سعودی عرب کے ساحل کے قریب ’ایرانی آئل ٹینکر میں دھماکہ‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کے ساحل کے نزدیک ایران کے تیل بردار بحری جہاز میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی ہے۔
ایران کی قومی تیل کمپنی این او آئی سی کا یہ ٹینکر اطلاعات کے مطابق جدہ کی بندرگاہ سے 60 میل کے فاصلے پر موجود تھا جب یہ واقعہ پیش آیا۔
این او آئی سی کا دعویٰ ہے کہ ٹینکر پر میزائل سے حملہ کیا گیا تاہم ادارے کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
اطلاعات ہیں کہ دھماکے سے ٹینکر کے تیل ذخیرہ کرنے والے دو مرکزی حصے متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بحیرۂ احمر میں تیل کا بھی رساؤ ہوا ہے۔ تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایرانی ذرائع ابلاغ نے کمپنی کے حوالے سے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد ٹینکر میں لگنے والی آگ بجھا دی گئی ہے اور تیل کا رساؤ بھی محدود کر دیا گیا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے اس تیل بردار بحری جہاز کی شناخت ’سنوپا‘ کے طور پر کی ہے۔ بحری جہازوں کے سفر پر نظر رکھنے والی کمپنی ٹینکر ٹریکرز کا کہنا ہے کہ اس ٹینکر کو عالمی پابندیوں کے باوجود شامی حکومت کو تیل فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب کی سمندری حدود کے قریب ایرانی ٹینکر میں دھماکے کا واقعہ ایسے حالات میں پیش آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
گذشتہ ماہ سعودی عرب میں بقیق اور خریص کے مقامات پر تیل کی تنصیبات کو ڈرونز اور کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کا الزام سعودی عرب نے ایران پر عائد کیا تھا۔
اس سے قبل امریکی حکام نے مئی اور پھر جون اور جولائی کے مہینوں میں خلیج فارس میں چھ آئل ٹینکرز پر حملوں کی ذمہ داری بھی ایران پر ہی ڈالی تھی۔
تاہم ایران ان تمام الزامات سے انکار کرتا رہا ہے۔












