومِ آزادی سے قبل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حمایت یافتہ دہشت گروپ شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
پیر کو پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان انڈیا کے وزیرِ داخلہ کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے جن میں پاکستان کو انڈیا میں ہونے والی کچھ گرفتاریوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کا پروپیگنڈا پاکستان کے خلاف انڈیا کی اس مذموم مہم کا ایک اور ثبوت ہے جس کا مقصد اپنی داخلی سکیورٹی کے چیلنجوں سے توجہ ہٹانا اور محض تنگ نظر ملکی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے ملک کے اندر انڈیا ایک جابر ریاست ہے جو اپنی اقلیتوں پر وحشیانہ مظالم ڈھاتی ہے اور اختلافِ رائے کی آواز کو دبا دیتی ہے۔ بیرونی محاذ پر، انڈیا دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور دہشت گردوں کی معاونت کر رہا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیا کی بے بنیاد اور گمراہ کن باتیں بین الاقوامی توجہ کو انڈیا کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور غیر ملکی علاقوں میں تخریبی کارروائیوں سے نہیں ہٹا سکتیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بارہا دہشت گردی اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں انڈیا کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کیے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ انڈیا کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرے اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی پر انڈیا کا احتساب کرے۔
انڈیا وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انڈین سکیورٹی فورسز نے 14 ریاستوں میں مختلف مقامات پر مربوط کارروائیوں کا آغاز کرکے دہشت گردی کے خلاف انڈیا کی زیرو ٹالرنس پالیسی کی ایک شاندار مثال کو برقرار رکھتے ہوئے نیٹ ورک کو توڑ دیا۔
اُنھوں نے الزام لگایا کہ نیٹ ورک کے قبضے سے پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات والے دستی بم، پستول، کارتوس اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے بھی برآمد ہوئے ہیں۔
امریکی افواج نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے باعث 64 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا: امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے اب تک ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران 64 تجارتی جہازوں کا رُخ موڑ دیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق 17 اگست کو امریکی افواج نے تین تجارتی جہازوں کو سفر سے روک جبکہ دو دیگر جہازوں کا معائنہ کیا تاکہ ضابطوں اور پابندیوں کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
حال ہی میں یہ بھی رپورٹ کیا گیا تھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن جلد ہی مشرقِ وسطیٰ میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے گا۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن 250 دن سے زائد عرصے سے مشن پر تعینات ہے اور اس کی طویل مدت کی تعیناتی کے ساتھ بندرگاہوں پر محدود قیام نے بعض قانون سازوں میں عملے کی رہائشی اور فلاحی صورتحال کے بارے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
عدالتی کمیشن نے زیارت حملے میں 31 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی انکوائری شروع کردی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع زیارت میں شدت پسندوں کے حملے میں31 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی انکوائری کمیشن نے کام شروع کردیا ہے۔
عدالتی انکوائری کمیشن کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد عامر رانا کو مقرر کیا گیا ہے۔
کمیشن نے ان تمام افراد کو جو بطور گواہ پیش ہونا چاہتے ہیں یا کوئی دستاویز پیش کرنا چاہتے ہیں کہا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے 28 اگست تک ہائیکورٹ میں واقع کمیشن کے دفتر میں اپنے ناموں کا اندراج کرائیں۔
