روسی ایجنٹ کو زہر: برطانیہ کا 23 روسی سفارت کار نکالنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے برطانیہ کے شہر سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے پر روس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانیہ نے یہ قدم اس وقت اٹھایا ہے جب روس نے برطانیہ کو اس زہر کے حوالے سے وضاحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتہ دیا گیا ہے اور یہ سفارتکار وہ انٹیلیجنس آفیسر ہیں جن کی شناخت مخفی رکھی گئی۔
ٹریزا مے نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی منسوخ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اعلان کیا گیا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔
روس نے سیلیسبری میں روس کے سابق انٹیلیجنس افسر 66 سالہ سرگئی اور ان کی 33 سالہ بیٹی یولیا کو زہر دینے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
دیگر اقدامات
- 23 سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت
- نجی پروازوں، کسٹمز اور کارگو کی مزید سخت نگرانی
- روسی ریاستی اثاثے منجمد کیے جائیں گے جن کے حوالے سے شواہد ہیں کہ برطانیہ کے لیے خطرہ ہیں
- وزرا اور شاہی خاندان روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کریں گے
- روس کے ساتھ اعلیٰ سطح کے باہمی روابط معطل
یاد رہے کہ روس کو برطانیہ کی جانب سے ایک سابق ڈبل ایجنٹ (دو دشمن فریقوں کے لیے ایک ہی وقت میں کام کرنے والا جاسوس) پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملے کی وضاحت کے لیے منگل کی شب تک کا وقت دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں سابق ایجنٹ کو دیا گیا جنگی نوعیت کا اعصاب شکن مواد روس میں بنا ہے جبکہ امریکہ نے بھی اس واقعے میں روس کے ملوث ہونے کی تائید کی ہے اور نیٹو سے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔
برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ 'عین ممکن' ہے کہ انگلینڈ میں سابق روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو روس میں تیار کردہ فوجی گریڈ کے اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیائی مواد دیا گیا ہو۔

روسی رد عمل
روسی وزیر خارجہ کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت واپس لینے کے حوالے سے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے ’مے نے لاوروو کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت واپس لے لی ہے۔ لیکن انھوں (لاوروو) نے یہ دعوت قبول ہی نہیں کی تھی۔‘
روس نے برطانوی اقدام کی مذمت کی ہے۔ لندن میں واقع روسی سفارتخانے نے ایک بیان میں برطانیہ کے اعلان کو جارحانہ، ناقابل قبول، بلا جواز قرار دیا ہے۔
’دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی ذمہ داری برطانوی رہنماؤں پر ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 'عین ممکن' ہے کہ سیلسبری کے علاقے میں چار مارچ کو روس کے سابق ایجنٹ اور ان کی بیٹی یولیا کو اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیائی ایجنٹ دینے کا ذمہ دار روس ہے۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ امریکہ اپنے برطانوی اتحادی کی تائید کرتا ہے کہ سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی کو مارنے کے لیے اعصاب شکن مواد استعمال کرنے میں ممکنہ طور پر روس ملوث ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حملہ انتہائی شرمناک ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA/ Yulia Skripal/Facebook
ریٹائرڈ ملٹری انٹیلیجنس آفیسر سرگئی اور ان کی 33 سالہ بیٹی کو سیلسبری کے سٹی سینٹر میں ایک بینچ پر نڈھال حالت میں پایا گیا۔ دونوں کی حالت نازک ہے۔
ان دونوں کی دیکھ بھال کرنے والے سارجنٹ نک بیلی بھی بیمار ہو گئے ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں۔








