ایران: امریکہ جوہری معاہدے میں واپس بھی آجائے تب بھی ٹرمپ س ملاقات نہیں ہو گی

حسن روحانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ وہ کسی سے بھی ملاقات کے لیے تیار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ایران کو فائدہ ہو گا

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے میں واپس بھی آ جائے تب بھی ایران اور امریکی صدور کے مابین ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ وہ اگلے چند ہفتوں میں ایران کے صدر حسن روحانی سے صحیح وقت پر ملنا چاہیں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ 'میں نے فرانس کے دورے کے دوران کہا تھا کہ ایرانی صدر حسن روحانی اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ملاقات کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔'

ایران کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے معاہدے میں جس سے امریکہ نے پچھلے سال علحیدگی اختیار کر لی تھی، واپس بھی آ جائے تب بھی ہم امریکہ سےدوطرفہ بات چیت نہیں کریں گے۔

جواد ظریف نے کہا 'امریکہ اور فرانسیسی اہلکاروں کے مابین اس سلسلے میں جو بھی بات چیت ہوئی ہو وہ ان کے مابین ہے۔ اس دورے کے دوران میں نے کہا تھا کہ ان کی امریکی اہلکاروں سے کوئی ملاقات نہیں ہو گی۔ ‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اگلے چند ہفتوں میں ایران کے صدر حسن روحانی سے صحیح وقت پر ملنا چاہیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اتوار کو فرانس میں جی سیون سرہراہی اجلاس کے موقع پر فرانس کا ایک مختصر اور غیر اعلانیہ دورہ کیا تھا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے بارے میں مزید جانیے

ڈونلڈ ٹرمپ اور حسن روحانی

،تصویر کا ذریعہAFP

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدگی کا شکار ہیں جب گذشتہ برس امریکہ نے یکطرفہ طور پر سنہ 2015 میں ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

تاہم صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ وہ ایران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے کے لیے پر امید ہیں۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’ایران ڈھائی سال پہلے والا ملک نہیں ہے جب میں اقتدار میں آیا تھا۔‘

امریکی صدر نے کہا ’مجھے سچ میں یقین ہے کہ ایران ایک عظیم قوم ہو سکتی ہے لیکن ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے‘۔

اس سے قبل پیر کو ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ وہ کسی سے بھی ملاقات کے لیے تیار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ایران کو فائدہ ہو گا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا ’اگر مجھے یقین ہو کہ اجلاس میں شرکت کرنے یا کسی سے ملاقات کرنا میرے ملک کی ترقی اور لوگوں کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہو گا، تو میں ایسا کرنے سے نہیں ہچکچاؤں گا۔‘

جی سیون اجلاس

،تصویر کا ذریعہJAVAD ZARIF

پانچ دوسرے ممالک بشمول فرانس اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہوئے تاہم معاہدے سے دستبرداری کے اعلان اور اس کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائی گئی نئی معاشی پابندیوں کے بعد ایران نے جوابی اقدام کے طور پر جوہری سرگرمیاں پھر سے شروع کر دی تھیں۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں کا جو کشیدگی کو کم کرنے اور جوہری معاہدے کو مکمل ختم ہونے سے بچانے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں، کہنا ہے کہ انھوں نے ممکنہ حل پر ایرانی عہدیداروں سے بات چیت کے بعد جواد ظریف کو دعوت دینے کے اپنے منصوبے سے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ٹرمپ اور روحانی کے درمیان ’آئندہ چند ہفتوں میں‘ ’ملاقات کے لیے شرائط‘ قائم ہو گئی ہیں۔

ایمانوئل میکخواں نے کہا ’ابھی کچھ طے شدہ نہیں ہے اور معاملات بھی کمزور ہیں لیکن تکنیکی امور پر بات چیت کے لیے کچھ حقیقی پیش رفت شروع ہوئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے روحانی سے کہا تھا ’اگر وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی ملاقات کو قبول کرتے ہیں تو میرے خیال میں کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔‘