اسرائیل سے ماضی کے تمام معاہدے ختم: فلسطینی صدر محمود عباس

،تصویر کا ذریعہEPA
فلسطینی گھروں کو مسمار کرنے کی اسرائیلی کارروائی کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ ماضی میں ہوئے تمام معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فلسطینی صدر نے یہ اعلان ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کیا جو اسرائیل کی طرف سے بیت المقدس میں باڑ کے قریب واقع فلسطینی شہریوں کے گھروں کو مسمار کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے بلایا گیا تھا۔
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان گذشتہ 25 برس میں سکیورٹی سمیت بہت سے شعبوں میں معاہدے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کی طرف سے اب تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمود عباس نے کہا کہ اس ضمن میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے کے طریقۂ کار پر غور کرے گی۔
وادی الحمس میں کئی رہائشی عمارتوں کو اسرائیلی فوج کی طرف سے مسمار کیے جانے کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ دنوں ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل کی سکیورٹی کے نام پر بنائی گئی باڑ کے قریب واقع ان رہائشی عمارتوں کے بارے میں اسرائیل کی ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ یہ اس کے مغربی کنارے کے بہت قریب قائم کی گئی تھیں۔
اسرائیلی فوج ان گھروں کو جو اسرائیل کی طرف سے کھڑی کی گئی دیوار کے قریب واقع ہیں خطرہ تصور کرتی ہے۔
ان گھروں کو مسمار کیے جانے کی بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی گئی تھی۔
فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق محمود عباس نے کہا 'اس امر کی روشنی میں کہ قابض اتھارٹی تمام معاہدوں اور ان کی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ لہذا میں قیادت کے اس فیصلے کا اعلان کرتا ہوں کہ ہم اسرائیل کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کی پاسداری کرنا بند کر دیں۔'
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق فلسطین کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاہدے پر بھی ہو گا جو سنہ 1993 کے اوسلو معاہدہ کا ایک اہم جز تھا اور جس کی وجہ سے غرب اردن، مشرقی بیت المقدس اور غزا میں فلسطین اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا اور اسے اپنے معاملات خود طے کرنے کا اختیار حاصل ہوا تھا۔
محمود عباس ماضی میں بھی اسرائیل کو ان معاہدوں کو توڑنے کی دھمکی دے چکے ہیں لیکن اس پر کبھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
اسرائیل نے ماضی میں خبردار کیا تھا کہ معاہدے ختم کرنے سے فلسطینی اتھارٹی بھی ختم ہو جائے گی اور فلسطینی کو حاصل اختیارات بھی نہیں رہیں گے۔







