مائیک پومپیو: خلیج میں امریکی فوجی دستے دفاعی مقاصد کے لیے ہیں۔

مائیک پومپیو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی خلیج میں مزید فوجی دستوں کی تعیناتی کا مقصد محاذ آرائی سے بچنا اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے یہ بات اتوار کو امریکی ٹی وی فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہی۔

مائیک پومپیو کی جانب سے یہ بات ایرانی صدر حسن روحانی کے اس بیان کے بعد کہی گئی ہے جس میں انھوں نے متنبہ کیا تھا کہ غیر ملکی افواج خلیج کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

ایرانی صدر کا یہ بیان جمعے کو امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے خطے میں مزید فوجی تعینات کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا تھا۔

ایرانی صدر نے کہا تھا کہ غیر ملکی افواج خطے میں ہمیشہ ’درد اور مصیبت‘ لائی ہیں اور انھیں ’اسلحے کی دوڑ‘ میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اتوار کو دیے گئے اپنے بیان میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا کہ وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ جنگ سے باز رکھنے جیسے اقدامات بھی اگر ناکام ہوتے ہیں تو پھر امریکی صدر مزید اقدامات اٹھائیں گے، جس کا ایرانی قیادت کو خوب پتا ہے۔

مائیک پومپیو نے یہ بھی وضاحت دی کہ 'ہمارا مقصد جنگ سے بچنا ہے۔' امریکی وزیر دفاع مارک اسپر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی دستوں کی خلیج میں تعیناتی کا مقصد ’جنگ سے باز رکھنا اور دفاع کو یقینی‘ بنانا ہے۔

صدر روحانی نے یہ بھی کہا کہ ایران آنے والے دنوں میں خلیج میں امن کے لیے نیا منصوبہ اقوامِ متحدہ میں پیش کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ان کا یہ بیان ایران اور عراق کے درمیان سنہ 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والے جنگ کی سالگرہ کے موقع پر سامنے آیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی تیل کی دو بڑی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جن میں آرامکو کمپنی کے بڑے آئل پروسیسنگ پلانٹ ابقیق اور مغربی آئل فیلڈ خریص شامل ہیں۔

امریکہ اور سعودی عرب نے ان حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کی ہے جبکہ ایران نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر امریکہ نے سعودی عرب میں اپنی مزید افواج تعینات کا فیصلہ کیا ہے۔

حسن روحانی

،تصویر کا ذریعہEPA

صدر روحانی نے کیا کہا؟

صدر روحانی نے ٹی وی پر کی جانے والی تقریر میں کہا ’غیر ملکی افواج ہماری عوام اور ہمارے خطے کے لیے مسائل اور عدم تحفظ کا باعث بن سکتی ہیں۔‘

انھوں نے ماضی میں ایسی افواج کی تعیناتی کو ’تباہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے سے ’دور رہیں‘

ایرانی صدر کے مطابق ’اگر وہ مخلص ہیں تو انھیں ہمارے خطے کو اسلحے کی دوڑ کا مقام نہیں بنانا چاہیے۔ آپ ہمارے خطے اور اقوام سے جتنا دور رہیں گے، یہ اتنے ہی زیادہ محفوظ ہوں گے۔‘

ایران کا امن منصوبہ کیا ہے؟

حسن روحانی نے کہا کہ ان کا امن منصوبہ منگل کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم انھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔

انھوں نے صرف اتنا کہا کہ آبنائے ہرمز میں امن ’مختلف ممالک کے ساتھ تعاون میں‘ حاصل ہو سکتا ہے۔

روحانی نے کہا ’ ایران اپنے علاقائی ہمسایہ ممالک کی ماضی کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اس حساس اور اہم تاریخی لمحے میں ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے کا ہاتھ بڑھانے کا اعلان کرتے ہیں۔‘

اس سے قبل یمن کے حوثی باغیوں نے بھی ایک امن منصوبہ پیش کیا جس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب پر تمام حملوں کا خاتمہ کریں گے بشرطیکہ سلطنت اور اس کے حلیفوں نے بھی ایسا ہی کیا۔

یہ پیشکش حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں سے نشانہ بنانے کے ایک ہفتے بعد کی گئی۔

یمن میں اقوام متحدہ کے خصوص ی ایلچی مارٹن گریفھیس نے ایک بیان میں کہا کہ’اس موقع سے فائدہ اٹھانا اور تشدد ، فوجی اضافے اور غیر اعلانیہ بیانات کو کم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کے ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہے۔‘

امریکی افواج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی افواج کی تعیناتی کیا ہے؟

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کی درخواست کے جواب میں ہزاروں فوجیوں کے بجائے کم تعداد میں تعیناتی ہو گی اور فضائی اور میزائل دفاع پر توجہ دی جائے گی۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ’ہم فوجی سازو سامان کی فراہمی کو تیز کرنے کے لیے بھی کام کریں گے۔‘

امریکی اعلان کے بعد ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی نے اپنے ملک پر حملے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے کسی بھی حملے کا نتیجہ حملہ آور کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔

جنرل حسین سلامی کا یہ بیان گذشتہ ہفتے سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے تناظر میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں فوجی بھیجنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا تھا۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب

،تصویر کا ذریعہAFP

تیل حملوں کے پیچھے کیا ہے؟

حوثی باغیوں نے بار بار کہا ہے کہ سعودی عرب کی دو بڑی تیل تنصیبات جن میں آرامکو کمپنی کے بڑے آئل پروسیسنگ پلانٹ ابقیق اور مغربی آئل فیلڈ خریص شامل ہیں پر ہونے والے حملوں میں ان کا ہاتھ ہے، سعودی عرب نے بار بار ایران کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور تہران نے بار بار کسی بھی طرح کی مداخلت کی تردید کی ہے۔

سعودی عرب میں ابقیق اور خریص کی آئل فیلڈز کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہوئی تھی۔

ان حملوں کے بعد سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تیل تنصیبات پر حملے کا مناسب اور 'ضروری اقدامات' کے ساتھ جواب دے گا۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ریاض میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ایران کو تیل تنصیبات پر حملے میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تنصیبات پر ایرانی ہتھیاروں سے حملے کیے گئے تھے اور وہ تحقیقات کے مکمل نتائج جاری کریں گے۔

تہران نے اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کی ہے۔