اردن میں زیرِ سمندر فوجی عجائب گھر کا افتتاح

زیرِ سمندر ٹینک

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوجی ساز و سامان کے انیس نمونے سمندر کے اندر بانوے فٹ کی گہرائی میں اتارے گئے ہیں۔

اردن میں ملک کے ایسے پہلے فوجی عجائب گھر کا افتتاح کیا گیا ہے جو زیرِ سمندر ہے۔ یہ اردن کے واحد ساحلی شہر اقابہ کے ساتھ سمندر میں بنایا گیا ہے۔

بدھ کو ہونے والی ایک تقریب میں کئی ٹینکوں، فوجی ٹرکوں اور ایک ہیلی کاپٹر کو سمندر میں اتارا گیا۔

اِس فوجی ساز و سامان کو بحیرہ احمر میں کورل ریف کے ساتھ اِس طرح رکھا گیا ہے کہ جیسے یہ کسی میدانِ جنگ میں ہوں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نمائش سیاحوں کے لیے ایک مختلف طرح تجربہ ہے۔

اقابہ سپیشل اکنامک زون اتھارٹی کے مطابق یہ عجائب گھر کھیل، ماحولیات اور کئی شعبوں کا اشتراک ہے۔

ہیلی کاپٹر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناردن کی شاہی ایئر فورس کی جانب سے عجائب گھر کے لیے ایک ہیلی کاپٹر کا عطیہ دیا گیا۔
زیرِ سمندر بکتر بند گاڑی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناقابہ سپیشل اکنامک زون اتھارٹی کے مطابق فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں سے تمام خطرناک مواد نکال لیا گیا ہے۔
زیرِ سمندر بکتر بند گاڑی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناِس عجائب گھر میں غوطہ خور، سکوبہ ڈائیور اور ایسے سیاح جا سکیں گے جو شیشے کے فرش والی کشتیاں استعمال کرتے ہیں۔
غوطہ خور

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشمالی بحیرہ احمر کے کورل ریف سیاحوں میں کافی مقبول ہیں

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.