تھیوڈور ہال: وہ امریکی سائنسدان جس نے سوویت یونین کو جوہری راز دیے

،تصویر کا ذریعہLos Alamos National Laboratory Handout
29 اگست 1949 کو سوویت یونین ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے والا دوسرا ملک اس وقت بنا جب اس نے اپنا پہلا ’آر ڈی ایس ون‘ نامی پلوٹونیم ایٹم بم تیار کیا۔
روس نے 1949 میں کامیاب ایٹمی دھماکہ کر کے مغربی طاقتوں کو حیران کر دیا کیونکہ سی آئی اے کے اندازوں کے مطابق سوویت یونین کےلیے سنہ 1953 سے پہلے جوہری ہتھیاروں کا حصول ممکن نہیں تھا۔
سب سے حیرانی کی بات یہ تھی کہ روس کو جوہری طاقت بنانے میں ایک امریکی سائنسدان تھیوڈر ہال کا بھی حصہ تھا جو ایٹمی اسلحے سے متعلق حفیہ معلومات سوویت یونین کو فراہم کرتے رہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تھیوڈور ہال کے علاوہ بھی امریکی سائنسدانوں نے ایٹمی راز سوویت یونین کے حوالے کیے۔
اصل سوال یہ ہے کہ نیویارک میں پیدا ہونے والا اور ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ جوہری سائنسدان سوویت یونین کا جاسوس کیسے بنا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ سوویت یونین کا پہلا ایٹمی تجربہ اس ایٹم بم سے مشابہت رکھتا تھا جو امریکہ نے نو اگست 1945 میں جاپانی شہر ناگاساکی پر استعمال کیا تھا۔
امریکی ایٹم بم کا ڈیزائن خفیہ ’مینہٹن پراجیکٹ‘ سے سوویت یونین کے حوالے کیا جا چکا تھا۔ مینہٹن پراجیکٹ جوہری اسلحے کے اس پروگرام کا خفیہ نام تھا جو امریکہ نے برطانیہ اور کینیڈا کی شراکت میں بنایا تھا۔
انتہائی خفیہ
جوہری اسلحے کے پروگرام کی راز داری بہت اہم تھی۔ پورے ملک میں شاید چند درجن لوگوں کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ مینہٹن پراجیکٹ میں کیا ہو رہا ہے۔ ان چند درجن لوگوں میں تھیوڈور ہال بھی تھے جنہیں معلوم تھا کہ مینہٹن پراجیکٹ میں کیا کام ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تھیوڈور ہال 20 اکتوبر 1925 میں نیویارک کی ایک کاروباری شخصیت کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کی ماں گھویلو خاتون تھیں اور یہ وہ وقت تھا جسے تاریخ میں گریٹ ڈیپریشن کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس وقت عام امریکی شہریوں کی زندگیاں مشکلات سے بھرپور تھیں۔
لیکن بدترین ملکی حالات تھیوڈور ہال کو ریاضی اور فزکس کی اعلی تعلیم کے حصول سے نہ روک سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سولہ برس کی عمر میں تھیوڈور ہال کو ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا جہاں سے انھوں نے سنہ 1944 میں گریجویشن کی۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں شاندار کارکردگی کی وجہ سے امریکی اہلکاروں کی نظر تھیوڈور ہال پر پڑی جو اپنے جوہری پروگرام کے لیے ذہین لوگوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔
امریکی اہلکاروں نے تھیوڈور ہال کا پہلا انٹرویو لاس الاموس لیباٹری میں کیا۔
کیمونسٹ روم میٹ
تھیوڈور ہال کا انٹرویو کرنے والے امریکی اہلکار کو علم نہیں تھا کہ تھیوڈور ہال کی ایک اور بھرتی ہو چکی ہے۔
تھیوڈور ہال مارکسٹ سٹوڈنٹ یونین کے ممبر تھے اور ہاسٹل میں ان کا روم میٹ سیول ساکس تھا جو ایک روسی تارک وطن کا بیٹا تھا۔
سیول ساکس نیویارک میں پیدا ہوئے لیکن وہ ایک کیمونسٹ تھے۔ یہ سیول ساکس ہی تھے جنھوں نے تھیوڈور ہال کو سوویت یونین کے لیے کام کرنے پر مائل کیا اور جوہری اسلحے سے متعلق تمام خفیہ معلومات سیول ساکس کے ذریعے ہی سوویت یونین کے پاس پہنچیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نوجوان جوہری سائنسدان تھیوڈور ہال نے جو پہلا ایٹمی راز لاس الاموس کی لیباٹری سے سوویت یونین کے حوالے کیا وہ پلوٹونیم ایٹم بم کے بارے میں تازہ معلومات تھیں جو اس نے اپنے دوست سیول ساکس کے ذریعے سوویت یونین کے حوالے کیں۔
تھیوڈر ہال نے اپنی موت سے دو سال پہلے سنہ 1997 میں نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے ایک تحریری بیان میں کہا کہ انھیں ڈر تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں پر اجارہ داری قائم ہو جائے گی اور سوویت یونین کے پاس بھی ایٹمی ہتھیار دنیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
