روس کے نئے ریموٹ کنٹرول ہتھیاروں کی نمائش

Uran-9 robotic tank

،تصویر کا ذریعہRus.mil/facebook

،تصویر کا کیپشنارن نائن نامی خودکار ٹینک بیک وقت متعدد امور میں مدد دینے کی صلاحیت رکھتا ہے

روس بدھ کو جنگ عظیم دوم میں ہونے حاصل ہونے والی کامیابی کی یاد میں بگ وکٹری ڈے پریڈ منعقد کر رہا ہے۔

اس میں ریموٹ کنٹرول ٹینک سمیت ایسے کئی ہتیھاروں کو چلانے کے لیے بنائے گئے سسٹم کی نمائش کی جا رہی ہے جنھیں شام میں جنگ کے دوران تجرباتی بنیادوں پر استعمال کیا جا چکا ہے۔

اُرن نائن نامی ٹینک راکٹ حملوں، توپوں اور مشین گن سے کیے جانے والے حملوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

صدر ولادیمیر پوتن نو مئی کو اس پریڈ کا افتتاح کریں گے جس میں روسی رواج کے مطابق جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کی نمائش ہو گی۔

مزید پڑھیے

یہ دن ان لاکھوں روسیوں کو نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنھوں نے نازی جرمنوں سے لڑتے ہوئے جان دی تھی۔

اس موقع پر انفینٹری کے نئے دستے، ڈرونز اور طیارہ شکن میزائل بھی دکھائے جائیں گے۔

روسی ویب سائٹ گیزیٹہ رو نیوز کے مطابق سرنگوں کو ہٹانے میں مدد دینے والے ’روبوٹ سیپر‘ جسے اُرن 6 کہا جاتا ہے نے اُرن نائن کے ساتھ شام میں روسی فوج کو کارروائیوں میں مدد دی۔

روس، پریڈ

،تصویر کا ذریعہMil.ru/facebook

،تصویر کا کیپشنایم ون پر بیٹھے ہوئے دو روسی فوجی فتح کے دن کی پریڈ کی ریہرسل کرتے ہوئے

یاد رہے کہ روس اپنی سپیشل فورسز اور جنگی جہازوں کے ذریعے صدر بشارالاسد کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سمیت دیگر باغیوں کے خلاف جاری جنگ مدد کر رہا ہے۔

گیزیٹہ رو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اُرن 9 اپنے ہدف کی نشاندہی تو خود کرتا ہے تاہم ہدف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ وہ کمانڈر ہی کرتا ہے جو اس سے تین کلومیٹر دوری پر ہتھیاروں سے لیس ٹرک میں بیٹھا ہوا ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اے ایم ون گاڑی نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ یہ ایسی گاڑی ہے جس پر دو لوگ بیٹھ سکتے ہیں اور اس روسی ساختہ بائیک کو مشین گن کے ساتھ بھی فِٹ کیا جا سکتا ہے۔

اے ایم ون ایک چھوٹی سی گاڑی ہے جو کہ خاص طور پر انفنٹری یا سپیشل فورسز کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ حملوں کے وقت مشکل گزار راستوں مثلاً آرکٹک، صحراؤں اور دلدلی علاقوں میں کام کر سکیں۔

Russian troopsروس، پریڈ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنان بینرز پر دوسری جنگ عظیم کی تاریخ درج ہے

روس ہر قسم کے موسم میں استعمال ہونے والے ڈرون طیاروں کو بھی سامنے لائے گا جسے ’کورسر‘ کہتے ہیں اور یہ میزائل حملے، صورتحال پر نگاہ رکھنے اور ہتیھاروں کی سپلائی کے لیے بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

یہ ڈرون دس گھنٹے تک چھ کلومیٹر کی بلندی پر 160 کلومیٹر کے علاقے پر پرواز کر کے اس کی نگرانی کر سکتا ہے۔

روس کے نائپ وزیر دفاع بوریسو کا کہنا ہے کہ روسی فوج کے پاس ڈرونز کی بہت سی اقسام ہیں تاہم حالیہ پریڈ میں صرف کورسر اور کتران پیش کیے جائیں گے۔

Korsar drone

،تصویر کا ذریعہMil.ru/facebook

،تصویر کا کیپشنکورسر نامی اس ّرون کو میزائل کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے

اگر کل موسم اچھا ہوا تو فضائیہ کے ہیلی کاپٹرز اور جنگی طیارے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔

مِگ 30 فائٹر طیارے میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے طیارے یا چیز کو تباہ کر سکتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یہ کنزہل نامی طیارہ شکن اینٹی شپ میزائل کو ساتھ لے کر اڑان بھرے گا۔

مِگ 31

،تصویر کا ذریعہMil.ru/facebook

،تصویر کا کیپشنیہ مِگ 31 ہے جو ریہرسل کے دوران کنزہل میزائلوں کو لے جارہا ہے

روس اپنی فضائیہ کو بھی فخریہ طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ ایس یو 57 سٹیلتھ فائٹر ہے جسے ٹی 50 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ بھی ان ہتھیاروں میں شامل ہے جنھیں شامی جنگ میں استعمال کیا گیا۔

Russian stealth fighter, 2011

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایس یو 57 اب روس کے MiG-29 اور Su-27 نامی جنگی طیاروں کی جگہ لے رہے ہیں

۔