’قرضہ جو میرے والد کی جان لے گیا‘

جیسکا ہرسٹ
،تصویر کا کیپشنجیسکا اپنے والد کے گھر کے دروازے پر

ایک برس قبل پچیس سالہ میوزک کی طالب علم جسیکا ہرسٹ کو یہ اطلاع ملی کہ ان کے والد اس جہاں میں نہیں رہے۔ وہ چھپن برس کے تھے۔

اس کے بعد انھیں علم ہوا کہ قرضے میں ڈوب جانے کے بعد انھوں نے اپنی زندگی خود ختم کر لی۔

وہ بیان کرتی ہیں کہ کس طرح کونسل ٹیکس کی ایک قسط چھوٹ جانے کی وجہ سے یہ بڑھتے بڑھتے اس حد تک بڑھ گیا کہ وہ دیوالیہ ہو گئے۔

،ویڈیو کیپشنچین نے غربت کے خاتمے کا عزم کیا ہے لیکن اس معاشی سیڑھی پر چھڑنا کوئی آسان کام نہیں ہے

یہ بات ہے بدھ چار اکتوبر سنہ 2017 کی۔ ’ریہرسل میں وقفے کے دوران میں فیس بک دیکھ رہی تھی کہ اچانک میری نظر میرے والد کے پیغام پر پڑھی جس میں لکھا تھا 'شب بخیر پیاری دنیا'۔ مجھ یہ پیغام کچھ عجیب سا لگا۔ جواباً میں نے لکھا 'کیا آپ کا اکاونٹ ہیک کر لیا گیا ہے ایل او ایل (زور سے ہنسیں) اور اس کے بعد یہ بات میرے ذہن سے نکل گئی۔

کئی گھنٹے بعد جب میری ریہرسل ختم ہوئی تو میں نے دیکھا کہ میری ماں اور میری دادی کئی مرتبہ مجھے کال کر چکی ہیں۔ مجھ یاد ہے کہ گیلری سے گزرتے ہوئے میری والدہ کا فون آیا 'کہاں ہو بیٹی۔‘

یہ بھی پڑھیے

میں نے جواب دیا کہ ابھی ابھی ریہرسل ختم ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا ’تمہارے والد نہیں رہے۔‘

میری ٹانگوں کی جان نکل گئی اور میں فرش پر گر پڑی۔

لنڈل کیمبریا میں میرے والد کی لاش ایک بیلف کو ملی۔

کچھ دنوں بعد میری ملاقات مرے والد کی موت کی تفتیش کرنے والے پولیس والے سے ہوئی۔ جب اس نے مجھے میرے والد کی موت کے بارے میں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا تو میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور میرے آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔

پولیس والے نے مجھے بتایا کہ میرے والد کی لاش ایک بیلف کو ملی جو انھیں قرض کی وجہ سے ان کے گھر سے بے دخل کرنے گیا تھا۔

پولیس والے نے بتایا کہ میرے والد نے سیڑھیوں پر بیلف کے لیے ایک نوٹ لکھ کر رکھ دیا تھا کہ وہ دوسری منزل پر بائیں ہاتھ والے بیڈ روم میں ہیں۔

جیسکا ہرسٹ
،تصویر کا کیپشننائجل ہرسٹ اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ

ڈیڈ (ابا) نے میرے اور میری بہن کے لیے بھی ایک نوٹ چھوڑا تھا۔

اس میں لکھا تھا 'جیس اور سیلی یہ لکھتے ہوئے میرا دل کٹ رہا ہے۔ اس فیصلے کا تم دونوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں تم دونوں سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں اپنی زندگی سے ایک عرصے سے اس قدر تنگ ہوں کہ میں اب اور برداشت نہیں کر سکتا۔ اب میں اپنا گھر اور اپنی عزت دونوں کو ختم ہوتے نہیں دیکھ سکتا اس لیے میں نے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔'

یہ میرے والدین کا پہلا گھر تھا جو انھوں نے شادی کے بعد لیا تھا۔ یہاں میں اور میری بہن پل بڑھ کر جوان ہوئیں۔ اس گھر سے ہماری بہت سی خوشگوار یادیں وابستہ تھیں۔

پندرہ برس قبل میرے والد اور والدہ کی طلاق ہو گئی اور میرے والد کو گردے کے سرطان کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ انھیں بتایا گیا کہ ان کے پاس صرف بارہ مہینے ہیں اور ان کی زندگی کے بچ جانے کا صرف پندرہ فیصد امکان ہے۔

گو کہ ان کے کینسر کا علاج ہوا لیکن یہ بہت تکلیف دہ اور صبر آزما تھا۔ طلاق کے بعد انھیں میری والدہ کو چھتیس ہزار پاونڈ ادا کرنے پڑے اور ہر ماہ مجھے اور میری بہن کو بھی دو سو پاونڈ دینا پڑے۔

طلاق اور صحت کی خرابی کے باوجود میرے والد ایک زندہ دل انسان تھے۔ وہ بہت بذلہ سنج انسان تھے اور برے سے برے حالات میں بھی مسکراتے رہتے تھے۔ وہ اپنے دوستوں کے غم اور خوشی میں شریک رہتے تھے۔

میں اور میری بیلف کے ذریعے اپنے والد کے گھر گئیں۔ وہ ہمیں وہیں ملا اور اُس نے کہا کہ تمہیں شدید دھچکا لگے گا۔ گھر کے اندر مجھے دیوالیہ ہونے کے خط ، عدالت کے نوٹس اور کئی دوسرے نوٹس باورچی خانے میں ایک مومی لفافے میں ملے۔

میں نے ایک ایک کر کے تمام خط دیکھے۔

ان کی زندگی میں مجھے یہ علم نہیں ہو سکا کہ میرے والد کے اوپر اتنا زیادہ قرضہ چڑھ گیا ہے کہ وہ دیوالیہ ہونے والے ہیں۔

موت سے تین دن قبل انھوں نے مجھ گلاسگو یونیورسٹی میں چھوڑا تھا اور مجھے میرا فلیٹ بدلنے میں مدد کی تھی۔ سارا دن وہ میرے ساتھ رہے اور سامان کھولنے میں میری مدد کر تے رہے۔ گھر جاتے وقت راستے میں سے انھوں نے مجھ تین مرتبہ فون کیا۔

وہ مجھے اور میری بہن کو ہمیشہ پیسے دیتے رہے گو کہ وہ دس برس سے قرضے میں دھنستے چلے جا رہے تھے۔

جسیکا
،تصویر کا کیپشنجسیکا کی بچپن کی تصویر جس میں ان کے والد نے انھیں گود میں اٹھا رکھا ہے

یہ سارا سلسلہ سنہ 2008 میں شروع ہوا جب وہ کونسل ٹیکس کی ایک قسط ادا نہیں کر سکے۔

جب وہ یہ قسط ادا کرنے میں ناکام رہے تو ساؤتھ لیک لینڈ کی ڈسٹرک کونسل نے انھیں پورے سال کا ٹیکس ادا کرنے کا نوٹس دیا۔ اس طرح یہ قرضہ بڑھ کر ڈیڑھ ہزار پاونڈ تک پہنچ گیا۔

یہ قرضہ مستقل بڑھتا چلا گیا۔ 2014 تک کونسل ٹیکس بڑھ کر سوا نو ہزار پاونڈ تک پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ بھی وہ کچھ بینکوں اور دیگر کمپنیوں کے مقروض ہو گئے اور پورا قرض 11700 پاونڈ ہو گیا۔

اس موقع پر کونسل نے انھیں دیوالیہ قرار دینے کی درخواست دی۔ وہ دس مارچ 2014 کو عدالت سے دیوالیہ قرار پائے۔ اگلے تین برس تک انھوں نے قرضہ وصول کرنے والی کمپنی کو 15000 پاونڈ ادا کیے لیکن اسی دوران ان کا قرضہ بڑھ کر 72000 پاونڈ ہو گیا۔

دریں اثنا میرے والد کو کونسل سے مسلسل خطوط ملتے رہے۔ پہلا شخص جو کونسل کی طرف سے میرے والد سے بات کرنے کے لیے آیا وہ بیلف تھا۔ ایک مرتبہ جب میرے والد کو دیوالیہ قرار دے دیا گیا ان کا قرضہ اس قدر بڑھ گیا کہ ان کے لیے اُتارنا ممکن ہی نہیں رہا۔

