برطانوی سفیر سر کِم ڈارک کی لیک ہونے والی ای میلز کی تحقیقات کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہPA Media
واشنگٹن میں برطانوی سفیر کی لیک ہونے والی ای میلز کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے برطانیہ میں خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین ٹام ٹوگن ہاٹ نے کہا ہے کہ ان مرسلوں کا افشا ہونا ’بہت ہی سنگین خلاف ورزی‘ ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
واشنگٹن میں برطانوی سفیر سر کِم ڈارک کی لیک ہونے والی ایم میلز میں ٹرمپ انتظامیہ کو 'ناکارہ'، ’غیر محفوظ‘ اور ’نااہل‘ کہا گیا ہے۔
کنزرویٹو ممبر پارلیمان ٹام ٹوگن ہاٹ نے بی بی سی ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے اس معاملے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن سر کِم کا دفاع بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانوی سفیر کا کام ’امریکہ کے احساسات کی نہیں بلکہ برطانوی شہریوں کے مفادات اور خواہشات کی ترجمانی کرنا ہے‘۔
وائٹ ہاؤس نے ابھی تک ان میموز یا مراسلوں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن یہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان ’خصوصی تعلقات‘ کو آزمائش میں ڈال سکتے ہیں۔
افشا ہونے والی ای میل میں کیا کہا گیا ہے؟
برطانوی سفیر سر کِم ڈارک نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں وائٹ ہاؤس ’ناکارہ‘ اور 'منقسم' ہے۔
لیکن اس کے ساتھ انھوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ امریکی صدر کو مکمل طور پر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی وزارت خارجہ کے مطابق برطانوی اخبار میل آن سنڈے کو لیک ہونے والی ای میلز ’شرارت‘ ہے لیکن انھوں نے اس کی صداقت کو مسترد نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے
ایک پیغام میں سر کِم نے موجودہ وائٹ ہاؤس کے کبھی بھی 'زیادہ اہل ہونے' پر سوال اٹھایا۔
بہر حال سر کِم نے کہا کہ صدر ٹرمپ جون میں برطانیہ کے اپنے سرکاری دورے کے دوران 'چکا چوند‘ میں کھو گئے تھے۔ لیکن سفیر نے متنبہ کیا کہ ان کی انتظامیہ ذاتی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھے گی کیوں کہ ’یہ فی الحال امریکہ پہلے کی سرزمین ہے۔‘
میمو میں کہا گیا ہے کہ بریگزٹ کے بعد جب تجارتی تعلقات میں بہتری کی کوشش ہو گی تو برطانیہ اور امریکہ کے درمیان آب و ہوا میں تبدیلی، میڈیا کی آزادی اور سزائے موت پر اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔
برطانوی سفیر نے کہا کہ صدر کے دماغ میں بات ڈالنے کے لیے آپ کو اپنے نکات کو سہل یہاں تک کہ دو ٹوک انداز میں پیش کرنا ہو گا۔
گذشتہ ماہ ارسال کیے جانے والے پیغام میں سر کم نے ایران سے متعلق امریکی پالیسی کو 'غیر مربوط اور خلفشار کا شکار' قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سر کم نے کہا کہ ٹرمپ کا تہران پر حملے کو دس منٹ پہلے یہ کہہ کر روک دینا کہ اس میں صرف 150 افراد مارے جائیں گے ’سمجھ سے بالاتر ہے۔'
انھوں نے کہا کہ صدر کبھی بھی ’پوری طرح اس کے حق میں نہیں تھے‘ اور وہ امریکہ کے بیرونی جھگڑوں میں شامل نہ ہونے کے اپنی انتخابی مہم کے وعدے کے خلاف نہیں جانا چاہتے تھے۔
’اندرونی رسہ کشی اور انتشار‘
سر کِم نے کہا کہ 'ایران پر امریکی پالیسی کا مستقبل قریب میں کبھی بھی مربوط ہونے کا امکان نہیں ہے کیونکہ 'یہ بہت ہی منقسم انتظامیہ ہے۔'
لیک ہونے والی فائل سنہ 2017 سے حال کے واقعات کے ذکر پر مشتمل ہے جس میں سفیر کے ابتدائی خیالات شامل ہیں کہ میڈیا وائٹ ہاؤس میں جو 'شدید باہمی رسہ کشی اور انتشار' کی بات کہتا ہے وہ 'زیادہ تر درست ہے۔'
اس میں ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روس کے کے ساتھ سازباز کے جو الزامات ہیں ان پر بھی تجزیہ ہے کہ 'بدترین امکانات کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔' تاہم اس کے بعد ہونے والی رابرٹ مولر کی جانچ میں ان الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکا۔
برطانوی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ کسی سفیر سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ وزیروں کو اپنی تعیناتی کے ملک کی سیاست سے متعلق 'ایماندارانہ اور بے لاگ تبصرہ' فراہم کرے۔
انھوں نے کہا 'ان کے خیالات ضروری نہیں کہ وزیروں کے بھی خیالات ہوں یا پھر حکومت کے خیالات ہوں۔ لیکن انھیں صاف گوئی ہی کی تنخواہ دی جاتی ہے۔'
انھوں نے کہا کہ وزرا اور سرکاری ملازمین ان مشوروں کو 'درست انداز سے' دیکھتے ہیں اور سفیروں کی رازداری برقرار رکھی جانی چاہئے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں برطانوی سفارتخانے کے وائٹ ہاؤس سے ' تعلقات مضبوط' ہیں اور ان مراسلوں کے افشا جیسی شرارت کے باجود یہ رشتے قائم رہیں گے۔













