امریکہ، آسٹریلیا اور یورپی ممالک کا درجنوں روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ میں ایک سابق روسی جاسوس کو زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کے بعد امریکہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے روس کے سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ ان ممالک میں سب سے زیادہ روسی سفارت کار ملک بدر کرنے والا امریکہ ہے جس نے 60 سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے حکم دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق 20 سے زیادہ ممالک برطانیہ کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے 100 سے زیادہ روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کر رہے ہیں۔
اسے تاریخی اعتبار سے سرد جنگ کے بعد روسی سفارت کاروں کی سب سے بڑی ملک بدری قرار دیا جا رہا ہے۔
آسٹریلیا بھی روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ وزیرِ اعظم میلکم ٹرن بل نے کہا کہ یہ ’شرمناک حملہ ہم سب پر حملہ ہے۔‘
جرمنی اور فرانس نے بھی پیر کو چار روسی سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔
جن 60 سفارت کاروں کو امریکہ نے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے ان میں سے 48 واشنگٹن میں روسی سفارت خانے کے سفارت کار ہیں جبکہ باقی نیو یارک میں اقوام متحدہ میں تعینات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یورپی یونین کے رہنما گذشتہ ہفتے اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ برطانیہ میں سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی کو زہر دینے میں روس ملوث ہے۔
تاہم روس اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکہ نے روس کے سیئیٹل میں قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل روس اور برطانیہ بھی ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو ملک بدر کر چکے ہیں۔
برطانیہ نے سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کا الزام روس پر لگاتے ہوئے اس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
جس کے بعد روس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 23 برطانوی سفارت کاروں کو بھی ملک سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
اس کے علاوہ البانیہ نے دو روسی سفیروں کو، ہنگری، ناروے، میسیڈونیا اور سپین نے ایک، ایک روسی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’چار مارچ کو روس نے سیلیسبری میں انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی کو مارنے کی کوشش کی۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے اتحادی برطانیہ پر حملے سے کئی جانوں کو خطرے میں ڈالا گیا اور نتیجتاً ایک پولیس اہلکار سمیت تین افراد بری طرح زخمی ہوئے۔‘
انھوں نے اس حملے کو ’کیمیکل ویپنز کنوینشن اور بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے ’13 سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ برطانوی شراکتداروں اور براہ اوقیانوس اتحادیوں کے ساتھ یکجہتی اور یورپی ممالک کے ساتھ تعاون میں لیا گیا ہے۔‘
اس سے قبل پیر کو کئی یورپی ممالک جن میں لیٹویا، لیتھوانیا، ایسٹونیا اور پولینڈ نے روسی سفیروں کو اپنے اپنے دفتر خارجہ میں طلب کیا۔