خیال رہے کہ رواں سال جولائی کے اوائل میں ضلع زیارت میں مانگی کے علاقے مانگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن کے سائٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 9 پولیس اہلکار موقع پر مارے گئے تھے جبکہ باقی اہلکاروں کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا۔
اس واقعے کے خلاف مارے جانے والے اہلکاروں کے لواحقین اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے دس روز تک کوئٹہ میں دھرنا دیا تھا۔ دھرنے کے شرکاء کا ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ واقعے کا عدالتی کمیشن کے زریعے تحقیقات کرائی جائے۔
عدالتی انکوائری کمیشن کے ٹرمز آف ریفرینس کیا ہیں؟
عدالتی انکوائری کمیشن کے مندرجہ ذیل ٹرمز آف ریفرینس کے تحت تحقیقات کرے گی۔
مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا باعث بننے والے حقائق و حالات کی انکوائری کر کے تعین کرنا کہ مذکورہ تنصیب کی سکیورٹی کی ذمہ داری، ان پولیس اہلکاروں کو کس طریقہ کار کے تحت اور کن بنیادوں پر سونپی گئی؟
یہ تعین کرنا کہ آیا سابق لیویز فورس کے اہلکار،محدود اسلحہ و ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ کائونٹر انسرجنسی یا دہشت گردانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے مناسب طور پر تربیت یافتہ تھے یا نہیں، اور ان کو ایسے حساس اور پُرخطر آپریشن کے لیے محدود وسائل کے ساتھ کیوں تعینات کیا گیا تھا؟
اس امر کی تحقیق کرنا کہ آیا مانگی ڈیم پمپنگ سٹیشن پر تعینات پولیس اہلکاروں کو خاطر خواہ اسلحہ، گولہ بارود اور اضافی کمک اور نفری فرا ہم کی گئی تھی یا نہیں؟ اور اگر نہیں کی گئی تھی تو اس کوتاہی کے ذمہ داروں کا تعین کرنا۔
یہ معلوم کرنا کہ آیا تعینات اہلکاروں کو اسلحہ، گولہ بارود اور اضافی نفری سمیت مطلوبہ رسدی معاونت مناسب مقدار میں اور بروقت فراہم کی گئی تھیں یا نہیں؟ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کی کمی اور کوتاہی کے جواز کی معقولیت اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنا۔
ذمہ دار ضلعی انتظامیہ اور دیگر سیکورٹی اداروں /محکموں کے خلاف قانونی کاروائی کی سفارش کرنا، اور اس امر کو یقینی بنانا کہ اگر کوئی شخص قصوروار پایا جائے تو حکومت متعلقہ ذمہ داران کے خلاف تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرے۔
تحقیقاتی کمیشن کو ضابطہ فوجداری اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت تحقیق کرنے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے، جیسا کہ عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کرنا، جائے وقوعہ کا معائنہ، جیو فینسنگ، ملائی گئی ٹیلیفون ، موبائل کالز کی تفصیلی ریکارڈ حاصل کرنا وغیرہ۔
تحقیقاتی کمیشن کی کاروائی، کمیشن کی صوابدید کے مطابق انجام دی جائے گی، اور کمیشن ایسے عام افراد کو، جو واقعہ / حملے کے حقائق سے واقف ہوں، اپنے سامنے پیش ہو کر گواہی / بیان قلم بند کرانے کے لیے طلب یا مدعو کرسکے گا۔
مستقبل میں ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کی روک تھام ،اہم اور حساس تنصیبات کے تحفظ، ہنگامی رد عمل کے طریقہ کار، سیکورٹی آلات اور دیگر متعلقہ اقدامات کو مزید موثر اور مضبوط بنانے کے لیے، اگر ضروری ہو، مناسب سفارشات پیش کرنا۔
مارے جانے والوں کے لواحقین کو یہ مکمل موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ متعلقہ حقائق کے بارے میں تحقیقاتی کمیشن کے روبرو پیش ہو کر اپنا موقف بیان کریں اور گواہی / بیان قلم بند کرائیں۔
واقعہ پیش آنے سے قبل سکیورٹی پلان اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے ریکارڈ کو طلب کر کے اس کا جائزہ لینا، اور یہ تعیین کرنا کہ آیا دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے قریبی علاقوں میں تعینات ہونے کے باوجود مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کو مناسب حفاظتی حصار یا معاونت فراہم کرنے سے قاصر رہے؟
