کیا مہنگی تعلیم میں خواہش کے مطابق ملتا بھی ہے؟

،تصویر کا ذریعہUOT
کینیڈا بین الاقوامی طالبہ و طالبات کو اپنے ملک میں حصولِ تعلیم کے لیے راغب کرنے میں برطانیہ اور امریکہ کے مدِمقابل ہے۔ لیکن آخر کیا ہوتا ہے جب یہ طالب علم وہاں پہنچ جاتے ہیں؟
جوبن دیپ ساندھو بہت محنتی شخص ہیں۔
ٹیکنیکل انجینیئر بنتے ہوئے انھوں نے فل ٹائم بطور ٹرک ڈرائیور کام کیا تاکہ خود کو اور اپنے بھائی کو انٹاریو میں کالج سے تعلیم دلوا سکیں۔
وہ کہتے ہیں کہ میری سوچ یہ تھی کہ کام کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر بطور بین الاقوامی طالبعلم انھیں غیر قانونی طور پر بہت زیادہ گھنٹے کام کرنے کی وجہ سے واپس ان کے ملک انڈیا بھیجا جا رہا ہے۔
ساندھو کینیڈا میں سٹوڈنٹ ویزہ پر ہیں اور قانون کے مطابق وہ ایک ہفتے میں صرف 20 گھنٹے کام کر سکتے تھے۔ تاہم چند ہفتے ایسے بھی تھے جب انھوں نے 40 گھنٹے سے زیادہ کام کیا۔
ساندھو کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ ان کے والدین ان کی اور ان کے بھائی کی نہ تو اتنی زیادہ فیس ادا کر سکتے تھے اور نہ ہی رہنے کے اخراجات دے سکتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ٹرک چلاتے ہوئے ٹریفک افسر نے انھیں روکا اور لاگ بُک چیک کروانے کو کہا تو انھوں نے وہ لاگ بُک ان کے حوالے کر دی۔

،تصویر کا ذریعہSUBMITTED PHOTO
'میں قانونی طور پر کام کر رہا تھا، ٹیکس ادا کر رہا تھا۔ میں نے سوچا مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔' انھیں 21 مئی کو اپنی ملک بدری کو روکنے کے لیے ایک وکیل کرنا پڑا۔
مگر ساندھو اکیلے نہیں ہیں۔
اس وقت پانچ لاکھ طلبا و طالبات جن کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے ہے کینیڈا میں حصول تعلیم کے لیے مقیم ہیں۔ حال ہی میں وہاں بیرونی ممالک سے آنے والوں کے لیے ٹیوشن فیس میں 32 فیصد جبکہ مقامی طالب علموں کے لیے 14 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔
جب سے ساندھو کو گرفتار کیا گیا ہے تب سے ان کے بہت سے حامی کہتے ہیں کہ باہر سے آنے والوں طالبعلم جو کینیڈا میں کام کرتے ہیں انھیں مزید مدد دینے کی ضرورت ہے۔
یونیورسٹی آف البرٹا میں کینیڈین طلبا کی ایسوسی ایشن کے سربراہ ایڈم براؤن کہتے ہیں کہ 'انھیں (غیر ملکی طالب علموں کو) نوکری حاصل کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘ کئی برسوں تک وفاقی اور مقامی حکومتیں بیرون ملک سے طالب علموں کو کینیڈا لانے کے لیے تگ و دو کرتی رہی ہیں۔
تبدیلی کے لیے مطالبات ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب کینیڈا بین الاقوامی طور پر دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والے مقابلے میں جارحانہ انداز اختیار کیے ہوئے ہے صرف اس لیے کہ زیادہ سے زیادہ طلبا و طالبات وہاں کا رخ کریں۔
کینیڈا نے ان طالبعلموں کے لیے پالیسی نرم کی ہے جو گریجویشن کر چکے ہوں یا انھوں نے مستقل رہائش کے لیے درخواست دے رکھی ہو۔ بیرون ملک سے آنے والے طالبعلموں کے لیے اگلے پانچ سال کے لیے بجٹ میں 148 ملین ڈالر کی رقم حال ہی میں مختص کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیرون ملک سے آنے والے طلبا و طالبات کو بھرتی کرنے والے ڈینی زیرٹسکائے کے مطابق یہ ساری بات ہی نفع یا نقصان کی ہے۔ عالمی طور پر ایسا صرف کینیڈا میں ہی نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ سب پیسے کے بارے میں ہے۔
ڈینی زیرٹسکائے طلبا و طالبات کے داخلے سے متعلق کمپنی ہائر ایج کے شریک بانی ہیں اور انھوں نے بہت سی یونیورسٹیوں کے ساتھ کام کیا ہے تاکہ وہاں بیرون ملک سے آنے والے طلبا و طالبات کی تعداد کو بڑھایا جا سکے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر طالبعلم تنوع دیکھ کر وہاں آ رہے ہیں تو انھیں خوش آمدید! لیکن اصل بات یہ نہیں ہے۔'
