سعودی عرب میں جوہری توانائی کے پروگرام کی قومی پالیسی منظور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کی کابینہ نے اپنے جوہری توانائی کے پروگرام کی قومی پالیسی منظور کر لی ہے۔
سعودی عرب اپنے پہلے جوہری بجلی گھروں کے لیے معاہدوں کی تیاری کر رہا ہے۔
خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ پالیسی جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے محدود کرنے، ریڈیائی فاضل مادے کو ٹھکانے لگانے کے بہترین اقدامات کرنے اور حفاظتی اقدامات پر زور دیتی ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب معدنی تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ تاہم وہ اب تیل کی درآمد میں اضافے کے لیے بجلی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع بھی تلاش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پالیسی کا اعلان ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ امریکہ کے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔
محمد بن سلمان 19 سے 22 مارچ تک امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ سویلین جوہری تعاون کے معاہدے کی کوشش کریں گے۔
سعودی عرب نے آئندہ دو دہائیوں میں 16 جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ماہرین اور حکام کے مطابق اس پر 80 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔
ان بجلی گھروں کی تعمیر کے لیے درکار ٹیکنالوجی کی درآمد کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکی کمپنی ویسٹنگ ہاؤس، روسی، فرانسیسی، چینی اور جنوبی کوریائی کمپنیاں بھی سعودی عرب کے ساتھ معاہدوں کی خواہش رکھتی ہیں۔