اپنے والد کے برخلاف میں نے قانونی مشورہ لینے کے لیے کئی اداروں سے بات کرنی شروع کی۔ میں نے ایسی ایجنسیوں سے بات کی جو لوگوں کو قرضہ اتارنے کے لیے ان کو مشورے دیتے ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ان کے والد کا معاملہ کچھ انوکھا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ آپ کے اعداد و شمار اور تفصیلات درست نہیں ہیں۔

جسیکا ہرسٹ

،تصویر کا ذریعہEmpics

،تصویر کا کیپشنجسیکا بھی قرضہ ادا کرنے کے قابل نہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ وہ اپنے والد کے گھر سے محروم ہو جائیں گی

آخر کار میں نے اپنے علاقے کے رکن پارلیمان ٹم فارن سے رابطہ کیا جنہوں نے ساؤتھ لیک ڈسٹرک کونسل اور قرضے کی وصولی کے لیے متعین کردہ کمپنی بی ڈی او سے بات کی۔ میں نے بیلف کو بھی ای میل کی اور انھیں اپنے والد کی بیماری کے بارے میں بتایا جواب میں اس نے اس بات کا یقین دلایا کہ جب تک میں اپنی تعلیم مکمل نہیں کر لیتی وہ میرے والد کے گھر کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔

اس کے فوراً بعد بی ڈی او نے مجھے بتایا کہ وہ میرے والد کا قرضے کم کر کے 35869 پاونڈ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے کچھ عرصے بعد وہ قرضے کو مزید کم کر کے 25000 پاونڈ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اگر یہ سب کچھ وہ میرے والد سے طے کرنے کے لیے تیار ہو جاتے تو میرے والد اپنی زندگی ختم نہ کرتے۔

کم ہوجانے کے باوجود میں اور میری بہن قرضے کی رقم ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ میں تعلیم حاصل کر رہی ہوں جبکہ میری بہن بے روز گار ہے۔ ہم قانونی مشورے کی فیس ادا نہیں کر سکتے اور ایسا لگتا ہے کہ والد کے بعد ہم اس گھر سے بھی محروم ہو جائیں گے جس کی چھت تلے ہم نے آنکھ کھولی اور پرورش پائی۔

میں سمجھ سکتی ہوں کہ میرے والد نے کونسل کے کسی خط کا کوئی جواب نہیں دیا جو کہ واقعی کافی پریشان کن ہو سکتا ہے۔ جب ایک شخص ساری زندگی قانون کی پاسداری کرنے والا شہری رہا ہو اور اچانک وہ اپنے واجبات ادا کرنا بند کر دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی مشکل میں ہے۔ میرے خیال میں اس صورت حال کے پیش نظر کونسل کو یہ کوشش کرنی چاہیے تھی کہ کونسل کا کوئی اہلکار اس شخص سے ذاتی طور پر ملنے کی کوشش کرتا۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ پچاس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں خود کشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یہ وہ عمر ہے جس میں لوگ اپنی مشکلات بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ لوگوں کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے اور قرضے میں پھنسے لوگوں سے ملنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ساوتھ لیک ڈسٹرک کونسل کے ریوینو اور بینیفٹ افسر مائیکل فریزر نے بی بی سی کو بتایا کہ اب جب کہ ہمارے پاس مکمل تفصیلات ہیں ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے مسٹر ہرسٹ کے خلاف دیوالیہ کی کارروائی شروع کی۔

انھوں نے کہا کہ کونسل یہ راستہ اختیار نہیں کرتی اگر ان کے پاس مکمل تفصیلات موجود ہوتیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ ان کے لیے سبق آموز ہے اور جو شخص بھی مشکل صورت حال کا سامنا کر رہا ہو اس کو فوری طور پر اپنے قرض خواہوں سے بات کرنی چاہیے۔ جتنا جلدی قرض خواہوں سے بات کی جائے اتنا ہی اچھا ہے۔ ریت میں سر دبا لینے سے کوئی معاملہ حل نہیں ہوتا۔