ایران کے معاملے پر رکاوٹ بننے کی صورت میں عمان پر بمباری کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فاکس نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر عمان امریکہ کی انتظامیہ کی ایران کے ساتھ بات چیت میں ’رکاوٹ‘ بنا تو امریکہ اس پر بمباری کرے گا۔
نیٹ ورک کے ایک رپورٹر کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ایک فون کال کے دوران یہ بات کہی۔ اسی گفتگو میں انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ساتھ ایک براہِ راست خفیہ رابطہ موجود ہے۔
بعد ازاں آئی آر جی سی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت میں شامل نہیں ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے پیر کو کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملے پر عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل کے قریب ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) بھی پیر کو ختم ہو رہی ہے۔ یہ یادداشت دونوں ممالک کی جانب سے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید مذاکرات جاری رکھنے کے عزم پر مبنی تھی۔
عمان، جو اس تنازع میں خود کو غیر جانبدار ملک قرار دیتا ہے، جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے متعدد حملوں کا سامنا کر چکا ہے۔ تاہم اب وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات میں کردار ادا کر رہا ہے۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے بڑی حد تک اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر رکھا ہے، جس سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ اس راستے کو دوبارہ کھولنا مذاکرات کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔
واشنگٹن بھی اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ فاکس نیوز کے رپورٹر ٹرے ینگسٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا: ’اگر عمان راستے میں آیا تو ہم اس پر شدید بمباری کریں گے۔‘
اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور آئی آر جی سی کے درمیان خفیہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اس کی تردید کردی۔ آئی آر جی سی ایران میں ایک بڑی فوجی، سیاسی اور معاشی قوت سمجھی جاتی ہے۔
ترجمان نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں کہا ’آئی آر جی سی کے حکام اور امریکیوں کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ محض خیالی باتیں ہیں جو جنگ میں ناکامی اور بے بسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وہم اور ڈراؤنے خوابوں کا نتیجہ ہیں۔‘
ٹرمپ کی یہ دھمکی اُس وقت سامنے آئی جب ایران نے پیر کے روز اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’آمدورفت کے راستے کے نقشے کے بارے میں ایک مفاہمت طے پا گئی ہے۔‘
بریکنگ, ہمارا امریکہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا: پاسدارانِ انقلاب کی تردید
پاسدارانِ انقلاب فورس نے ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کے رابطے کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
سپاہ کے ترجمان حسین محبی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے، جس میں انھوں نے امریکہ اور پاسداران انقلاب فورس کے درمیان خفیہ رابطوں کی میڈیا رپورٹس کی تصدیق کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’ٹرمپ کا یہ دعویٰ جھوٹ ہے اور محض ایسی خیالی باتیں ہیں جو جنگ میں ناکامی اور بے بسی کے باعث پیدا ہونے والے وہم اور ڈراؤنے خوابوں کا نتیجہ ہیں۔‘
بریگیڈیئر محبی نے خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں کہا ’ٹرمپ ان بیانات کے ذریعے دنیا میں تیل اور توانائی کی قیمتوں کو عارضی طور پر قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کے پاس ایک ہی حقیقی راستہ ہے، اور وہ اپنی شکست تسلیم کرنا اور ایران کی مقرر کردہ شرائط کو ماننا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے ’امریکہ اور پاسداران انقلاب کے خفیہ رابطے‘ کی تصدیق کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی میڈیا میں امریکہ اور پاسداران انقلاب کے درمیان خفیہ رابطوں کی خبروں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے رابطے ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
