معاشیات کا نوبل انعام جیتنے والا جوڑا کون ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
عالمی غربت مٹانے کے لیے تجرباتی تحقیق کرنے پر سال 2019 کے نوبل انعام برائے معاشیات کے لیے انڈین نژاد امریکی پروفیسر ابھیجیت بینرجی، ان کی اہلیہ پروفیسر ایستھر ڈفلو اور پروفیسر مائیکل کریمر کو چنا گیا ہے۔
رائل سویڈش اکادمی برائے سائنس کی جانب سے دیے گئے اعزاز کے حقدار تینوں ماہر معاشیات کے لیے کہا گیا ہے کہ ان کی جانب سے کی گئی تحقیق تجربات پر مبنی تھی جس کی مدد سے عالمی طور پر غربت کو ختم کرنے کے لیے نئی راہ ہموار کی گئی ہے۔
پروفیسر بینرجی اور پروفیسر ڈفلو امریکہ کے میسا چیوسیٹس انسٹٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں تدریس و تحقیق کرتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ انعام جیتنے والے پروفیسر کریمر ہارورڈ یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔
واضح رہے کہ الفریڈ نوبل کے نام سے منسوب نوبل انعام کو معاشیات کے شعبے میں نوازنے کا سلسلہ 50 سال قبل شروع ہوا تھا اور اس کا باضابطہ نام ویریگس رکس بینک انعام ہے۔
اس انعام کو الفریڈ نوبل کی یاد میں سویڈن کے مرکزی بینک کی جانب سے 1969 میں شروع کیا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سال 2019 کے دیگر نوبیل انعام جیتنے والوں کے بارے میں جاننے کے لیے پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہNobel media
نریندر مودی کے ناقد
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پروفیسر ابھیجیت بینرجی کو نوبل انعام جیتنے پر مبارکباد دی ہے لیکن وہ ماضی میں نریندر مودی کے فیصلوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
فروری 2016 میں نئی دہلی کی جواہر لعل یونی ورسٹی (جے این یو) کے حوالے سے ہونے والے تنازع کے بعد پروفیسر ابھیجیت بینرجی نے اپنے کالم میں لکھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو تعلیمی اور تنقیدی سوچ والے اداروں سے دور رہنا چاہیے۔
اس مضمون میں انھوں نے سنہ 1983 میں جے این یو میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کے بارے میں ذکر کیا جب انھیں اس یونی ورسٹی میں دوران تعلیم مظاہرے کرنے کی وجہ سے دس دن کے لیے جیل میں قید کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس کے علاوہ بھی وہ وقتاً فوقتاً انڈین حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور انڈیا کی جانب سے 'ڈی مونیٹائزیشن' کی پالیسی پر اپنے تحفظات کی اظہار کیا اور وہ ان 108 معاشی ماہرین کی فہرست میں شامل تھے جنھوں نے انڈین حکومت کی جانب سے مجموعی ملکی پیداوار کے اعداد و شمار میں ہیر پھیر کرنے کا الزام عائد کیا۔
انڈین نژاد امریکی پروفیسر ابھیجیت بینرجی کے والدین بھی انڈیا کے معروف ماہر معاشیات رہے ہیں۔
ایک ساتھ نوبل انعام جیتنے والا چوتھا جوڑا
پروفیسر بینرجی کے ساتھ انعام جیتنے والی 46 سالہ پروفیسر ایستھر ڈفلو ان کی اہلیہ ہیں جو نہ صرف معاشیات کا نوبل انعام جیتنے والی دوسری خاتون ہیں بلکہ یہ اعزاز حاصل کرنے والوں میں سب سے کم عمر بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انعام کا اعلان ہونے کے بعد انھوں نے کہا کہ 'عورتیں بھی کامیاب ہو سکتی ہیں اور امید ہے کہ یہ انعام کئی خواتین کو جذبہ دے گا کہ وہ محنت کریں اور مرد عورتوں کو وہ عزت و تکریم دیں جس کی وہ مستحق ہیں۔'
پروفیسر بینرجی اور پروفیسر ڈفلو سے قبل چار جوڑوں کو ایک ساتھ نوبل پرائز سے نوازا گیا ہے جس میں سنہ 1903 میں پیئر کیوری اور میری کیوری، سنہ 1935 میں فریڈریک جولیوٹ اور آئیرین جولیوٹ، سنہ 1947 میں کارل فرڈینانڈ اور گیرٹی تھریسا کوری اور سنہ 2014 میں ایڈورڈ موزر اور مے برٹ موزر شامل ہیں۔








