طالبات پر ماہواری کے دنوں میں دریا کو عبور کرنے پر پابندی

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
گھانا کے ایک علاقے میں طالبات کے ماہواری کے دنوں میں اور منگل کے دن دریا کو عبور کر کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ پابندی بظاہر مقامی دریا کے ’دیوتا‘ کی جانب سے عائد کی گئی ہے اور اس پر بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے کیونکہ طالبات کو سکول جانے کے لیے لازمی دریا کو عبور کرنا پڑتا ہے۔
وسطی گھانا میں اس پابندی کے عائد ہونے کی صورت میں لڑکیاں پڑھائی سے محروم ہو سکتی ہیں۔
گھانا میں پہلے ہی طالبات کی ماہواری کے دوران سکول جانے کی حوصلہ افزائی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیکو کے مطابق گھانا میں دس میں سے ایک لڑکی ماہواری کی وجہ سے سکول نہیں جا پاتی جبکہ عالمی بینک کے مطابق ملک میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ 15 لاکھ خواتین کو ماہواری کے دوران مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔
یونیسیکو کی اہلکار شمیمہ مسلم الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ دریائے آفن پر لگائی جانے والی پابندی لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کے منافی ہے۔
’بعض اوقات میں سوچتی ہوں کہ ان دیوتاؤں کا کسی نہ کسی شکل میں احتساب ہونا چاہیے کہ وہ مسلسل کئی چیزوں کو ہونے سے روکے ہوئے ہیں اور حساب کرنا چاہیے کہ اس بے پناہ طاقت کا استعمال کس طرح سے کیا جو ہم نے انھیں دی ہے۔‘
وسطی علاقے کے وزیر کوامینا ڈنکن نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے آشانتی کے وزیر سے بات کریں گے۔
دریائے آفن وسطی خطے اور آشانتی کے خطے کو تقسیم کرتا ہے۔
دنیا میں ماہواری سے متعلق کئی فرضی داستانیں اور فرسودہ خیالات پائے جاتے ہیں۔
مڈغاسگر کے بعض علاقوں میں خواتین کو ماہواری کے دوران نہانے کی اجازت نہیں دی جاتی جبکہ نیپال کے بعض علاقوں میں خواتین کو خاندان سے الگ کوٹھری میں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔








