کم عمری کی شادیوں کے واقعات میں نمایاں کمی: یونیسیف

کم عمری کی شادی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچوں کی شادی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

یونیسیف کا تخمینہ ہے کہ گذشتہ عشرے میں بچوں کی ڈھائی کروڑ شادیاں انجام پانے سے روک دی گئیں۔

18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں پچھلے عشرے کے مقابلے پر اب 20 فیصد کم ہو گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یونیسیف کے مطابق اس ضمن میں سب سے زیادہ کمی جنوبی ایشیائی ملکوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔

انڈیا میں ایسا لڑکیوں کی بہتر تعلیم اور بچپن کی شادیوں کے نقصانات اجاگر کرنے کی بدولت ممکن ہو سکا۔

یونیسیف کے مطابق افریقہ میں یہ مسئلہ اب بھی گمبھیر ہے، تاہم ایتھیوپیا میں کم عمری کی شادیوں کی شرح میں ایک تہائی کی کمی دیکھی گئی ہے۔

یونیسیف کی صنفی امور کی مشیر انجو ملہوترا نے کہا کہ بچپن کی شادی کے لڑکی کی عمر پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کے پیشِ نظر یہ کمی خوش آئند ہے تاہم 'ہمیں اب بھی لمبا سفر درپیش ہے۔'

انھوں نے کہا: 'جب کسی لڑکی کی بچپن میں شادی کر دی جاتی ہے تو اسے فوری اور زندگی پر محیط مضمرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے تعلیم مکمل کرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور شوہر کی بدسلوکی اور حمل کے دوران مسائل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے معاشرے پر بھی اثرات پڑتے ہیں اور نسلوں پر پھیلی غربت کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔'

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیرِ صحارا افریقہ میں اس مسئلے کے حل کے لیے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

شادی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننڈیا میں ایسا لڑکیوں کی بہتر تعلیم اور بچپن کی شادیوں کے نقصانات اجاگر کرنے کی بدولت ممکن ہو سکا۔

یونیسیف کے مطابق اب ہر تین میں سے ایک کم عمری کی شادی زیرِ صحارا افریقہ میں ہوتی ہے۔ ایک عشرہ قبل یہ شرح ایک میں پانچ تھی۔

عالمی رہنماؤں نے 2030 تک کم عمری کی شادی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔

انجو ملہوترا کہتی ہیں کہ یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے کوششوں میں اضافے کی ضرورت ہے تاکہ کروڑوں لڑکیوں سے ان کا بچپن چھینے کے عمل کو روکا جا سکے۔'