خاتون پولیس افسران پر حملے کے وقت حملہ آور ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگا رہا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیلجیئم کے مشرقی شہر لیژ میں دو خاتون پولیس افسران اور ایک راہگیر کو ہلاک کرنے والے شخص کے بارے میں بیلجیئم کے وزیر داخلہ جان جمبون نے بتایا ہے کہ حملہ آور نے ایک رات قبل بھی ایک اور شخص کو قتل کیا تھا۔
اب پولیس نے اس واقعہ کو دہشت گردی قرار دے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حملہ آور کی شناخت ہوگئی ہے۔ اس کا نام بینجمن ہرمین بتایا گیا ہے جس کی عمر 36 برس تھی۔
بیلجیئم کے وزیرِ قانون کون گینز نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ خود کو چار افراد کی موت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھیئے
خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق ہرمین نے دو پولیس افسران پر حملے کے دوران ’اللہ اکبر‘ کے نعرے بھی لگائے۔
حملہ آور کو سوموار ہی کو عارضی طور پر مقامی جیل سے رہا کیا گیا تھا جہاں وہ منشیات کی فروخت اور چوری کے جرائم میں سزا کاٹ رہا تھا۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ غالباً وہ جیل میں انتہا پسند ہو گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روئیٹرز نے بیلجئیم کو وزیر انصاف کوئین گین کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملہ آور کے جیل کے سیل سے ایک جائے نماز اور ایک قرآن برآمد ہوا ہے۔ اُسے دو روز قبل اُس کی سن 2020 میں رہائی کی تیاری کے طور پر عارضی طور پر جیل سے باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
حکام کی تشویش یہ ہے کہ اس قسم کے لوگ جیل جا کر انتہا پسند نظریات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ماضی قریب میں یورپ میں دہشت گردی کے حملوں میں اسی طرح کے سزا یافتہ مجرم ملوث پائے گئے ہیں۔
تاہم وزیر داخلہ جان جمبون کا کہنا ہے کہ ہرمین نے سوموار کی شب بھی کسی اور شخص کو قتل کیا تھا اس لیے نفسیاتی طور پر ممکن ہے کہ گزشتہ روز کے حملے کے دوران وہ نشے میں ہو۔
لیکن لیژ کی پولیس کے سربراہ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہرمین کے حملوں کا مقصد پولیس کو نشانہ بنانا تھا۔ حملہ آور کے بارے میں جمع کی گئیں معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ عام سی چوری چکاری میں ملوث رہا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والی دو خاتون پولیس افسران میں سے ایک پینتالیس برس کی ثُریا بالقاسمی تھیں۔ ثریا بیوا تھیں اور دو جُڑواں بچوں کی ماں تھیں۔ جبکہ ان کی ساتھی افسر تریپن برس کی لوسیل گارشیا تھیں جنھوں نے ایک ماہ قبل ہی اپنے ایک کولیگ سے شادی کی تھی۔
حکام کے مطابق ہرمین نے حملے کے دوران ایک قریبی گاڑی میں بیٹھے بائیس برس کے ایک شخص کو بھی گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ اس کے بعد وہ قریبی سکول میں گیا جہاں اس نے سکول کی صفائی کرنے والی ایک خاتون کو یرغمال بنایا اش دوران پولیس کی کارروائی میں ہلاک ہو گیا۔
سکول میں جب پولیس آئی تو حملہ آور نے ان پر بھی گولیاں چلائیں تھیں جس سے دو پولیس افسران کی ٹانگوں میں گولیاں لگیں۔ ان میں سے ایک افسر کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ دو اور افسران بھی بازوؤں پر گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیژ شہر میں آج بیلـجیئم کے بادشاہ فیلیپ اور وزیراعظم اس مقام پر گئے جہاں دو پولیس افسران ہلاک ہوئیں تھیں۔ عوامی سطح پر لوگوں نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولس کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ مسلم کمیونیٹیز نے بھی مقامی لوگوں کے شانہ بشانہ یکجہتی کے جلوس میں شرکت کی۔
گزشتہ برسوں کے برسلز اور پیریس کے حملوں کے بعد بیلجیئم میں دہشت گردی کے حملوں کا خطرہ پہلے ہی سے موجود ہے۔ برسلز اور پیرس کے حملوں میں برسلز سے تعلق رکھنے والے شدت پسند گروہ کے ارکان ملوث تھے۔
برسلز میں سن 2016 میں ہونے والے خودکش حملے میں 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ پیرس میں 2015 کے شدت پسندوں کے حملے میں 130 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری نام نہاد دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔







