امریکی حکومت کی جزوی بندش، 300 برگر کا آرڈر

صدر ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے اپنی جیب سے اس ’برگر پارٹی‘ کے پیسے ادا کیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت کے شٹ ڈاؤن کی وجہ سے عملے میں تخفیف کے دوران وائٹ ہاؤس میں فاسٹ فوڈ کی پارٹی کا اہتمام کیا۔

انھوں نے نیشنل فٹبال چیمپیئن شپ جیتنے والی ٹیم کلیمزن ٹائیگرز کے اعزاز میں دعوت دی جس میں تین سو سے زیادہ برگر، پیزا اور فرائیز منگوائے گئے۔

انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا: 'شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ہم نے امریکی فاسٹ فوڈ کا آرڈر دیا جس کے پیسے میں نے خود دیے۔'

امریکی حکومت کا بڑا حصہ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے معطل ہو چکا ہے۔

امریکی شٹ ڈاؤن کے بارے میں مزید

اس کی وجہ سے 80 ہزار سے زیادہ سرکاری ملازم متاثر ہوئے ہیں، جن میں وائٹ ہاؤس کا عملہ بھی شامل ہے۔ انھیں 24 دن سے تنخواہ نہیں ملی اور وہ جبری رخصت پر ہیں۔

شٹ ڈاؤن کی وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے کہہ دیا ہے کہ جب تک انھیں کانگریس کی طرف سے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے لیے پانچ ارب 70 کروڑ ڈالر کی رقم نہیں ملے گی، اس وقت تک وہ وفاقی بجٹ منظور نہیں کریں گے۔ اسی بجٹ سے سرکاری ملازموں کو تنخواہ ملتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے پارٹی کے بعد کہا: 'ہم نے 300 ہیم برگر اور بہت سی فرینچ فرائیز کھائیں جو ہم سب کا پسندیدہ کھانا ہے۔'

جب ایک نامہ نگار نے ان سے پوچھا کہ ان کا پسندیدہ کھانا کون سا ہے تو انھوں نے جواب دیا: 'اگر یہ امریکی کھانا ہے تو مجھے پسند ہے۔ یہ سب امریکی کھانا ہے۔'

اس سے قبل یہ خبریں آئی تھیں کہ صدر ٹرمپ کا پسندیدہ کھانا ہیم برگر ہے اور وہ اکثر میکڈانلڈ سے برگر منگوا کر کھاتے ہیں۔ بعض حلقوں نے اس پر ان کا مذاق بھی اڑایا تھا۔

غذائی صحت کے ماہرین کی اکثریت فاسٹ فوڈ کو صحت کے لیے مضر سمجھتی ہے۔