سعودی ارب پتی شہزادہ ولید بن طلال سمجھوتے کے بعد رہا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب میں زیر حراست ارب پتی سعودی شہزادے ولید بن طلال کو ایک سمجھوتے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
بدعنوانی کے خاتمے کے نام پر شروع کی گئی ایک مہم کے تحت وہ دو مہینے سے حراست میں تھے۔
سنیچر کو ایک مالی سمجھوتے کو سرکاری وکیلوں کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔
درجنوں شہزادے، اعلیٰ حکام اور بڑی کارروباری شخصیات بشمول کابینہ کے کئی اراکین اور ارب پتی افراد اس وقت بدعنوانی کو ختم کرنے کے نام پر شروع کی گئی مہم کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
حراست میں لیے گئے افراد میں شہزادہ ولید بن طلال سب سے بڑا نام تھے۔ رہا ہونے سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے شہزادہ محمد بن سلمان سے تائید کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے خلاف کوئی الزامات نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ولید بن طلال کے مغربی ممالک اور ایپل اور ٹوئٹر سمیت امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیوں میں حصص ہیں۔ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کے ساتھ مالی سمجھوتے سے سعودی حکام کا خیال ہے کہ سرکاری خزانے میں کم از کم ایک سو ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس مہم کا مقصد ان کے تخت تک پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کو راہ سے ہٹانا ہوسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ برس نومبر میں فوربز کی جانب سے کیے جانے والے مالی تخمینے کے مطابق شہزادہ ولید بن طلال دنیا کے سب سے دولت مند افراد کی فہرست میں 45 ویں نمبر پر ہیں۔
سعودی اہلکاروں کے مطابق وہ اپنی کمپنی کنگڈم ہولڈنگ کے سربراہ برقرار رہیں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ر سبسچیئن اشر کے مطابق اس سے قبل نجی عرب سیٹلائٹ ٹی وی نیٹ ورک ایم بی سی کے بانی ولید الابراہیم کو حال ہی میں رہا کیا گیا ہے۔
بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ ولید الابراہیم رہا ہو کر ریاض میں اپنے اہل خانہ کے پاس جا چکے ہیں۔
اگرچہ سعودی حکام نے ولید الابراہیم کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے حوالے سے معلومات ظاہر نہیں کیں تاہم اطلاعات کے مطابق ان کو ایم بی سی پر اپنا کنٹرول کھونا پڑے گا۔
یاد رہے کہ بدعنوانی کی مہم کے پیچھے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ذاتی طور پر رٹز کارلٹن میں ہونے والے سمجھوتوں میں دلچسپی لی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ولید بن طلال کے علاوہ کم از کم چار دیگر اہم سعودی شخصیات نے سمجھوتے کر کے رہائی پائی ہے۔
ان میں سے ایک خالد التويجری ہیں جو شاہ عبداللہ کے وقت میں شاہی کورٹ کے سربراہ ہوتے تھے۔
بدعنوالی کے الزامات میں گرفتار درجنوں شہزادوں، اعلیٰ حکام اور بڑی کارروباری شخصیات بشمول کابینہ کے کئی اراکین اور ارب پتی افراد کو بدعنوانی کو ختم کرنے کے نام پر شروع کی گئی مہم کے تحت سعودی عرب کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں حراست میں رکھا گیا۔
اطلاعات کے مطابق رٹز کارلٹن نے ویلنٹائن ڈے کے لیے بکنگ لینی شروع کر دی ہے۔