امریکی صدر نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سپاہِ پاسداران کے بارے میں کہا: ’وہ اچھے پوکر کھلاڑی ہیں، لیکن کمزور پڑ رہے ہیں۔‘
اس سے پہلے امریکی خبر رساں ویب سائٹ اکسیوس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے سے تقریباً ایک ماہ پہلے، عراق کے کردستان ریجن کے صدر نچیروان بارزانی کی ثالثی میں امریکہ نے سپاہِ پاسداران سے رابطہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ آیا پاسدارانِ انقلاب فورس اور اس کی قیادت، محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی کی سربراہی میں مذاکرات کرنے والے ایرانی وفد کی حمایت کر رہی ہے یا نہیں۔ امریکہ یہ بھی معلوم کرنا چاہتا تھا کہ مذاکرات کے حوالے سے سپاہِ پاسداران کی کوئی الگ رائے یا مطالبات تو نہیں ہیں۔
اکسیوس کے مطابق نچیروان بارزانی کی کوششوں سے آخرکار سپاہ کا ایک عہدیدار ایک خفیہ مواصلاتی نظام والے فون کے ساتھ اربیل میں بارزانی کے دفتر پہنچا۔ بعد ازاں کردستان ریجن کے صدر نے اسی فون کے ذریعے سپاہ کے کمانڈر احمد وحیدی سے بات کی۔
رپورٹ کے مطابق احمد وحیدی نے اس گفتگو میں کہا کہ وہ ایرانی مذاکرات کاروں کی ’مکمل‘ حمایت کرتے ہیں۔
اکسیوس نے تین ذرائع، جن میں ایک وائٹ ہاؤس کا عہدیدار بھی شامل تھا، کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ احمد وحیدی سے بات چیت کے بعد نچیروان بارزانی نے ان کے خیالات امریکی حکام تک پہنچائے۔ تاہم اکسیوس نے اپنے ذرائع کے نام ظاہر نہیں کیے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن یہ بھی چاہتا تھا کہ بارزانی اربیل میں امریکی اعلیٰ حکام اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان خفیہ ملاقات کا انتظام کریں، لیکن ایرانی فریق کے سکیورٹی خدشات کے باعث یہ ملاقات کبھی نہ ہو سکی۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’ایران اور امریکہ کے درمیان اربیل میں خفیہ ملاقات کی خبر مکمل طور پر من گھڑت ہے۔‘
ڈی آر کانگو میں ایبولا وائرس ملکی تاریخ کی مہلک ترین وبا بن گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عوامی صحت کے حکام کے مطابق جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں ایبولا کی وبا اب ملک کی تاریخ کی سب سے زیادہ جان لیوا وبا بن چکی ہے۔
15 مئی کو وبا کے اعلان کے بعد سے اب تک 2,325 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں، جو 2018 سے 2020 کے درمیان ہونے والی وبا میں ہونے والی اموات کی تعداد سے زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ وبا پہلے ہی ریکارڈ پر موجود تیزی سے پھیلنے والی وبا بن چکی ہے، اور خبردار کیا تھا کہ ’یہ وبا ہر 30 منٹ میں ایک شخص کی جان لے رہی ہے۔‘
اس وقت بنڈی بگیو قسم کے ایبولا وائرس کے خلاف کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں، جس نے موجودہ وبا کو جنم دیا ہے، تاہم کئی ویکسینز تیاری کے مراحل میں ہیں، جن میں ایک ایسی ویکسین بھی شامل ہے جو آسٹرازینیکا کی کووڈ-19 ویکسین کی تیاری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔
ڈی آر کانگو کے ادارۂ صحت عامہ نے اتوار کو بتایا کہ اب تک 4,945 تصدیق شدہ کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے 101 کیسز بھی شامل ہیں۔
ملک سے باہر نسبتاً کم کیسز سامنے آئے ہیں۔ 12 اگست تک پڑوسی ملک یوگنڈا میں 20 کیسز کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ جرمنی میں دو افراد کا علاج کیا گیا اور فرانس میں ایک کیس رپورٹ کیا گیا۔
تاہم عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ڈی آر کانگو میں وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار، جہاں یہ 26 میں سے 6 صوبوں تک پھیل چکا ہے، ’غیر معمولی‘ رہی ہے۔
رؤٹرز کے مطابق مغربی افریقہ میں 2014 سے 2016 کے دوران دنیا کی مہلک ترین ایبولا وبا کو ایک ہزار اموات تک پہنچنے میں تقریباً پانچ ماہ لگے تھے۔ موجودہ وبا صرف تین ماہ میں دو ہزار ہلاکتوں تک پہنچ گئی، اگرچہ محققین کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ یہ وائرس فروری سے ہی بغیر شناخت ہوئے پھیل رہا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہو جائے گا، تاہم اس نے خبردار کیا کہ اس کا مطلب صرف وائرس کی منتقلی کو قابو میں لانا ہے، نہ کہ وبا کا مکمل خاتمہ۔
ایبولا ایک نایاب لیکن مہلک وائرل بیماری ہے، جبکہ بنڈی بگیو قسم اس سے بھی زیادہ نایاب ہے اور اس سے قبل اس کے صرف دو معلوم وبائی پھیلاؤ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ایبولا کی علامات، جو فلو یا ملیریا سے ملتی جلتی ہیں، میں بخار، سر درد اور شدید تھکن شامل ہیں، اور یہ علامات انفیکشن کے دو سے اکیس دن کے اندر اچانک ظاہر ہو سکتی ہیں۔
بیماری کے بڑھنے کے ساتھ قے اور اسہال کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے، جو بالآخر اعضا کے ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ خون یا قے جیسے متاثرہ جسمانی سیالات کے ساتھ رابطے سے وائرس پھیلتا ہے۔
برطانیہ کے ادویات کے نگران ادارے ایم ایچ آر اے نے بنڈی بگیو ایبولا کے خلاف ویکسین کے پہلے انسانی آزمائشی مرحلے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ ویکسین آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم تیار کر رہی ہے اور یہ اسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جو آکسفورڈ-آسٹرازینیکا کووڈ ویکسین کی تیاری میں استعمال کی گئی تھی۔ بنڈی بگیو ایبولا کے خلاف مزید تین مختلف ویکسینیں بھی مختلف اداروں کی جانب سے تیار کی جا رہی ہیں۔
برطانوی وزیراعظم امریکی صدر ٹرمپ کی ’جعلی چیف آف سٹاف‘ سے بات کرتے رہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے ایک ایسے شخص کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کیا جو خود کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چیف آف سٹاف ظاہر کر رہا تھا۔
وزیر اعظم کے دفتر ڈاؤننگ سٹریٹ نے اس سکیورٹی خلاف ورزی پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کی خبر سب سے پہلے پولیٹیکو نے دی تھی۔
پولیٹیکو کے مطابق حکام نے بتایا کہ برنہم نے اس شخص سے رابطہ رکھا جو خود کو سوزی وائلز ظاہر کر رہا تھا، ’اس سے پہلے کہ انھیں شک ہوتا کہ یہ رابطہ حقیقی نہیں ہے‘، اور دعویٰ کیا گیا کہ صرف ’چند پیغامات‘ کا تبادلہ ہوا تھا۔
حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔‘
خیال ہے کہ برنہم اور وائلز کا روپ دھارنے والے شخص کے درمیان رابطہ پیغامات کی صورت میں تھا اور دونوں کے درمیان کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق ’کسی اہم پیغام‘ کا تبادلہ نہیں ہوا تھا اور جیسے ہی ان پیغامات کے مشکوک ہونے کا شبہ ہوا، انھیں ’فوری طور پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کر دیا گیا‘۔
بی بی سی اس سے قبل یہ خبر دے چکا ہے کہ گزشتہ سال مئی میں وائلز کے فون کے ہیک ہونے کے حوالے سے ایف بی آئی تحقیقات کر رہی تھی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس وقت وائلز نے کہا تھا کہ ان کا فون ہیک ہو گیا تھا، جس کے بعد ایک یا ایک سے زیادہ جعل سازوں نے ان کی رابطہ فہرست استعمال کرتے ہوئے دیگر اعلیٰ امریکی حکام کو پیغامات بھیجے تھے۔
یہ جعل سازی ان کے ذاتی فون کو نشانہ بنا کر کی گئی تھی، سرکاری فون کو نہیں، تاہم پیغامات وصول کرنے والوں میں امریکی سینیٹرز، گورنرز اور بڑے کاروباری اداروں کے اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔
ٹرمپ کی قریبی اتحادی وائلز ان افراد میں بھی شامل تھیں جنہیں 2024 میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایک سائبر جاسوسی یونٹ نے نشانہ بنایا تھا۔ پاسدارانِ انقلاب ایران کی مسلح افواج کی ایک طاقتور شاخ ہے۔
وائٹ ہاؤس سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
