دستکاری کی رنگ برنگی اور انوکھی دنیا

دنیا کے مختلف ممالک میں انسان اپنے ہاتھوں سے کیسی کیسی انوکھی چیزیں تخلیق کر لیتے ہیں۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع وادی ہنزہ کے بلتت قلعے کے قریب اپنی چھوٹی سی رنگین دکان میں سکرت بی بی روایتی سوتی کڑہائی اور سوئی کا استعمال کرتے ہوئے مختلف رنگارنگ اشیا بنا رہی ہیں۔

یو اے ای میں ایک افغان مزدور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

متحدہ عرب امارات کے ساحلی شہر قلبہ میں ایک افغان مزدور مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والا جال بناتے ہوئے۔ گذشتہ کچھ سالوں کے دوران قلبہ، ایسے جال بنانے کا مرکز بن گیا ہے اور کام کی تلاش میں درجنوں افغان اور پاکستانی تیل کی دولت سے مالامال اس خلیجی ریاست کا رخ کرتے ہیں۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آگ رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی روایتی کانگریاں بنانے والا ایک کاریگر۔ کانگریاں مٹی اور درختوں کی شاخوں سے بُنے ایسے برتن کو کہتے ہیں جو پھیرن کے اندر سردی دور رکھنے کے لیے آگ سے بھر کر رکھا جاتا ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ وادیِ کشمیر کے باشندے کانگریاں ذخیرہ کرنی شروع کر دیتے ہیں۔

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایران کے شہر مےبود کے بازار میں ایک ایرانی خاتون اُونی سکارف بُن رہی ہیں۔ مےبود ایرانی صوبہ یزد میں واقع ایک صحرائی شہر ہے۔

انٹیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے شہر جےپور میں ایک کمہار مٹی کے دیے بناتے ہوئے۔ دیوالی کے سالانہ تہوار کے موقع پر ان مٹی کے دئیوں کی مانگ خاصی بڑھ جاتی ہے۔ لوگ اپنے گھر اور مندروں کو روشن کرنے کے لیے دئیے خریدتے ہیں۔

شام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شام کے دارالحکومت دمشق میں فائد السیوفی کی دکان جہاں وہ دمشق کے خاص سٹیل سے تیار کردہ روایتی خنجر اور تلواریں بناتے اور فروخت کرتے ہیں۔

نیپال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نیپال کے ایک دیہاتی علاقے کوکانہ میں 28 سالہ اسمیتا مہارجن لکڑی تراش کر مختلف اشیا بنانے میں مصروف ہیں۔ وہ دس سال سے یہ کاروبار چلا رہی ہیں۔

انڈونیشیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈونیشیا کے شہر بالی کے ایک دیہات میں بنجار کتری کے علاقے برووان میں 48 سالہ ویان اکسرہ قدرتی پتے، پھلی اور خشک میوہ جات کے چھلکوں کو باندھ کر خوبصورت گلدستے بناتے ہیں۔ یہ گلدستے بنانے کے لیے سب اشیا وہ خود اپنے گھر کے قریب واقع جنگل ’بُکٹ دھرما پتری‘ سے اکھٹی کرتے ہیں۔

فلسطین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہشیم کوہیل فلسطین کے علاقے غزہ میں واقع اپنی ورکشاپ میں لکڑی سے تراشی اشیا گاہکوں کے لیے ترتیب سے رکھ رہے ہیں۔ یہ سب اشیا انھوں نے خود تراشی ہیں۔

تمام تصاویر بشکریہ گیٹی امیجز۔