جمال خاشقجی قتل: سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجُبیر نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کر دیا

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ عادل الجُبیر نے کہا کہ اس رپورٹ میں بے بنیاد الزامات اور متضاد باتیں ہیں جن کی وجہ سے یہ قابلِ اعتبار نہیں ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں سعودی حکومت کو براہ راست خاشقجی کے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بھی اس قتل کے مقدمے میں شاملِ تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جمال خاشقجی کو گزشتہ برس اکتوبر میں ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں قتل کردیا گیا تھا۔
اس واقعہ کی سعودی حکام شروع شروع میں تو تردید کی تھی اور کہا تھا کہ انھیں اس کے قتل کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
لیکن بعد میں سعودی حکام نے کہا تھا کہ جمال خاشقجی کو سعودی عرب لانے کی کوشش کی گئی تھی اور میں مزاحمت کے دوران وہ ہلاک ہو گیا تھا۔
بہر حال بالآخر، سعودی حکام نے تسلیم کیا تھا کہ اس کے قتل کا حکام ایک سعودی انٹیلیجینس افسر نے دیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے قابلِ بھروسہ شواہد سامنے آئے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور چند اعلیٰ اہلکار اپنی انفرادی حیثیت میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپیشل رپورٹوئر یا خصوصی تحقیقاتی افسر اگنیس کیلامارڈ کہتی ہیں کہ ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن پر ایک غیر جانبدار بین الاقوامی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی صحافی جمال خاشقجی کو گزشتہ برس اکتوبر میں ترکی کے شہر میں سعودی قونصل خانے میں سعودی ایجنٹوں نے ہلاک کردیا گیا تھا۔
سعودی عرب کے حکام نے بعد میں اصرار کیا تھا کہ یہ ایجنٹ ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہے تھے۔
سعودی بادشاہت اس وقت جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں گیارہ نا معلوم سرکاری اہلکاروں پر خفیہ عدالت میں مقدمہ چلا رہی ہے جن میں سے پانچ کے لیے استغاثہ نے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم اگنیس کیلامارڈ نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ جس انداز سے چلایا جا رہا ہے وہ کسی بھی طور پر بین الاقوامی معیار کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ہے۔ انھوں نے اس مقدمے کی کارروائی کو معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
مزید پڑھیے:
جمال خاشقجی کو کیسے قتل کیا گیا؟
اٹھاون برس کے جمال خاشقجی ایک سعودی شہری تھے لیکن قتل کے وقت وہ عموماً امریکہ میں رہتے تھے۔ لیکن قتل سے کچھ دن پہلے وہ ترکی آئے تھے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابسطہ صحافی تھے اور وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر کڑی تنقید کرتے تھے۔
انھیں آخری مرتبہ ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں 2 اکتوبر کو جاتے دیکھا گیا تھا۔ جہاں وہ اپنی منگیتر خدیجہ چنگیزی سے شادی کرنے کے لیے چند دستاویزات حاصل کرنے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر شالان شالان نے گزشتہ ماہ نومبر میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس قتل کا حکم اُس 'مذاکراتی ٹیم' کے سربراہ نے دیا تھا جو خاشقجی کو خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی ختم کر کے سعودی عرب واپس لانے کے لیے بھیجی گئی تھی۔
سعودی تفتیشی افسران نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جمال خاشقجی کو قونصل خانے میں زبردستی روکا گیا اور پھر کچھ جسمانی زور آزمائی کے بعد انھیں بے ہوش کرنے کے لیے انجیکشن سے ایک طاقتور دوا دی گئی۔
شالان کا کہنا ہے کہ اس انجیکشن سے زیادہ دوا جسم میں داخل ہو گئی، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد جمال خاشقجی کے لاش کے ٹکڑے کردیے گئے اور ان کی لاش کو اس سازش میں ایک مقامی مددگار کے حوالے کردیا گیا۔
سعودی پبلک پراسیکیوٹر شالان نے کہا کہ پانچ سعودی اہلکاروں نے قتل کے جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ نھوں نے مزید کہا کہ (ولی عہد) کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہYasin Ozturk/Anadolu Agency/Getty Images
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
اس برس کے آغاز میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے انگیس کیلامارڈ کا تقرر ایک خصوصی رپورٹوئر کی حیثیت سے کیا تا کہ وہ 'اس قتل کے واقع میں ریاست اور افراد کی ملوث ہونے کی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین کریں۔'
سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے کہا تھا کہ جمال خاشقجی کا قتل چند سرکش عناصر کی کارروائی کا نتیجہ تھا، لیکن اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹوئر کیلامارڈ کی تحقیق کے مطابق، 'یہ ایک ماورائے عدالت قتل تھا جس کی ذمہ داری سعودی عرب کی بادشاہت پر عائد ہوتی ہے۔'
