ترکی: حکمران جماعت اپنی ’شکست تسلیم نہیں کر رہی‘،سی ایچ پی رہنما کا الزام

اکرام اماموگلو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناتنخابی بورڈ نے نتائج کا اعلان کر دیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ سبقت کس کی ہے: اکرام اماموگلو
    • مصنف, مارک لوون
    • عہدہ, بی بی سی، استنبول

آج کل استنبول ایک ایسا شہر بنا ہوا ہے جہاں ایک سے زیادہ حقیقتیں ایک دوسرے کے متوازی چل رہی ہیں۔

ہر روز اپنی پریس کانفرنسوں میں اور ٹوئٹر پر بھی، حزب اختلاف کی جماعت ’سی ایچ پی‘ سے تعلق رکھنے والے اکرام اماموگلو کہتے ہیں کہ اس شہر کے نئے میئر وہ ہیں۔

گزشتہ آخرِ ہفتہ پر ہونے والے مقامی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق بھی وہ تقریباً 25 ہزار ووٹوں سے جیت چکے ہیں۔

لیکن حکمران جماعت ’اے کے پارٹی‘ نے پورے شہر میں جو پوسٹر اور بینر لگائے ہوئے ہیں، ان میں صدر رجب طیب اردوغان اور میئر کے لیے ان کے امیدوار بنالی یلدرم استنبول کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے دکھائی دیتے کہ انھوں نے بنالی یلدرم کو منتخب کیا ہے۔

یہ بات صرف پوسٹروں تک محدود نہیں بلکہ حکومت نے استنبول کے انتخابی نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کا بھی حکم دے دیا ہے۔

انتخابی پوسٹر ترکی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنشہر بھر میں اے کے پارٹی کے پوسٹروں پر لکھا ہے ’شکریہ استنبول‘

اگرچہ حکمران جماعت زیادہ تر شہروں میں انتخابات جیت گئی ہے لیکن اسے دارالحکومت انقرہ اور ازمیر کے بڑے شہروں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ استنبول کے علاوہ اے کے پی انقرہ میں بھی سی ایچ پی کی فتح پر سوال اٹھا رہی ہے۔

لگتا ہے کہ صدر اردوغان اس بات پر تیار نہیں ہیں کہ استنبول ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ یہ نہ صرف ان کی طاقت کا گڑھ ہے بلکہ ان کا اپنا شہر بھی ہے جس کے وہ خود میئر بھی رہ چکے ہیں۔

مجھ سے بات کرتے ہوئے اکرام اماموگلو کا شہر میں لگے ہوئے پوسٹروں کے بارے میں کہنا تھا کہ ’یہ کوئی درست سیاسی رویہ نہیں ہے۔ اتنخابی بورڈ نے نتائج کا اعلان کر دیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ سبقت کس کی ہے۔‘

اسے ’ترکی کی سیاسی تاریخ پر سب سے بڑا دھبہ‘ قرار دیتے ہوئے اے کے پارٹی کہتی ہے کہ تمام پولنگ سٹیشنوں پر مسترد کیے جانے والے ووٹوں نے انتخابی نتائج کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اکرام اماموگلو کے بقول ’ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔‘

’کل تک، حکومت اور حکمران جماعت دونوں یہ دعوی کر رہے تھے کہ ترکی میں ووٹنگ کا نظام نہایت قابل اعتبار ہے اور وہ اس کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے۔ انتخابات کی رات دس لاکھ افراد پولنگ سٹشینوں پر تعینات تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر وہاں کوئی مشکوک سرگرمی نظر آتی تو یہ لوگ اسے ریکارڈ کر لیتے اور رپورٹ کرتے۔ اس لیے اب میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور وضاحت نہیں ہے کہ (حکومت) اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کی بجائے بہانے بنا رہی ہے۔`

سی ایچ پی ریلی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحزب اختلاف کی جماعت سی ایچ پی نے شہر میں منگل کو فتح کا جلوس بھی نکالا

حکومت کی طرف سے انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے کے بعد اس پر منافقت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے سنہ2014 میں انقرہ کے انتخابات میں حزب اختلاف کو نتائج کو چیلنج کرنے کا حق نہیں دیا تھا۔

اس کے علاوہ سنہ 2017 میں بھی جب صدر اروغان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ترکی کے سیاسی نظام میں تبدیلی کے لیے ریفرنڈم ہوا تھا تو تب بھی الیکشن بورڈ نے کہہ دیا تھا کہ گنتی کے دوران ان بیلٹ پیپرز کو بھی قبول کیا جائے گا جن پر مہر نہیں لگی ہو گی۔‘

اس وقت بھی حزب اخلاف نے خاصا ہنگامہ کیا تھا لیکن حکومت نے ان کے احتجاج کو دبا دیا تھا۔

صدر اردوغان کے 16 سالہ اقتدار کے بعد انقرہ اور کئی دوسرے بڑے شہروں میں ان کی شکست صدر کے لیے ایک بڑا دھچکہ اور ان کے سیاسی سفر میں ایک نیا موڑ ثابت ہو گی۔

یہی سوال میں نے اکرام اماموگلو کے سامنے رکھا اور ان سے پوچھا کہ آیا یہ واقعی اقتدار پر صدر اردوغان کی گرفت کے خاتمے کا نقطۃ آغاز ہے؟

’ہر چیز کو ایک دن ختم ہونا ہوتا ہے۔ جماعتیں، حکومتیں اور خود زندگی بھی۔ مسٹر اردوغان اقتدار میں 17 سال پورے کر چکے ہیں۔ مسائل اپنی جگہ موجود ہیں اور کئی چیزیں ایسی ہی جو ہمیں پسند نہیں ہیں، لیکن یہ سیاسی اعتبار سے کامیابی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ایک دن اس کا خاتمہ ہو گا۔‘

استنبول اور انقرہ میں سی ایچ پی کی کامیابی نے اُس حزب اختلاف میں ایک نئی جان ڈال دی ہے جسے کب کا قریب المرگ اور توڑ پھوڑ کا شکار قرار دیا جا چکا تھا۔

اور اس خیال کو بھی ختم کر دیا ہے کہ مسٹر اروغان ناقابل شکست ہیں۔

میں نے آخر میں پوچھا ’ کیا ترکی کے اگلے صدر اکرام اماموگلو ہوں گے۔؟

دبی دبی ہنسی میں ان کا جواب تھا: ’خدا جانتا ہے۔‘