ویٹیکن: پوپ نے یہ نہیں کہا کہ جہنم نہیں ہے

پوپ فرانسس

،تصویر کا ذریعہAFP

کیتھولک مسیحیوں کے مرکز ویٹیکن نے اٹلی کے نامور صحافی کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ ’جہنم کا کوئی وجود نہیں ہے‘۔

اٹلی کے روزنامے 'لا ریپبلیکا' میں پوپ فرانسس کے حوالے سے چھپے ایک مضمون کے بارے میں ویٹیکن کا کہنا ہے کہ وہ آرٹیکل پوپ کی یوجینیو سکالفری کے ساتھ ایک نجی ملاقات کے حوالے سے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کیتھولک چرچ کے اصول و نظریے میں جنہم کی موجودگی اور ابدیت کو تسلیم کیا جاتا ہے اور اخبار میں پوپ کی گفتگو سے کسی بھی اقتباس کو عقیدے کا حصہ نہ سمجھا جائے۔

کیتھولک عقیدے کے مطابق ابدی زندگی میں برے اعمال کرنے والوں کی روح جہنم میں ہو گی۔

تاہم انگلینڈ اور ویلز میں کیتھولک عقیدے کے سب سے اعلیٰ مذہبی رہنما کارڈینل ونسینٹ نکولس کا کہنا ہے کہ ’کیتھولک تعلیمات میں یہ کہیں نہیں لکھا گیا کہ درحقیقت کوئی بھی شخص جہنم میں ہے۔‘

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پوپ بظاہر جہنم کے تصور، آگ اور اس کے ایندھن اور اس سب کا کھوج لگا رہے تھے جو کبھی بھی کیتھولک تعلیمات کا حصہ نہیں رہا یہ مسیحی مذہب میں کیتھولک عقیدے کی تصویرکشی ہے۔

پوپ فرانسس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجہنم مسیحی عقیدے کابنیادی حصہ ہے جس کی تصویر کشی کی جاتی ہے

جمعرات کو اخبار میں چھپنے والے مضمون کے مطابق سکارلفری جو کہ لادین ہیں نے پوپ سے پوچھا کہ طبری روحیں کہاں جاتی ہیں اور انھیں کہاں سزا ملتی ہے۔

پوپ کے حوالے سے آرٹیکل میں یہ لکھا گیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ روحوں کو سزا نہیں ملتی۔

’وہ جو پچتاتے ہیں خدا سے معافی مانگتے ہیں ان لوگوں کے درجے پر چلے جاتے ہیں جو خدا کی عبادت کرتے ہیں لیکن جنھیں پچھتاوا نہیں انھیں معافی نہیں مل سکتی وہ غائب ہو جاتے ہیں۔ کوئی جہنم نہیں ہے۔ گناہ گار روحیں غائب ہو جاتی ہیں۔