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، 'انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی روح سے ریاست کی ذمہ داری اس حوالے سے نہیں طے جاتی ہے کہ کس اہلکار نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا تھا۔ آیا ایک یا ایک سے زیادہ افراد نے انہیں اغوا کرنے کا حکم دیا اور اغوا کی کارروائی ناکام ہوگئی، اور پھر یہ ایک قتل کا واقعہ بن گیا، یا یہ کہ ایک اہلکار نے اپنے طور پر اپنے حکم سے تجاوز کرتے ہوئے یہ کام کیا۔'
رپورٹ کے مطابق، انگیس کیلامارڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ 'اس واقعہ میں ایسے قابلِ بھروسہ شواہد ملے ہیں جو یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ ولی عہد سمیت سعودی حکام کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے بارے میں مزید تحقیقات ہونی چاہئیے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوامِ متحدہ کی سپیشل رپورٹوئر نے مزید کہا ہے کہ سعودی ولی عہد کو ہدف بنا کر اُن پر پابندیاں عائد ہونی چاہئیے۔ اقوامِ متحدہ کے امریکہ سمیت کچھ ارکان نے سعودی ولی عہد اور چند دیگر سعودی حکام پر پہلے ہی سے پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ پابندیاں ولی عہد اور ان کے ساتھ دیگر افراد کے ان اثاثوں پر عائد ہیں جو بیرون ملک ہیں اور یہ افراد ان اثاثوں کی خرید و فروخت اس وقت تک نہیں کر سکتے ہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ یہ افراد جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث نہیں تھے۔
انگیس کیلامارڈ کہتی ہیں کہ اس وقت جن گیارہ افراد پر سعودی عرب میں جو مقدمہ چل رہا ہے اُس پر کارروائی معطل کردی جائے کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی جُرم تھا جس پر بین الاقوامی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس طرح اس جرم میں ملوث افراد پر مقدمہ ترکی یا امریکہ سمیت کوئی بھی ملک چلا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل جمال خاشقجی قتل کے سلسلے میں فوجداری تحقیقات کے لیے مزید کاروائی کا اجرا کرے تاکہ اس میں ملوث ہر ملزم کے بارے میں بھرپور قسم کے مواد کے ساتھ کیس فائیلیں تیار کی جاسکیں۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی کونسل اس جرم کے احتساب کے لیے ٹرائبیونل جیسے فورمز کی بھی نشاندہی کرے جہاں مقدمے چل سکیں۔
ابھی تک اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر سعودی حکام نے اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔
جمال خاشقجی قتل: کب کیا ہوا؟
2 اکتوبر 2018
جمال خاشقجی استنبول میں سعودی سفارت خانے میں داخل ہوئے۔ ان کی منگیتر باہر انتظار کرتی رہیں لیکن خاشقجی باہر نہیں آئے۔
4 اکتوبر 2018
اپنے پہلے بیان میں سعودی عرب نے کہا کہ خاشقجی سفارت خانے سے نکلنے کے بعد غائب ہوئے اور وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔
6 اکتوبر 2018
واشنگٹن پوسٹ نے، جہاں خاشقجی کام کرتے تھے، رپورٹ کیا کہ ترک انٹیلیجنس کا خیال ہے کہ انھیں سفارت خانے کے اندر سعودی عرب سے آنے والی 15 افراد کے ایک گروہ نے ہلاک کر دیا ہے۔
10 اکتوبر 2018
ترک میڈیا نے ایسی سی سی ٹی وی فٹیج نشر کی جس میں ان کے مطابق اس مبینہ گروہ کو ترکی میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
13 اکتوبر 2018
سعودی عرب نے 'جھوٹے اور بے بنیاد الزامات' کو رد کیا اور کہا کہ انھوں نے خاشقجی کو نہیں مارا۔ بی بی سی کو معلوم ہوا کہ ترکی کے پاس ایسی ایک آڈیو ریکارڈنگ ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ خاشقجی کو سفارت خانے کے اندر قتل کیا گیا۔
15 اکتوبر 2018
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی بادشہ شاہ سلمان سے بات کی جنھوں نے اس قتل کے الزامات کو رد کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس کے ذمہ دار چند 'سرکش ایجنٹ' ہو سکتے ہیں۔
20 اکتوبر 2018
سعودی عرب نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا کہ خاشقجی ہلاک ہو چکے ہیں اور دعویٰ کیا کہ وہ ایک لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔ دنیا نے اس دعوے کو رد کر دیا اور دو اعلیٰ سعودی اہلکاروں کو نوکری سے نکال دیا گیا۔
22 اکتوبر 2018
سعودی عرب نے ان خبروں کو رد کیا کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے اس قتل کا حکم دیا تھا اور اس مرتبہ یہ کہا کہ چند 'سرکش ایجنٹ' اس قتل کے ذمہ دار ہیں۔ ایک فٹیج سامنے آئی جس میں خاشقجی کی طرح نظر آنے والا ایک شخص کو انھیں کے کپڑوں میں سفارتخانے سے نکلتا دیکھا جا سکتا ہے۔
16 نومبر 2018
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ سی آئی اے اس حتمی نتیجے پر پہنچی ہے کہ محمد بن سلمان نے اس قتل کا حکم دیا۔ ٹرمپ نے بعد میں اس کی تردید کی اور کہا کہ سی آئی نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے۔
22 نومبر 2018
جرمنی اور برطانیہ کی طرح فرانس نے بھی اس معاملے میں تمام مشتبہ سعودی افراد پر ملک میں آنے پر پابندی عائد کر دی۔ جرمنی نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت بھی روک دی۔












