امریکی درخواست مسترد، ضبط ایرانی آئل ٹینکر جبرالٹر سے روانہ ہو گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
چار جولائی کو جبرالٹر میں حراست میں لیے جانے والے ایران کے تیل بردار جہاز کو چھوڑ دیا گیا ہے جس کے بعد وہ جبرالٹر کی بندرگاہ سے روانہ ہو گیا ہے۔
میرین ٹریکنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا تیل بردار جہاز بحیرہ روم میں مشرق کی جانب گامزن ہے لیکن اس کی منزل معلوم نہیں۔
تیل لے کر جانے والے گریس-1 نامی سپر ٹینکر کو جولائی میں شام کو غیر قانونی طور پر تیل پہنچانے کے شبے میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔
جبرالٹر کی جانب سے ایرنی آئل ٹینکر کو اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دینے کے بعد جمعے کے روز امریکہ نے ’گریس ون‘ کو ضبط کرنے کی درخواست کی تھی جس کو مسترد کر دیا گیا۔
جبرالٹر نے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کی ایرانی آئل ٹینکر کو ضبط کرنے کر درخواست پر عمل پیرا نہیں ہو سکتا کیونکہ کیونکہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا اطلاق یورپی یونین میں نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
تہران نے کہا ہے کہ وہ اپنے جہاز، جس کا نام گریس ون سے تبدیل کر کے ایڈریان ڈاریا رکھ دیا گیا، کے لیے نیوی کا حفاظتی دستہ بھیجنے کے لیے تیار تھا۔
اس جہاز کو اس کے 29 رکنی عملے سمیت چار جولائی کو جبرالٹر میں برطانیہ کے رائل میرینز کی مدد سے تحویل میں لے لیا گیا تھا۔
اس اقدام سے برطانیہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدگی اختیار کر گئے اور گزشتہ ہفتوں میں ایران نے برطانیہ کے پرچم والے ایک ٹینکر سٹینا امپیرو کو آبنائے ہرمز میں پکڑ لیا تھا۔
ایرانی حکام کی جانب سے آئل ٹینکر کو شام نہ بھیجنے کی یقین دہانی کے بعد جبرالٹر کے حکام نے جمعرات کے روز ایرانی بحری جہاز کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محمکہ انصاف نے اس حکم نامے کے بعد جہاز کو ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسدران انقلاب سے روابط کی بنیاد پر ضبط کرنے کی درخواست کی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
اتوار کے روز جبرالٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین پاسدران انقلاب کو کسی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نہیں دیکھتا لہذا امریکی درخواست پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران سے تیل کی برآمد کو روکنے والی امریکی پابندیوں کا اطلاق یورپی یونین نہیں پر نہیں ہوتا، جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ ’امریکہ اور یورپی یونین میں بہت مختلف پوزیشنز اور قانونی حکومتیں ہیں۔‘
تاہم ابھی تک واشنگٹن سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے جبکہ 19 جولائی کو پاسدران انقلاب کی جانب سے تحویل میں لیا جانے والا جہاز سٹینا امپیرو ابھی بھی ایران کے پاس ہے۔










