دوباک چیلنج: روسی انتہائی سرد موسم میں موج مستی میں مصروف

الینا دلیسکی

،تصویر کا ذریعہElena Deleske

،تصویر کا کیپشنالینا دلیسکی نے سائبیریا کے علاقے توبولسک میں یہ چیلنج اس وقت سرانجام دیا جب پس منظر میں سورج غروب ہو رہا تھا

روس کے مشرقی علاقوں میں منفی 40 سے منفی 50 درجۂ حرارت بھی لوگوں کو باہر نکل کر موج مستی کرنے سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق روس میں آج کل درجۂ حرارت عموماً ان دنوں کے درجۂ حرارت سے کہیں کم ہے۔

موسم سرد ہو تو گرم پانی کو فضا میں اچھال کر اسے برف بنتا دیکھنے کا شغل کون نہیں کرنا چاہتا۔ حال ہی میں شمالی امریکہ میں پولر وورٹیکس کے دوران یہ لوگوں کا پسندیدہ مشغلہ رہا۔

اب روس میں لوگ اس سلسلے میں ’دوباک‘ چیلنج میں حصہ لے رہے ہیں۔ دوباک روسی زبان میں انتہائی سرد موسم کو کہتے ہیں۔

اولگا شکلارووا

،تصویر کا ذریعہOlga Shklyarova

،تصویر کا کیپشنکوہ ارال کے مشرق میں یکتارنبرگ نامی شہر میں برف کے بادل کی تصویر اولگا شکلارووا نے کھینچی
ناستیا ستردوبتسیوا

،تصویر کا ذریعہNastya Starodubtseva

،تصویر کا کیپشناس چھلانگ کا مقصد خوشی کا اظہار تھا یا جسم گرم رکھنے کی کوشش یہ تو کوہ ارال کے قریب رہنے والی ناستیا ستردوبتسیوا ہی جانتی ہیں
اولیا کلینینا

،تصویر کا ذریعہOlya Kalinina

،تصویر کا کیپشناولیا کلینینا نے یہ دوباک چیلنج سائبیریا کے علاقے کراسنویارسک میں سرانجام دیا
رینات منکوف

،تصویر کا ذریعہRinat Minkov

،تصویر کا کیپشنرینات منکوف کا برفانی پانی کا چکر
نزنی وارتووسک کے الیگزینڈر بوروزدین

،تصویر کا ذریعہAlexander Borozdin

،تصویر کا کیپشننزنی وارتووسک کے الیگزینڈر بوروزدین نے کچھ رنگ بھی استعمال کیے اور دو برتنوں کی مدد سے پانی اچھال کر کچھ پروں جیسا منظر بنانے کی کوشش کی

تصاویر: آندری مسیحا، بی بی سی یو جی سی اینڈ سوشل نیوز اور ڈیمیئن شارکوف، بی بی سی مانیٹرنگ