اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ کو پکڑنے کے لیے امریکہ کا دس لاکھ ڈالر انعام کا اعلان

حمزہ بن لادن

،تصویر کا ذریعہRewards for Justice/State department

،تصویر کا کیپشنیہ معلوم نہیں کہ حمزہ بن لادن اس وقت کہاں ہیں

القائدہ کے سابق لیڈر اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر امریکہ نے 10 لاکھ ڈالر کا انعام مختص کیا ہے۔

امریکہ کے دفتر خارجہ کے مطابق حمزہ بن لادن اسلامی عسکریت پسند گروہ کے ایک اہم رہنما کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

حالیہ سالوں میں انھوں نے اپنے والد کی موت کا بدلہ لینے کے لیے آڈیو اور ویڈیو پیغامات میں اپنے پیروکاروں کو امریکہ اور اس کے حامی مغربی ممالک پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سنہ 2011 میں امریکی سیل ٹیم نے اسامہ بن لادن کو پاکستان میں ہلاک کر دیا تھا۔

اسامہ بن لادن نے 11 ستمبر 2001 میں امریکہ پر ہوئے اُن حملوں کا حکم دیا تھا جن میں تقریباً 3000 لوگ لقمۂ اجل بنے۔

امریکہ نے 30 سالہ حمزہ بن لادن کو دو سال پہلے سرکاری طور پر عالمی دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

حمزہ بن لادن نے محمد عطا کی بیٹی سے شادی کی۔ یہ وہی محمد عطا ہیں جنھوں نے 2001 کے حملوں میں استعمال ہونے والے چار طیاروں میں سے ایک کو ہائی جیک کر کے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیا تھا۔

امریکہ کے دفتر خارجہ کے مطابق ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے حاصل کیے جانے والے خطوط سے ظاہر ہوا کہ وہ اپنے سب سے پسندیدہ بیٹے حمزہ کی تربیت کر رہے تھے تاکہ حمزہ القائدہ کے رہنما کے طور پر ان کی جگہ لے سکیں۔

امریکہ کے سفارتی تحفظ کے نائب سیکرٹری مائیکل ایون آف کا کہنا ہے ’ہمارا ماننا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے بارڈر کے آس پاس ہیں۔۔۔ شاید وہ ایران بھی چلے جائیں۔ لیکن وہ جنوب وسطی ایشیا میں کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔‘

کہا جاتا ہے کہ حمزہ بن لادن نے اپنی والدہ کے ساتھ ایران میں کئی سال گزارے جہاں ان کی شادی محمد عطا کی بیٹی سے ہوئی۔ جبکہ دیگر رپورٹس اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ پاکستان، افغانستان یا شام میں مقیم رہے۔