اسامہ بن لادن کے ’تحریر کردہ نوٹس‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, اورلا گیورین
- عہدہ, بی بی سی نیوز
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں واقع القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملے چند صفحات سے معلوم چلا ہے کہ اسامہ اپنی تقاریر لکھنے پر وقت صرف کرتے تھے۔
بی بی سی کو ملنے والے صفحات کےمستند ہونے کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تحریر اسامہ بن لادن ہی نے لکھی ہے۔ تاہم اگر یہ صفحات اصلی ہیں تو ان سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ اسامہ بن لادن کیا سوچتے تھے۔
ان دو صفحات پر لال قلم سے عربی میں لکھا گیا ہے اور مبینہ طور پر اسامہ کے بیڈ روم کے ساتھ والے کمرے سے ملے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان صفحات پر تحریر اسامہ کی تقریر یا بیان کا مسودہ ہے۔
ان صفحات پر درج تحریر کے کچھ حصے پانی گرنے سے پڑھنے کے قابل نہیں رہے اور چند لائنیں کاٹی گئی ہیں۔ تاہم اس تحریر میں موسمی تبدیلی اور سعودی عرب میں آئے سیلابی ریلے کا ذکر ہے۔ ان دونوں موصوعات کا ذکر اسامہ بن لادن نے پچھلے سال اپنے بیان میں کیا تھا۔ ان صفحات پر درج تحریر میں سعودی شاہی خاندان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
القاعدہ پر گہری نظر رکھنے والے اور اسامہ بن لادن کو 1996 میں انٹرویو کرنے والے عبدلباری عثمان کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ امکان ہے کہ یہ صفحات مستند ہیں۔
’ان صفحات میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اور جس طرح لکھی گئی ہے میرے خیال میں یہ صفحات مستند ہیں۔ لیکن کیا یہ تحریر اسامہ نے خود لکھی ہے یا کسی اور نے لکھی ہے یہ معلوم نہیں ہے۔‘
لیکن اگر یہ اسامہ کی لکھائی نہیں ہے تو کس کی ہے؟
بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار عبداللہ السالمی کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹے بچے کی لکھائی لگتی ہے جس کی عمر تقریباً تیرہ سے سولہ سال ہے۔ ان کے خیال میں یہ لکھائی اسامہ بن لادن کی بیٹی کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ وقت گزارنے کے لیے اپنے خیالات بیٹی کو لکھوا رہے ہوں۔ وہ ایک کمپاؤنڈ میں رہتے تھے اور باہر کی دنیا سے ان کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ ان کے پاس ٹی وی اور کتابوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے وہ اکتا گئے ہوں۔‘