2024 میں فارن آفس (ایف سی ڈی او) نے تصدیق کی تھی کہ اُس وقت کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون ایک فریب پر مبنی فون کال کا شکار ہوئے تھے، جس میں ایک شخص نے خود کو یوکرین کے سابق صدر پیٹرو پوروشینکو ظاہر کیا تھا۔
لارڈ کیمرون نے اس جعل ساز کے ساتھ کچھ ٹیکسٹ پیغامات کا بھی تبادلہ کیا تھا، جو خود کو پوروشینکو ظاہر کر رہا تھا۔ پوروشینکو 2014 سے 2019 تک یوکرین کے صدر رہے تھے۔
اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں لارڈ کیمرون کے یوکرینی رہنما کے ساتھ متعدد معاملات پر روابط رہے تھے، جن میں بین الاقوامی سربراہی اجلاسوں میں ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔
ایف سی ڈی او نے کہا تھا کہ اس تبادلے کی تفصیلات عوامی طور پر جاری کی گئیں کیونکہ خدشہ تھا کہ انہیں ’توڑ مروڑ کر استعمال‘ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ 2022 میں مزید دو حکومتی وزرا کو بھی ایک جعل ساز نے نشانہ بنایا تھا، جو خود کو 2020 سے 2025 تک یوکرین کے وزیرِ اعظم رہنے والے ڈینِس شمیہال ظاہر کر رہا تھا۔
جب تک پائلٹس کی صورتِ حال واضح نہیں ہوتی، ہم انھیں قیدی سمجھتے ہیں: ایران
ایران کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے تین پائلٹس کی صورتِ حال پر نظررکھے ہوئے ہے، جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز میں لاپتہ ہو گئے تھے، اور جب تک اسے قطر کی جانب سے واضح وضاحت موصول نہیں ہوتی، وہ انھیں ’قیدی‘ تصور کرتا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’جب تک ان کی صورتِ حال واضح نہیں ہو جاتی، یہی فرض کیا جائے گا کہ وہ گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ لہٰذا ہم اپنی تمام دوطرفہ، کثیرالجہتی اور قانونی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے تاکہ ہمارے پائلٹوں کی صورتِ حال واضح ہو سکے۔‘
بقائی نے کہا کہ جب یہ پائلٹ جنگ کے دوران ایک کارروائی میں لاپتہ ہوئے تھے، ایران ان کی صورتِ حال کی خبر رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں ریڈ کراس کے ساتھ بھی خط و کتابت کی گئی تھی۔
ایران کا کہنا ہے کہ دو سخو 24 جنگی طیارے 2 مارچ 2026 کو ایک جنگی مشن کے لیے قطر میں موجود ’دشمن کے فوجی اڈے‘ کی جانب روانہ ہوئے تھے، لیکن واپسی پر فضائی دفاعی نظام نے انھیں نشانہ بنایا۔
چار پائلٹوں میں سے ایک، مجید کاظمی کی شیراز میں تدفین ہوئی۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ باقی تین پائلٹ قطر کی قید میں ہیں، تاہم دوحہ اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز اس وقت کھلے گی جب امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرے گا: پاسداران انقلاب
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی
نائب یداللہ جوانی نے کہا ہے: ’جنگ کا خاتمہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق
ہونا چاہیے اور آبنائے ہرمز اسی وقت کھولی جائے گی جب امریکہ اس مفاہمتی یادداشت
کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔‘
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے سے
وابستہ ینگ جرنلسٹس کلب کو دیے گئے انٹرویو میں یداللہ جوانی نے کہا کہ ’آبنائے
ہرمز اور اس پر نافذ انتظامات کبھی بھی جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائیں
گے۔‘
پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب نے
کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ’کئی ماہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ آبنائے
ہرمز کا کنٹرول ایران کے ہاتھ سے نکال لیں، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔‘
تاہم
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران اور عمان کے درمیان ایک آبی گزر گاہ کے بارے میں جو
بات اس وقت زیرِ بحث ہے، وہ صرف جنگ کے خاتمے اور اس کے حتمی طور پر ختم ہونے کے
بعد کے لیے ہے۔‘
آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں آمد و رفت میں کمی
،تصویر کا ذریعہAli Saeedi/Getty Images
شائع کردہ معلومات کے مطابق، گذشتہ
