شمالی کوریا کا سالانہ پریڈ میں بیلسٹک میزائلوں کی نمائش سے گریز

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY
شمالی کوریا نے اپنے 70 سالہ جشن کے دوران منعقدہ فوجی پریڈ میں اپنی بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش نہیں کی۔
یہ اطلاع شمالی کوریا سے موصول ہونے والی رپورٹوں سے سامنے آئی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اس موقعے پر قوم سے خطاب کیا یا نہیں۔
اس پریڈ کو شمالی کوریا کے اسلحے کے ذخائر کو جاننے اور ایٹمی اسلحے کے خاتمے کے عہد کے تناظر میں بغور دیکھا جا رہا ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کم جونگ ان اس سالانہ پریڈ میں فوجی ساز و سامان کے مظاہرے میں احتیاط برتیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
شمالی کوریا سے امریکہ تک رسائی اور جوہری ہتھیار لے جانے کی اہلیت رکھنے والی بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی نمائش اس موقعے پر شاید اشتعال انگيزی سے تعبیر کی جاتی۔
پریڈ کی کوئی فوٹیج جاری نہیں کی گئی لیکن وہاں موجود خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نمائندے، اور این کے نیوز، جس کے پاس شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی کی تصاویر ہیں، دونوں کا کہنا ہے کہ پریڈ میں کسی بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش نہیں کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty
جون میں امریکی صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان نے کوریا جزیرہ نما کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا مبہم سا معاہدہ کیا تھا لیکن اس کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں گئی تھی، نہ ہی اس کے متعلق دیگر تفصیلات دی گئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے وفود کے دورے جاری رہے لیکن حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا شمالی کوریا کا دورہ آخری مرحلے پر منسوخ کر دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر بات چیت کو معطل کرنے کا الزام لگایا ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں پیش رفت جاری رکھنے کے پابند ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY
سیول میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا بیکر نے کہا کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی نمائش سے بات چیت کا مستقبل اور کوریائی جنگ کے خاتمے کا اعلان مشکل میں پڑ جاتا۔
شمالی کوریا پانچ سالوں میں پہلی بار عوامی کھیلوں کا انعقاد کر رہا ہے۔ 'اریرانگ ماس گیمز' شمالی کوریا کا وسیع پیمانے پر کیے جانے والے پروپیگنڈے کا رنگا رنگ منظر پیش کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY
رواں سال کے کھیلوں میں شمالی کوریا کی علامتی تاریخ پیش کی جا رہی ہے جس کا عنوان 'شاندار ملک' رکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال کے کھیل، جو ستمبر بھر جاری رہیں گے، بہت بڑے پیمانے پر منعقد ہو رہے ہیں۔
گذشتہ منعقدہ کھیلوں میں بڑے بڑے سٹیڈیم سنکرونائزڈ جمناسٹس اور گروپ ڈانس کے مظاہروں سے بھرے نظر آئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY
ان کھیلوں کی رنگارنگ تقاریب بہت دلکش نظر آتی ہے، لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو اس میں شرکت کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔












