’روس بھی برطانوی سفارت کاروں کو جلد ملک بدر کرے گا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ برطانیہ کے شہر سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلی جنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے پر روس کے 23 سفارت کاروں کو نکالنے کے ردِعمل کے طور پر روس برطانیہ کے سفارت کاروں کو ملک سے نکالے گا۔
جب صحافیوں نے سرگئی لاوروف سے پوچھا کہ آیا ماسکو بھی برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریزا مے کی جانب سے روس کے 23 سفارت کاروں کو برطانیہ سے نکالنے کے اعلان کے حوالے سے اپنا ردِ عمل دے گا تو انھوں نے کہا ’یقیناً ہم بھی برطانوی سفارت کاروں کو نکالیں گے۔‘
جمعے کو قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ شام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کے بعد بات کرتے ہوئے روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا ’ماسکو بھی برطانوی سفارت کاروں کو ملک بدر کرے گا۔‘
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل روسی صدر کے ترجمان نے کہا تھا کہ ولادیمر پوتن بالآخر اس آپشن کو منتخب کریں گے جو ’ماسکو کے مفادات‘ کے لیے سے زیادہ مناسب ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA/ Yulia Skripal/Facebook
دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ کے رہنماؤں نے جمعرات کو ایک بیان میں برطانیہ کے شہر سیلزبری میں یولیا اور سرگئی سکرپال پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’برطانوی حاکمیت پر حملہ‘ قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلی جنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے پر روس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
برطانیہ نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب روس نے برطانیہ کو اس زہر کے حوالے سے وضاحت دینے سے انکار کر دیا۔
برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتہ دیا گیا اور یہ سفارت کار وہ انٹیلی جنس آفیسر ہیں جن کی شناخت مخفی رکھی گئی۔
ٹریزا مے نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی منسوخ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اعلان کیا گیا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔
روس نے سیلیسبری میں روس کے سابق انٹیلیجنس افسر 66 سالہ سرگئی اور ان کی 33 سالہ بیٹی یولیا کو زہر دینے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔









