جولین اسانج کو امریکہ کے حوالے نہیں کرنا چاہیے: جیریمی کوربن

جولین اسانج

،تصویر کا ذریعہReuters

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت کو جولین اسانج کو امریکہ کے حوالے نہیں کرنا چاہیے، جہاں ان کو کمپیوٹر ہیکنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس سے قبل وِکی لیکس ویب سائٹ کے شریک بانی جولین اسانج کو لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

وکِی لیکس کے شریک بانی کو ایک مختلف الزام میں ایکواڈور کے سفارت خانے سے جمعرات کے روز گرفتار کیا گیا جہاں پر انھوں نے سنہ 2012 سے پناہ لی ہوئی تھی۔

جیریمی کوربن کا کہنا تھا کہ اسانج کو امریکہ کے حوالے نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ’وہ عراق اور افغانستان میں ہونے والے مظالم کو منظر عام پر لے کر آئے۔‘

جولین اسانج پر سات سال قبل جنسی زیادتی کا کیس تھا جو بعد میں واپس لے لیا گیا اور انھیں سویڈن کے حوالے نہیں کیا گیا جس سے بچنے کے لیے انھوں نے ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لی تھی۔

لندن پولیس کے مطابق انھیں کورٹ میں پیش نہ ہونے اور امریکہ کے حوالے کیے جانے کی درخواست پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔

جولین اسانچ کو اب امریکی حکومت کی سب سے بڑی خفیہ دستاویزات منظر عام پر لانے کے مقدمے کا سامنا ہے۔

برطانیہ ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات کہ اسانچ نے امریکہ کے سابق انٹیلیجینس اہلکار چیلسی مینیگ کے ساتھ مل کر کلاسفیڈ ڈیٹا بیس کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی سازش کی اسانچ کی حوالگی کے حوالے سے فیصلہ کرے گا۔

اگر اسانچ کو کمپیوٹر میں مداخلت کرنے کی سازش کرنے کے الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا تو انھیں امریکہ کی جیل میں پانچ سال کی سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔

واضح رہے کہ جولین اسانج کی ویب سائٹس وکی لیکس کی جانب سے بعض خفیہ معلومات شائع کرنے کے سلسلے میں وہ امریکہ کو مطلوب ہیں۔

ان کی وکیل جینیفر رابنسن کا کہنا ہے کہ وہ حوالگی کی درخواست پر مقدمہ لڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن وِکی لیکس کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا کہ ایکواڈور کی طرف سے اسانج کی سیاسی پناہ ختم کرنا اور مزید سیاسی پناہ نہ دینے کا فیصلہ ’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

برطانیہ کے سیکریٹری برائے داخلہ امور ساجد جاوید نے ٹویٹ کی ’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ جولین اسانج پولیس کی تحویل میں ہیں اور برطانیہ میں عدالت کا سامنا کریں گے۔‘

جولین اسانج نے سنہ 2006 میں خفیہ دستاویزات اور تصاویر کے حصول اور ان کی اشاعت کرنے کے لیے وِکی لیکس نامی ویب سائٹ کی بنیاد رکھی۔ ادارہ چار سال بعد اس وقت شہ سرخیوں میں آیا جب عراق میں ایک ہیلی کاپٹر کی مدد سے امریکی فوجیوں کی عام شہریوں کو قتل کرنے کی ویڈیو منظرعام پر آئی۔

سنہ 2010 میں سابق امریکی انٹیلیجنس تـجزیہ کار چیلسی میننگ کو 000 ,700 خفیہ دستاویزات، ویڈیوز اور سفارتی مراسلے وکِی لیکس کو دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

چیلسی کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسا صرف غیر ملکی پالیسی سے متعلق مباحثوں کو فروغ دینے کے لیے کیا مگر امریکی حکام کا کہنا تھا کہ راز افشا کر کے زندگیاں خطرے میں ڈالی گئیں۔

جولین اسانج

،تصویر کا ذریعہRuptly TV

اسانج پر ریپ کرنے کا الزام عائد کیا گیا جسے انھوں نے مسترد کیا اور بعد میں کیس واپس لے لیا گیا۔ سویڈن کے حوالے کیے جانے سے بچنے کے لیے انھوں نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 47 سالہ اسانج سنہ 2012 سے لندن میں واقع اکواڈور کے سفارت خانے میں رہ رہے ہیں۔

لیکن ان پر 2012 میں عدالت میں نہ پیش ہونے کے جرم کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وِکی لیکس ویب سائٹ پر خفیہ امریکی راز شائع کرنے کی وجہ سے ان کو امریکہ ک حوالے کیا جا سکتا ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا تھا کہ ایکواڈور حکومت کی جانب سے پناہ نہ دینے کے فیصلے کے بعد سفیر کی طرف سے انھیں سفارت خانے بلوایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ویسٹ منسٹر کے مجسٹریٹ کی عدالت میں ’جلد از جلد‘ پیش ہونے سے قبل اسانج سنٹرل لندن پولیس سٹیشن کی تحویل میں رہیں گے۔

ایکواڈور کا پیمانہ لبریز

ایکواڈور کے صدر ٹورینو کا کہنا تھا کہ دوسری ریاستوں کے داخلہ امور میں مداخلت کے بعد ملک کے لیے اسانج کا رویہ اپنی حد کو پہنچ چکا تھا۔

صدر ٹورینو کا مزید کہنا تھا ’سب سے تازہ ترین واقعہ جنوری 2019 میں اس وقت پیش آیا جب وکِی لیکس نے ویٹیکن کے دستاویزات لیک کر دیے۔‘

’اس اور دیگر اشاعت کے بعد دنیا کا شک یقین میں بدل گیا کہ اسانج ابھی بھی وکِی لیکس سے منسلک ہیں اور اس وجہ سے دیگر ریاستوں کے داخلہ امور میں مداخلت کرنے میں بھی شریک ہیں۔‘

ان کی جانب سے اسانج پر سفارت خانے کے سکیورٹی کیمروں کو بند کرنے، سکیورٹی فائلوں تک رسائی حاصل کرنے اور محافظوں سے مڈھ بھیڑ کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے۔