سب سے کم عمر جوہری سائنسدان
اس وقت سوویت یونین امریکہ کا ایک اتحادی تھا۔ تھیوڈور ہال نے کہا ’سوویت یونین نے دلیری کے ساتھ نازی ہٹلر کا مقابلہ کیا اور اس کے لیے بہت جانی نقصان اٹھایا اور شاید سوویت یونین نے مغربی اتحادیوں کو نازی جرمنی کے ہاتھوں شکست سے بچایا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوویت یونین میں لوگ تھیوڈور ہال کو ’دی ینگسٹر‘ کے طور پر پکارتے تھے جنھیں وہ پلوٹونیم بم کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کر رہا تھا۔
امریکہ نے جاپان کے شہر ناگاساکی پر جو ایٹم بم گرایا وہ پلوٹوٹینم تھا جبکہ ہیروشیما پر گرایا جانے والا بم یورینیم تھا۔
خفیہ پیغامات
دوسری جنگ عظیم میں امریکہ اور سوویت یونین کا دشمن ایک تھا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ دونوں ملک ایک دوسری کی جاسوسی نہیں کر رہے تھے۔
درحقیقت امریکہ نے سنہ 1943 میں سوویت یونین کی جوابی جاسوسی کا وینونا نامی پراجیکٹ شروع کر رکھا تھا۔
دسمبر 1946 میں امریکہ کے کوڈ بریکر سوویت یونین کی وزارت داخلہ کی خفیہ مواصلات کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس سے امریکہ کو معلوم ہوا کہ اس کے خفیہ مینہٹن پراجیکٹ میں بھی سوویت جاسوس موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNSA
تھیوڈور ہال سنہ 1950 میں شکاگو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے جب ان کی شناخت ماسکو کے مددگار کے طور پر ہوئی اور ایف بی آئی کے ایجنٹ ان تک پہنچ گئے۔
اس سے ایک سال پہلے مینہٹن پراجیکٹ میں کام کرنے والے ایک جرمن سائنسدان کلوز فوکس کو گرفتار کیا جا چکا تھا جس نے تسلیم کر لیا تھا کہ اس نے امریکی جوہری راز دشمن کے حوالے کیے ہیں۔ البتہ ایف بی آئی تھیوڈور ہال اور ان کے دوست سیول ساکس سے اعتراف جرم کرانے میں ناکام رہی۔
برطانیہ کا سفر
کسی اور جاسوس نے تھیوڈور ہال کا نام نہیں لیا اور نہ ہی خفیہ نگرانی سے کوئی اشارہ ملا کہ تھیوڈور سوویت یونین کو خفیہ راز فراہم کررہے ہیں۔ مینہٹن پراجیکٹ کے بعد تھیوڈور ہال بہت حد تک غیر متحرک تھے۔
امریکی اہلکاروں کے پاس ماسکو جانے والے تار موجود تھے جنھیں شہادت کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا لیکن امریکی حکام عدالت میں یہ نہیں بتانا چاہتے تھے کہ انھوں نے سوویت یونین کے خفیہ پیغاموں کو پڑھنے کی مہارت حاصل کر لی ہے۔ اور اسی وجہ سے تھیوڈور ہال بچ گئے۔
لیکن تھیوڈور ہال اور ان کی بیگم کو اپنی حفاظت کے خدشات لاحق تھے۔ تھیوڈور ہال نے نیویارک کے ایک ہسپتال میں ایک ریسرچر کی نوکری چھوڑ کر برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں ملازمت کی پیشکش کو منظور کر لی اور اپنی بیوی کے ساتھ برطانیہ منتقل ہو گئے۔

تھیوڈور ہال سنہ 1984 میں ریٹائر ہو کر ایک پرسکون ریٹائرمنٹ زندگی گذارنے کی کوشش میں تھے جب ان کے ماضی نے انھیں آن لیا۔ سنہ 1996 میں غیر مخفی کی جانے والی دستاویزات میں ان کے سوویت یونین کے ساتھ رابطوں کا انکشاف ہوا لیکن اس وقت سیول ساکس سمیت تمام گواہان اس دنیا سے جا چکے تھے۔
بے نقاب
تھیوڈور ہال نے نیویارک ٹائمز کے رپورٹر کو بتایا: ’یہ الزام لگایا گیا ہے کہ میں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا تھا۔ اگر تاریخ کا رخ نہ مڑتا تو شاید پچھلے پچاس برسوں میں ایٹمی جنگ ہو چکی ہوتی۔ مثال کے طور پر چین پر سنہ 1949 یا 1950 کے اوئل میں ایٹم بم گرایا جا چکا ہوتا۔‘
تھیوڈور ہال نے کہا: ’اگر میں نے یہ سب کچھ ہونے سے روکنے میں کوئی مدد کی ہے تو میں یہ الزام قبول کرتا ہوں۔‘
74 برس پہلے ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹمی حملوں کے بعد سے جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں ہوا ہے اور تھیوڈور اس یقین کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئے کہ ایٹمی اسلحہ کے عدم استعمال میں ان کا بھی ہاتھ تھا۔
یہ تحریر آج کے دن کی مناسبت سے دوبارہ شائع کی گئی ہے۔











