کیا صدر ٹرمپ روس کے لیے کام کرتے رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES
وائٹ ہاؤس نے معروف اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کی مذمت کی ہے جس میں کہا گیا کہ امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے صدر ٹرمپ کے خفیہ طور پر روس کے لیے کام کرنے کے متعلق تفتیش شروع کی تھی۔
اخبار نے کہا کہ جب انھوں نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے حکام مئی سنہ 2017 میں ٹرمپ کے برتاؤ پر تشویش ہونے لگی تھی۔
اس جانچ میں مبینہ طور پر اس بات کی تفتیش کی گئی کہ آیا مسٹر ٹرمپ قومی سلامتی کے لیے خطرہ تو نہیں ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ اس قسم کی تفتیش کی نہ تو کوئی وجہ تھی اور نہ ہی کوئی شہادت۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارا ہکابی سینڈرس نے کہا: 'یہ بے سرو پا اور فضول بات ہے۔'
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ جیمز کومی کو جانبدار ہونے کے لیے عہدے سے برطرف کیا گیا اور ان کے نائب جو اس وقت انچارج تھے وہ جانے پہچانے جھوٹے ہیں جنھیں ایف بی آئی نے نکال دیا۔'
'صدر اوباما جنھوں نے روس اور دوسرے حریف غیر ممالک کو امریکہ کو پیچھے دھکیلنے دیا، لیکن ان کے برخلاف صدر ٹرمپ کا روس پر سخت موقف رہا ہے۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سنہ 2016 میں امریکی خفیہ ادارے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ روس نے سائبر حملہ کیا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں اور صدارت کے مقابلے میں ان کی حریف ہلیری کلنٹن کو نقصان پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر جعلی خبریں ڈالی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف بی آئی نے ممکنہ طور پر کیا تفتیش کی؟
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آئي کی تفتیش مشترکہ طور پر کاؤنٹر انٹیلیجنس اور مجرمانہ تحقیقات تھیں۔
کاؤنٹرانٹیلیجنس کے تحت اس بات کی تفتیش کی گئی کہ کیا امریکہ کے مفاد کے خلاف صدر ٹرمپ دانستہ طور پر کریملن کی مدد کر رہے ہیں یا پھر 'وہ بھولے سے ماسکو کے زیر اثر آ گئے ہیں۔'
اس کا مجرمانہ حصہ صدر کی جانب سے مسٹر کومی کو برطرف کرنا تھا اور کیا یہ انصاف کی راہ میں رخنے ڈالنا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر نے کانگریس کی ایک سماعت میں بتایا کہ مسٹر ٹرمپ نے انھیں کہا تھا کہ 'میں تم سے وفاداری کی امید رکھتا ہوں' اور صدر کے سابق سکیورٹی مشیر مائیکل فلن کے خلاف جانچ کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
فلن نے دسمبر 2017 میں امریکہ میں تعینات روسی سفیر سے رابطے کے بارے میں جھوٹ بولنے کا اعتراف کیا تھا۔
تفتیش کا کیا ہوا؟
اخبار نے کہا ہے کہ ایف بی آئي کی جانچ کو سپیشل کونسل رابرٹ میولر کے کام میں شامل کر لیا گيا جو کہ صدر ٹرمپ کے انتخابی مہم اور ٹرانزیشن ٹیم کے بارے میں جانچ کر رہی تھی کہ آیا سنہ 2016 کے انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے ان لوگوں نے ماسکو کے ساتھ سازباز کی تھی یا نہیں۔
مسٹر میولر کو مسٹر کومی کی برطرفی کے چند دنوں بعد ہی ان کے عہدے پر مقرر کر دیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے روس کے ساتھ کسی ساز باز سے انکار کیا ہے اور میولر کی تحقیقات کو 'تاريخ کا عظیم ترین سیاسی وچ ہنٹ' قرار دیا ہے۔

تاہم اس تفتیش نے صدر کے بعض قریب ترین افراد کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے سابق ذاتی وکیل مائیکل کوہن کو مہم کے لیے مالی فراڈ کے جرائم میں تین سال کی قید کی سزا ہوئی جبکہ ان کی انتخابی مہم کے سربراہ پال مینافورٹ کو مالی فراڈ میں مجرم پایا گیا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ کاؤنٹرانٹیلیجنس والے حصے پر ابھی بھی جانچ ہو رہی ہے۔
اس ضمن میں اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک سابق وکیل کا نام لیے بغیر حوالہ دیا ہے ان کے علاوہ 'اس تفتیش سے واقف دوسرے لوگوں' اور کانگریس کے سامنے ایف بی آئی کے سابق مشیر جیمز اے بیکر کے شواہد کا حوالہ دیا ہے۔









