کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس: ’پاکستان اور انڈیا اپنے معاملات باہمی سطح پر حل کریں‘

نیو یارک
    • مصنف, سلیم رضوی
    • عہدہ, بی بی سی، نیویارک

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر تنازعے کی گونج قریب پانچ دھائیوں کے بعد ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کی گلیوں میں سنائی دی جب سنہ 1965 کے بعد پہلی مرتبہ جمعے کو سلامتی کونسل کا اجلاس اس متنازع علاقے پر ہوا۔

سلامتی کونسل کے 15 اراکین نے بند کمرے کے اجلاس کے دوران کشمیر کے مسئلے پر بحث کی۔

کہا جا رہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اراکین نے مسئلے کے پُرامن حل پر زور دیتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کو اپنے مسائل باہمی طور پر حل کرنے کی تلقین کی۔

اس اجلاس پر دنیا بھر کی نظر لگی ہوئی تھی۔ آخر دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرات بھی منڈلا رہے ہیں۔

دنیا بھر کے مختلف خبر رساں اداروں کے صحافیوں کی فوج سلامتی کونسل کے باہر اسی سلسلے میں کسی بھی خبر کے بارے میں بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔

جب 90 منٹ کا اجلاس ختم ہوا تو کمرے سے باہر سب سے پہلے چین کے مستقل مندوب صحافیوں سے مخاطب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

جیسے کہ امید کی جا رہی تھی، چین نے پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کونسل کے ارکان کی مشترکہ رائے یہ تھی کہ کشمیر کے معاملے میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ اقدامات نہیں لینے چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر میں حالات نہایت سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ، فرانس اور روس نے اجلاس کے دوران انڈیا اور پاکستان کے درمیان باہمی سطح پر معاملات حل کرنے کی تلقین کی۔

نیو یارک

کچھ سفارتی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کے لیے شملہ معاہدے پر بھی سب کا زور دیکھا گیا۔

پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی جو سلامتی کونسل کی رکن نہ ہونے کے سبب اجلاس کا حصہ نہیں تھیں لیکن اس اجلاس کی کارروائی سننے کے لیے موجود تھیں۔

ملیحہ لودھی نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا 'مقبوضہ کشمیر کے سلسلے میں سلامتی کونسل میں اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اب انڈیا کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی آواز عالمی سطح پر سنی گئی۔

ملیحہ لودھی نے بعد میں یہ بھی کہا ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس پاکستان کا پہلا سفارتی قدم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جدوجہد جاری رہے گی۔

انڈیا کے مستقل مندوب سعید اکبرالدین نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کا کشمیر کے معاملے میں آرٹیکل 370 کے بارے میں لیا گیا قدم انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے اور جو بھی مسائل ہیں وہ شملہ معاہدے کے تحت ہی حل کیے جائیں۔

نیو یارک

اس موقعے پر انڈین مندوب سے کچھ صحافیوں نے سخت سوالات کیے، جیسے انڈیا پاکستان سے بات چیت کیوں نہیں کرتا اور انڈیا کا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں کیا کہنا ہے۔

اس پر انڈین مندوب نے کئی سوالوں کے صحافیوں کے ساتھ تکرار کرتے ہوئے جوابات دینے کی کوشش کی۔

ان کا اصرار تھا کہ اب کشمیر میں حالات بتدریج معمول پر آتے جا رہے ہیں اور ان کے بقول سلامتی کونسل نے بھی اجلاس میں اس سلسلے میں اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

جب یہ اجلاس جاری تھا تو اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر قریب 60 سے 70 لوگ کشمیریوں کے حق اور انڈیا کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔ انھوں نے بینر اور پلے کارڈز تھامے ہوئے تھے جن پر کشمیریوں کے حق میں نعرے لکھے تھے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا تھا۔

کچھ پلے کارڈز پر انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بھی نعرے درج تھے جن میں ان کو کشمیریوں پر مظالم ڈھانے والا شخص لکھا گیا تھا۔

اسی درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی فون پر بات چیت کی بھی خبریں آنے لگیں۔ بعد میں پتہ لگا کہ صدر ٹرمپ نے عمران خان کو انڈیا سے معاملات باہمی طور پر حل کرنے کی تلقین کی۔

سلامتی کونسل کے اس اجلاس کا فی الحال تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور ابھی واضح ہے کہ کرفیو اور پابندیوں میں رہنے والے کشمیریوں کے لیے زمینی حقائق تبدیل ہونے کے کوئی آثار نہیں لگتے ہیں۔