امریکی صدر ٹرمپ کا اہلیہ سمیت شمالی کوریا سے رہائی پانے والے شہریوں کا استقبال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کی جانب سے رہا کیے جانے والے تین امریکی شہریوں کا وطن واپسی پر استقبال کیا ہے۔
واشنگٹن کے قریب فضائیہ کے ہوائی اڈے پر امریکی شہریوں کے استقبال کے موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ’ ان شاندار لوگوں کے لیے ایک خصوصی رات‘ ہے۔
مقامی وقت کے مطابق جب رات پونے تین بجے جہاز ہوائی اڈے پر اترا تو صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ ملانیا نے جہاز کے اندر جا کر تینوں شہریوں کا استقبال کیا اور کچھ منٹ بعد جہاز سے تینوں شہریوں سمیت باہر نکل کر میڈیا کے نمائندوں کو ہاتھ لہرائے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی تعریف کرتے ہیں کہ انھوں نے ان آدمیوں کو جانے کی اجازت دی اور کھلے دل سے کہوں گا کہ انھیں امید نہیں تھی کہ ملاقات سے پہلے ایسے ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کہ کیا یہ قابل فخر کامیابی ہے تو اس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ اس وقت ہو گی جب ’ تمام جزیرہ جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو جائے گا۔ یہ بڑے فخر کی بات ہے لیکن اصل فخر اس وقت ہو گا جب ہمیں جوہری ہتھیاروں سے بجات کی فتح حاصل ہو گی۔‘
بدھ کو وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی شہری کم ہاک سونگ، ٹونی کم اور کم ڈونگ کو شمالی کوریا نے ریاست مخالف کارروائیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزا سنائی تھی اور ان کو لیبر کیمپ میں رکھا گیا تھا۔
شمالی کوریا کی جانب سے اس قدم کو ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان ملاقات سے قبل جذبہ خیر سگالی قرار دیا جا رہا ہے۔
رہا ہونے والے امریکی شہری کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہREUTERS / AFP
کم ہاک سونگ کو مئی 2017 میں ملک دشمن سرگرمیوں کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ انھوں نے پہلے کہا تھا کہ وہ مسیحی تبلیغی ہیں جو پیانگ یانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک تجرباتی فارم شروع کرنا چاہتے ہیں۔
ٹونی کم پیانگ یانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کام کرتے تھے۔ ان کو اپریل 2017 میں جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
کم ڈونگ چل 60 کے پیتٹھے میں ایک پادری ہیں اور ان کو 2015 میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کے لیے ماحول سازگار بنانے کے لیے ان تینوں شہریوں کی رہائی بہت اہم تھی۔
تین امریکی شہریوں کی رہائی پر جنوبی کوریا کے کے صدارتی محل بلیو ہاؤس نے ایک پیغام میں شمالی کوریا کے اس اقدام کو سراہا۔ ترجمان نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا کہ وہ ان چھ جنوبی کوریائی باشندوں کو بھی رہا کرے جو اس کی حراست میں ہیں۔
ٹونی کم کے خاندان نے بیان میں کہا ہے کہ وہ ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے ٹونی کی رہائی کے لیے کام کیا۔










