نورا حسین: ’بیٹی کی سزائے موت ٹلنے کے لیے معجزے کی امید تھی‘

- مصنف, محمد عثمان
- عہدہ, بی بی سی عربی، خرطوم
اپنے شوہر پر ریپ کا الزام عائد کرنے اور اسے قتل کرنے کے جرم میں پہلے سزائے موت پانے والی نوجوان سوڈانی لڑکی نورا کے والد نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کے اپنے کزن کے ساتھ شادی کا اس قدر خوفناک انجام ہو سکتا ہے۔
منگل کو اپیل کورٹ نے نورا حسین کی سزائے موت منسوخ کر کے انھیں پانچ سال قید میں تبدیل کر دیا ہے۔
اس سے پہلے نورا حسین نے اس ماہ کے اوائل میں جب اپنی ماں کو دیکھا تو وہ زار و قطار رونے لگیں۔ ایک سال قبل جیل بھیجے جانے کے بعد وہ پہلی مرتبہ اپنے خاندان سے ملی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
بہتے آنسوؤں کے ساتھ 19 سالہ نورا نے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ شوہر کے ہاتھوں ریپ کیے جانے کے بعد پہلے خود کو مارنا چاہتی تھیں۔
نورا کی ماں زینب احمد نے بتایا ’ریپ کے بعد اسے خود سے نفرت ہونے لگی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اس نے اپنے پاس چاقو رکھا ہوا تھا کہ اگر اس کے شوہر نے اسے دوبارہ چُھوا تو وہ خود کو مار لے گی۔‘
لیکن جب اس کے شوہر نے اسے چُھوا تو اس لمحے میں اس نے خود کے بجائے شوہر کو چاقو مار دیا۔ اس کی ماں کا اصرار تھا کہ یہ فعل محض اپنے دفاع میں کیا گیا۔
گذشتہ ماہ نورا کو موت کی سزا ملنے کے بعد ان کے لیے ’جسٹس فار نورا‘ کے نام سے مہم کا آغاز ہوا۔
سپر ماڈل ناؤمی کیمپبل اور اداکارہ ایما واٹسن ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے نورا کو دی جانے والے سزائے موت کی مخالفت کی اور اس کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔
ایمنٹسی انٹرنیشنل نے اس مہم کے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ سوڈان کے وزیرِ انصاف سے اس معاملے میں دخل اندازی کرنے کے لیے ای میل کریں جس کے بعد بے تحاشا پیغامات کی وجہ سے انہیں اپنا ای میل ایڈریس بدلنا پڑا۔
نورا کو باہر کی دنیا میں اپنے لیے اس قدر حمایت کا علم اس وقت ہوا جب ان کی والدہ نے اومدورمن جیل میں نورا سے ملاقات کی۔
فی الحال ان کی اپنی دنیا اس جیل تک محدود ہے جہاں تمام قیدی ایک بڑے سے صحن میں رہتے ہیں۔
جسٹس افریقہ کے سوڈان میں کوآرڈینیٹر حافظ محمد کا کہنا ہے کہ ’وہاں چھت نہیں ہے اور عورتیں دھوپ سے بچنے کے لیے چادروں کا استعمال کرتی ہیں۔‘
نورا نے آج بھی وہی ہتھکڑی پہن رکھی ہے جو اس کی گرفتاری کے وقت اسے پہنائی گئی تھی۔
ان کی والدہ کے بقول بظاہر صحت مند نظر آنے والی نورا اندر سے ٹوٹ چکی ہے۔

آٹھ بچوں میں دوسرے نمبر پر نورا حسین خرطوم سے 40 کلو میٹر دور ایک گاؤں میں پلی بڑھیں۔ یہ ایک خشک علاقہ ہے جس کے ارد گرد ریت اور پتھریلے علاقے ہیں تاہم یہ دریائے نیل سے زیادہ دور نہیں۔
زینب احمد کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی ہمیشہ سے ہی ایک خاموش طبع اور ذہین لڑکی تھی۔
’اس کے مقاصد تھے، وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی اور لیکچرر بننا چاہتی تھی۔‘
نورا ابھی بہت چھوٹی تھیں جب ان کا خاندان جنگ زدہ دارفور سے نقل مکانی کر گیا تھا۔ ان کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے تاہم ان کے والد کی ہارڈ ویئر کی دکان سے اتنی آمدن ہو جاتی تھی کہ نورا تعلیم حاصل کر سکتی تھیں۔ وہ اس میں بہت خوش تھیں۔
سنہ 2015 میں نورا کے ایک کزن 32 سالہ عبدالرحمان محمد حماد نے اس کا رشتہ مانگا۔ وہ اس وقت 16 برس کی تھی۔
ان کی ماں کے بقول وہ اس بات پر ناراض نہیں ہوئی بلکہ اس نے پڑھائی جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے اپنی حاملہ ماں کی زچگی تک شادی میں تاخیر کا بھی مطالبہ کیا۔
لیکن ان پر خاندان خاص کر اپنے ہی والد حسین کا دباؤ بڑھنے لگا۔
حسین کا کہنا تھا ’علاقے میں بہت سی لڑکیاں حاملہ ہو رہی تھیں اور ناجائز بچے پیدا کر رہیں تھی۔‘
حسین کے بقول وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہوتا۔
شادی کی ابتدائی رسومات میں شرکت پر اسے علم ہو گیا کہ جیسا وہ چاہ رہی تھیں ویسا نہیں ہوگا۔ وہ بھاگ کر 350 کلو میٹر دور اپنی خالہ کے پاس چلی گئی۔ وہ دو دن ان کے پاس رہی اور شادی نہ کروائے جانے کی یقین دہانی پر واپس لوٹی۔
ان کے واپس آنے پر شادی کی تقریب تو پوری ہوئی تاہم اس کا شوہر کے ساتھ رہنا ضروری نہیں تھا۔
اگلے دو سال تک وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہیں۔ عبدالرحمان آتا تو وہ اسے کہتی کہ وہ اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

خاندان کے بڑوں نے نورا اور ان کے شوہر سے اصرار شروع کیا کہ اپنے رشتے کو آگے بڑھائیں اور میاں بیوی کی طرح رہنا شروع کریں۔
ان کی برادری میں اہم فیصلے بڑے کرتے ہیں۔ غیرت اور خاندان کی عزت اس کی ثقافت میں سب سے اہم ہیں۔
اس کے والد حسین کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں ان کی بیٹی کے پاس شادی سے انکار کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی۔ خاندان والوں نے دو سال تک صبر کیا۔
دباؤ کے باعث نورا اپریل 2017 میں عبدالرحمن کے ساتھ رہنے پر راضی ہو گئی۔

سی این این کے مطابق اپنے پہلے بیان میں نورا کا کہنا تھا کہ پہلے ہفتے میں اس نے اپنے شوہر کی جانب سے جنسی تعلق قائم کرنے کی کوششوں کو رد کیا۔
وہ روئی، کھانے سے انکار کر دیا۔ عبدالرحمان کے سو جانے کے بعد اس نے گھر سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن دروازہ کو تالا لگا تھا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق نویں دن عبدالرحمان کچھ رشتے داروں کے ساتھ گھر آیا جنہوں نے نورا کے کپڑے پھاڑے اور اس کو جکڑے رکھا اور ان کے شوہر نے ان کا ریپ کیا۔
اگلے دن عبدالرحمان نے دوبارہ کوشش کی تو نورا نے وہ چاقو اٹھا لیا جس کے بارے میں اس نے اپنی ماں کو بتایا تھا کہ وہ اس نے خود کشی کے لیے رکھا تھا۔
نورا کے بقول کشمکش کے دوران اس کا ہاتھ کٹ گیا اور اس کے شوہر نے اس کے کندھے پر کاٹ لیا۔
اس کے بعد وہ بتاتی ہیں کہ وہ خون آلود چاقو لیے اپنے والدین کے گھر دوڑیں۔

حسین اور اس کی بیوی اپنی بیٹی کو آلۂ قتل کے ساتھ دیکھ کر دہشت زدہ رہ گئے۔
چاقو تھامے ہوئے اس نے بتایا ’میں نے اپنی شوہر کو قتل کر دیا ہے، اس نے مجھے ریپ کیا تھا۔‘
حسین جانتا تھا کہ عبدالرحمان کا خاندان بدلہ ضرور لے گا ’میں اس وقت صورتحال کی سنگینی کو سمجھ گیا۔`
اب نورا کا پورا خاندان خطرے میں تھا اس لیے وہ سب کو پولیس سٹیشن لے گیا۔ اس نے ایسا ان کے تحفظ کے لیے کیا، پولیس کو شکایت کے لیے اور نہ اپنی بیٹی سے لاتعلقی کے لیے۔ لیکن نورا کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور اس پر قتل عمد کا مقدمہ دائر کر دیا۔
اس کا خاندان گھر واپس گیا تاکہ خاندان کے بڑوں سے کہہ کر عبدالرحمان کے خاندان کے ساتھ معاملات طے کیے جا سکیں۔ لیکن انھوں نے اس بات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنے باقی بچوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو انہیں نورا سے قطع تعلق کرنا ہوگا۔
جب ان کے گھر اور کاروبار کو آگ لگا دی گئی تو زینب اور حیسن مان گئے۔ جب دھمکیوں کا سلسلہ جاری تھا تو یہ دونوں اپنے بچوں کو لے کر وہاں سے نکل گئے۔
عدالت نے نورا کو قتل کا مجرم قرار دیا اور عبدالرحمان کے خاندان کی جانب سے مالی معاوضے کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔
نورا کے وکیل نے اپیل دائر کی اور وہ معافی حاصل کرنے کی کوشش میں بھی رہے۔
حسین کے بقول اس نے اس رات کے بعد سے اپنی بیٹی کو نہیں دیکھا کیونکہ اس اور اس کے دیگر بچوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’میں اپنے بیٹی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ جیل جا کر اس سے ملنا چاہتا ہوں، اس کا حوصلہ بڑھانا چاہتا ہوں لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے اس سے فون پر بات کی اور اس نے یقین دلایا کے اس کی صحت اچھی ہے۔
نورا کی والدہ زینب کا کہنا تھا کہ انہیں کسی معجزے کی امید ہے۔ انہیں امید تھی کہ شاید خاندان کے بڑے اس معاملے میں دخل دے کر عبدالرحمن کے خاندان والوں کو راضی کر لیں اور سزائے موت ٹل جائے۔
ایمنٹسی انٹرنیشل کی مشرقی افریقہ کی ڈائریکٹر یوان نینیوکی کا کہنا تھا کہ ’جب ہم نے لوگوں کو سوڈان کے وزیرِ انصاف سے مطالبہ کرنے کو کہا تو انہیں دو ہفتے بعد ہی اپنا اکاؤنٹ بند کرنا پڑا۔ اس کا اثر ہوا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ایسی لاکھوں نوارائیں ہیں جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے، جن کی جبری شادیاں اور ریپ ہوئے۔ یہ لڑائی ان کے لیے بھی ہے۔‘
نورا کے والدین ایک دور دراز گاؤں میں رہتے ہیں۔ ان کے بقول ان کی شادی اب بھی مضبوطی سے قائم ہے اور وہ ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔ لیکن نورا کی قسمت انہیں دہشت زدہ کرتی ہے۔
حسین کا کہنا تھا ’کوئی بھی اپنی بیٹی کے لیے قابلِ رحم زندگی نہیں چاہتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں چاہتا تھا کہ چیزیں اس نہج پر پہنچ جائیں۔ ہمیں امید ہے کہ خدا اس کی مدد کرے گا‘