دنوں آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد اس آبی گزر گاہ کے ذریعے سمندری
آمد و رفت میں سنیچر اور اتوار کے دوران نمایاں کمی آئی ہے۔
یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب تنازع کے
حل کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات معطل ہو چکے ہیں۔
کپلر کمپنی کے اعداد و شمار کے
مطابق، سنیچر کے روز پانچ مال بردار جہاز اس آبنائے سے گزرے، جبکہ اتوار کو کسی
بھی جہاز کی آمد و رفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔
اس کے برعکس، گذشتہ ہفتے سنیچر اور
اتوار کے دوران 31 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔
حوثیوں کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے گئے: یمنی حکومت کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم
شدہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی صوبے الجوف میں حوثیوں کے خلاف توپ خانے سے
حملے کیے گئے ہیں۔
سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی
حکومتی افواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انھوں نے صوبہ
الجوف میں حوثیوں کے ’اجتماعات اور پناہ گاہوں‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
اس سے قبل یمنی افواج نے صوبہ مأرب
میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف متعدد ڈرون حملے کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ ان افواج کا
دعویٰ ہے کہ انھوں نے سنیچر اور اتوار کے دوران کئی صوبوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں
کے خلاف 181 کارروائیاں کیں، جن میں اس گروہ کے درجنوں ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے۔
اقوام
متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن کو 2022 میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے دوبارہ
مکمل جنگ کی طرف لوٹنے کے سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے۔
ٹرمپ کے ایلچی کشنر غزہ امن منصوبے پر حماس سے غیر معمولی مذاکرات کے بعد اسرائیل پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہKevin Dietsch/Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی اسرائیلی وزیرِ اعظم
بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات متوقع ہے۔
یہ پیش رفت کشنر کی جانب سے مصر میں حماس
کے ساتھ ہونے والے غیر معمولی مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں امریکہ کے
حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد پر بات چیت کی گئی۔
گذشتہ ماہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے
کہا تھا کہ وہ غزہ میں حماس اور دیگر گروہوں کے ’مکمل طور پر غیر مسلح ہونے‘ کے
لیے ایک معاہدے تک پہنچ گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیل نے ٹرمپ کے 15
نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا تھا، جس میں اسرائیلی فوج کے انخلا اور ایک نئی
فلسطینی سویلین انتظامیہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ
وہ معاہدے پر عمل درآمد سے قبل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے خواہاں ہیں۔
نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے کہا تھا: ’اسرائیل
غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس کی 15 نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے۔ اسرائیلی دفاعی
افواج اس وقت تک کوئی انخلا نہیں کریں گی جب تک حماس حقیقتاً غیر مسلح نہیں ہو
جاتی۔‘
اتوار کو آٹھ مسلم ممالک نے ایک بیان
جاری کر کے اسرائیل کی جانب سے اس منصوبے کو مسترد کیے جانے کی مذمت کی۔
ٹرمپ بورڈ آف پیس کی قیادت کرتے ہیں،
جو ابتدا میں غزہ میں امن کے قیام کے لیے ایک بین الاقوامی تنظیم کے طور پر تشکیل
دیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تنازعات تک وسیع کر دیا
گیا۔
ایک فلسطینی عہدیدار نے بی بی سی کو
بتایا کہ ٹرمپ کے داماد اور اہلچی جیرڈ کشنر نے اتوار کے روز مصر میں حماس کے نئے رہنما خلیل الحیہ کی
