منگیتر کی آخری خواہش، دلہن کا اکیلے ہی فوٹو شوٹ

،تصویر کا ذریعہInstagram/intansyariii
انڈونیشیا کی ایک خاتون نے جن کا منگیتر سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے جہاز پر سوار تھا اپنی شادی کی تصاویر اکیلے کھچوائی ہیں۔
انتن سیاری اور ریو نندا پرتما کی شادی 11 نومبر کو ہونی تھی۔
لیکن پرتما 29 اکتوبر کو شادی کے لیے آ رہے تھے جب ان کا جہاز جکارتہ سے پرواز بھرنے کے کچھ دیر بعد ہی سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔
سیاری کا کہنا ہے کہ وہ اپنے منگیتر کی آخری خواہش پوری کرنا چاہتی ہیں اور اسی لیے انھوں نے عروسی لباس اور شادی کی انگوٹھی پہن کر فوٹو کھچوائیں۔
سیاری نے انسٹاگرام پر لکھا ’اگرچہ میں غمزدہ ہوں لیکن پھر بھی مجھے مسکرانا پڑ رہا ہے۔ مجھے افسردہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ مضبوط ہونا چاہیے جیسے تم مجھے ہمیشہ کہتے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ پرتما نے جہاز پر سوار ہونے سے قبل مذاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ نہیں پہنچے تو تم فوٹو بھیج دینا۔
یاد رہے کہ جکارتہ سے پنگکل پنانگ جانے والے جہاز پر 180 افراد سوار تھے۔

،تصویر کا ذریعہInstagram/intansyariii
اس سے قبل سیاری نے انسٹاگرام پر پوسٹ میں لکھا تھا کہ وہ اپنے منگیتر کو 13 سال سے جانتی تھیں اور وہ ان کا پہلا پیار تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس فوٹوگرافر نے سیاری کی تصاویر کھینچیں اس نے بھی چند تصاویر آن لائن شائع کی ہیں اور سیاری کی کہانی بیان کی ہے۔
سیاری نے انسٹاگرام پر لکھا کہ وہ مڈل سکول سے ایک ساتھ تھے اور کیسے دونوں نے مل کر شادی کے جوڑے کا انتخاب کیا اور فوٹو شوٹ کا فیصلہ کیا۔
پرتما ڈاکٹر تھے اور وہ جکارتہ ایک سیمینار میں شرکت کے لیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہInstagram/intansyariii
پرتما نے جہاز پر سوار ہوتے ہوئے سیاری سے مذاق کرتے ہوئے کہا تھا ’اگر مجھے دیر ہو جائے اور وقت پر شادی میں نہ پہنچ سکوں تو تم پھر بھی شادی کا جوڑا پہننا۔ خوبصورت میک اپ کرنا، سفید گلاب منگوانا۔ اچھی فوٹوز کھچوانا اور مجھے بھیجنا۔‘