اوسطً کینیڈا میں باہر سے آنے والے طالبعلموں کو وہاں کے مکینوں کی نسبت چار گنا زیادہ فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ دیگر ممالک میں بھی لگ بھگ یہی فارمولا لاگو ہوتا ہے۔ سان ڈیاگو میں موجود یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں بیرون ملک سے آنے والے 20 فیصد طالبعلم سالانہ 40327 امریکی ڈالر ادا کرتے ہیں جو کہ ریاست کے مکینوں کے لیے مختص فیس سے تین گنا زیادہ ہے۔
اتنی ہی تعداد میں برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی میں موجود بین الاقوامی طلبا ساڑھے اٹھارہ ہزار پاؤنڈ ادا کرتے ہیں جو کہ ملکی طالبعلموں کی فیس سے دو گنا زیادہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ بہت سی حکومتیں تعلیمی اخراجات پر کٹوتی کر رہی ہیں ایسے میں بیرون ملک سے آنے والے طالبعلم بہت سے اداروں کی آمدن کے لیے بہت اہم ہیں۔
کینیڈا بیرون ملک سے آنے والے طالبعلموں کے لیے چھٹا بڑا ملک ہے۔
ریسرچ گروپ پراجیکٹ اٹلس کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق سال بھر پہلے اس کا نمبر چار تھا جبکہ اب اس کا درجہ کم ہو گیا ہے۔ پہلے پانچ ممالک میں امریکہ، برطانیہ، چین، آسٹریلیا اور فرانس شامل ہیں۔
کینیڈا ہی کیوں؟
ایسا کیا ہے کہ کینیڈا سے باہر موجود ایک طالب علم وہاں پڑھنے کے لیے اتنا پیسہ لگانے کے لیے تیار ہوتا ہے؟
بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے قاضی مریدل کہتے ہیں کہ اس کی وجہ اعلیٰ معیار کی تکنیکی تعلیم دینے کے وعدے کے علاوہ کثیرالجہتی کلچر اور وہاں باہر سے آنے والوں کا خیر مقدم ہے۔ مریدل ٹورنٹو کی یارک یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ کینیڈا میں زیادہ فنڈنگ تحقیق خاص طور پر سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئیرنگ اور ریاضی پر لگتی ہے۔ کینیڈا نے گریجویشن کے بعد ورک پرمٹ کے لیے بھی آسانی پیدا کی ہے اور برطانیہ بھی اس کو اپنانے کے لیے پالیسی پر بات کر رہا ہے تاکہ بین الاقوامی طالبعلموں کو راغب کیا جا سکے۔
لیکن مریدل سمجھتے ہیں کہ کینیڈا میں ویزے کا عمل مزید آسان ہو سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ سکول نے ان کی درخواست مارچ میں قبول کر لی تھی لیکن اگست تک انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کینیڈا جا رہے ہیں یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا طلبا کو وہ ملتا ہے جس کے لیے وہ خرچہ کرتے ہیں؟
منسٹری آف گلوبل افیئرز کے اندازوں کے مطابق سنہ 2014 میں بیرون ملک سے آنے والے طالبعلموں نے کینیڈا کی معیشت میں 11.4 بلین ڈالر کا اضافہ کیا۔ تب سے وہاں بین الاقوامی طالبعلموں کی تعداد تین لاکھ تیس ہزار 170 سے بڑھ کر پانچ لاکھ 72 ہزار 415 تک پہنچ گئی ہے جو کہ 75 فیصد اضافہ ہے۔
دوسری جانب ٹیوشن فیس میں اوسطً 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا بین الاقوامی طالبعلموں کو پہلے کی نسبت اب ادا کی جانے والی زیادہ فیس کا زیادہ فائدہ ہو گا یا نہیں۔
ڈینی زیرٹسکائے کے مطابق ان طالبعلموں کو ملنے والی سہولیات بہتر نہیں ہوئیں۔ اگر کینیڈا واقعی چاہتا ہے کہ وہ مزید طالبعلوں کو اپنی جانب راغب کرے تو اسے اس بارے میں واضح ہونا ہو گا کہ وہ انھیں کیا پیشکش کر رہا ہے۔ اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ جب وہ وہاں پہنچیں تو انھیں کام کرنے کا موقع بھی ملے۔
ان کا یہ بھی خیال ہے کہ سکولوں کو سالانہ ٹیوشن فیس بڑھانے کے بارے میں بھی بہت احتیاط کرنا ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھار سکول 10 فیصد تک فیس بڑھا دیتے ہیں اور یہ طالبعلموں کے خاندانوں کے لیے ایک سخت دھچکا ہوتا ہے۔
مریدل کہتے ہیں کہ کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنا ایک مکمل تجربہ ہوتا ہے اور ان کی نظر میں ان کا یہ تجربہ فائدہ مند تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہر جگہ کے لوگ ہیں۔ بنگلہ دیش میں ایک جیسی سوسائٹی ہے۔۔۔۔ یہاں ہر چیز آپ کے سامنے ہے۔









