گوگل امریکہ کی عسکری مدد نہ کرے: گوگل ملازمین

،تصویر کا ذریعہGetty Images
معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے ہزاروں ملازمین نے ایک کھلے خط میں کمپنی سے استدعا کی ہے کہ وہ امریکی فوج کے لیے ایک خصوصی پروجیکٹ پر کام نہ کریں۔
اس پروجیکٹ کا نام پروجیکٹ میون ہے اور اس کا مقصد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ڈرون حملوں کے نشانے کو بہتر بنانا ہے۔
ملازمین کو خدشہ ہے کہ اس سے گوگل کی ساخ کو ناقابلِ مرمت نقصان پہنچے گا۔
مزید پڑھیے
گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے نام اس خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ گوگل کو جنگ کے کاروبار میں نہیں ہونا چاہیے۔‘
’اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ پروجیکٹ میوں کو منسوخ کیا جائے اور گوگل واضح پالیسی کا اعلان اور اس پر عمل کرے کہ گوگل یا اس کے کوئی ٹھیکیدار جنگی ٹیکنالوجی تیار نہیں کریں گے۔‘
’کوئی عسکری پروجیکٹ نہیں‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’درجنوں سینیئر انجینیئروں‘ سمیت 3100 ملازمین کے دستخط والے اس خط کے بارے میں نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ سٹاف پہلے ہی مینجمنٹ سے اس بارے میں خدشات ظاہر کر چکے تھے۔ دنیا بھر میں گوگل کے 88000 ملازمین ہیں۔
گوگل کی کلاؤڈ بزنس کی سربراہ ڈائیں گرین نے اس خدشات کے ردِعمل میں ملازمین کو یقین دلایا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی پتھیار لانچ کرنے میں استعمال نہیں ہوگی اور نہ ہی ڈرون چلانے یا اڑانے میں استعمال ہوگی۔
مگر اس خط پر دستخط کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کے اعتماد کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور اپنی اخلاقی ذمہ داری کو نظر انداز کر رہا ہے۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ ’ہم اپنی اخلاقی ذمہ داری کسی تیسری پارٹی پر نہیں ڈال سکتے۔۔۔ گوگل کے ظاہر کردہ عقائد میں واضح کیا گیا ہے کہ ہمارا ہر صارف ہم پر اعتماد کر رہا ہے، اس کو کبھی بھی خطرے میں نہ ڈالیں، کبھی نہیں!‘
’اس ٹیکنالوجی کو بنانا جو کہ امریکی حکومت کو عسکری نگرانی میں مدد کرے اور جس کے جالیوا نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں، نامنظور ہے۔‘
گوگل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ امریکی محکمہِ دفاع کو اپنی امیج ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کرنے دے رہا ہے۔
گوگل کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پروجیکٹ میون وزارتِ دفاع کا ایک معروف منصوبہ ہے اور گوگل اس کے ایک حصے پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد غیر جارحانہ چیزوں کے لیے استعمال ہے اور یہ کسی بھی گوگل کلاؤڈ کے صارف کو میسر ہے۔










