لندن کے چڑیا گھر میں ’جانور شماری‘ کی تصویری جھلکیاں

Penguin eats fish

،تصویر کا ذریعہYui Mok/PA

لندن کے چڑیا گھر میں ہیمبولٹ پینگوئن کے 12 چوزے ان جانوروں میں شامل ہیں جو ’جانور شماری‘ کے عمل سے پہلی بار گزر رہے ہیں۔

ہر سال چڑیا گھر کے رکھوالے تمام جانوروں کا ریکارڈ مرتب کرتے ہیں۔

عام طور پر تمام ممالیہ جانوروں، پرندوں، رینگنے والے جانوروں، مچھلیوں اور غیر فقاریہ جانوروں (بغیر ریڑھ کی ہڈی کے جانور یعنی invertebrates) کی گنتی ایک ہفتے میں مکمل ہوتی ہے۔

جانوروں کی پڑتال کا عمل چڑیا گھر میں آگ لگنے والے واقعے کے ایک سال بعد ہو رہا ہے جس میں ایک آرڈورک اور چار میرکیٹس ہلاک ہو گئے تھے۔

چڑیا گھر کے لائسنس کے اجرا کے لیے ضروری ہے کہ سال میں ایک بار وہاں موجود تمام جانوروں کا ریکارڈ اپ ڈیٹ کیا جائے۔

جانوروں کی آپریشنل مینیجر اینجلا رائن کا کہنا ہے کہ سال کے آغاز پر کی جانے والی اس سرگرمی کی وجہ سے ’ہمیشہ سال کا آغاز مصروف بن جاتا ہے۔ ہمارے رکھوالوں کا جانوروں کی دیکھ بھال کا اپنا ایک عمل ہے، چاہے وہ جانوروں کے ٹینکوں کے اندر کی تصاویر لینا ہو، یا مچھلی گھر میں ایک ہی مچھلی کی دوبارہ گنتی سے بچنا ہو یا تربیت اور انعامات کا استعمال کر کے بڑے گروپس مثلاً گلہری بندر اور ہیمبولٹ پینگوئن کی گنتی ہو۔‘

Tiger Stock take

،تصویر کا ذریعہPA/Yui Mok

Flower beetles are counted during the annual stocktake at ZSL London Zoo in central London

،تصویر کا ذریعہYui Mok/PA

Pygmy goats are counted during the annual stocktake

،تصویر کا ذریعہPA/Yui Mok

A zoo keeper poses with Humboldt penguins during the annual stock take at the ZSL London Zoo

،تصویر کا ذریعہGetty Images

A zoo keeper poses with Bactrian camels

،تصویر کا ذریعہGetty Images

Zookeeper Tony Cholerton sits amongst Squirrel Monkeys

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Toby Melville

Zookeeper Jamie Mitchell views an Orb Spider during an event to publicise the annual stocktake at London Zoo in London

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Toby Melville

.