سربراہی میں ایک وفد سے ملاقات کی۔
بعد
ازاں حماس نے ایک بیان میں ثالثوں اور بورڈ آف پیس پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو
اگلے مراحل کے لیے طے شدہ روڈ میپ کی منظوری دینے پر ’مجبور‘ کریں۔
ٹرمپ کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان،
سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کیا
ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ
سوشل پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ تینوں ممالک کی جانب سے مکہ معاہدے پر دستخط سے
انھیں ’بہت خوشی‘ ہوئی۔
ٹرمپ نے کہا: ’یہ اس بات کو ظاہر
کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کس طرح یکجا ہو رہا ہے، اور کس طرح یہ ممالک زیادہ با معنی
انداز میں اپنا دفاع کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔‘
امریکی صدر نے تینوں ممالک کے سربراہان کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھا: ’یہ ایک بڑا، جرأت مندانہ اور اہم پہلا قدم ہے، واہ!‘
اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کیا جائے: حماس
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے
امن وفد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور
کرے۔
یہ امن منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
نے پیش کیا ہے۔
حماس نے یہ بیان اس کے بعد جاری کیا
جب اس کے رہنما خلیل الحیہ نے مصر میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔
جیرڈ کشنر آئندہ چند روز میں مزید
مذاکرات کے لیے اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔
فلسطینی گروپ نے کہا کہ اس نے اس امن
منصوبے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل کیا ہے۔
امریکی امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں
اسرائیلی افواج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں اور ایک نئی غیر
فوجی انتظامیہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو کی جائے۔
تاہم اسرائیل نے گذشتہ ہفتے اس
منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ سب سے پہلے وہ حماس کے مکمل غیر مسلح
ہونے کا خواہاں ہے۔
اسرائیل
کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حال ہی میں غزہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی
منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو
جاتی، اسرائیل کسی صورت غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہTasos Katopodis/Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی
کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے ’بہت اچھے تعلقات‘ کی وجہ سے وہ جنوبی
کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنا چاہتے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل
پر پوسٹ میں ٹرمپ نے ان سالانہ فوجی مشقوں کو مہنگا قرار دیا اور کہا کہ وہ ان سے
مطمئن نہیں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید
کہا کہ انھوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ہدایت دی ہے کہ ان مشقوں کو
محدود کیا جائے۔
امریکی صدر نے اپنے فیصلے کے جواز
میں کہا کہ ان کے دورِ صدارت کے دوران شمالی کوریا نے ’دھمکی آمیز‘ رویہ اختیار
نہیں کیا اور ’احترام‘ والا برتاؤ
کیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں ان کا کہنا تھا:
’اپنے اور شمالی کوریا کے کم جونگ اُن کے درمیان بہت اچھے تعلقات کی بنیاد پر، میں
اس بات سے خوش نہیں ہوں کہ امریکہ نے بہت پہلے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی
مشقوں میں حصہ لینے پر اتفاق کیا تھا۔‘
ٹرمپ نے مزید لکھا کہ انھوں نے حال ہی
میں جنوبی کوریا کے صدر سے پوچھا تھا کہ ’کیا وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک
کرنے کی ہماری کوشش میں شامل ہونا چاہیں گے۔‘
ٹرمپ کے مطابق جنوبی کوریا کا جواب
تھا: ’نہیں، شکریہ!‘
جنوبی کوریا نے ابھی تک ٹرمپ کے تازہ
بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