ملائیشیا: لاپتہ ایم ایچ 370 طیارے کی تلاش کا کام دوبارہ شروع کیا جائے گا

طیارہ

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY

ملائیشیا کی حکومت کی جانب سے پانی کے اندر سروے کرنے والی کمپنی کے ساتھ معاہدے کے بعد ملائیشیا ایئر لائنز کے طیارے ایم ایچ 370 کی تلاش دوبارہ شروع کی جا رہی ہے۔

امریکی کمپنی اوشن انفنٹی کو طیارے کو تلاش کرنے کی صورت میں ادائیگی کی جائے گی۔

ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ لیو ٹینگ لائی کا کہنا ہے کہ وہ ایم ایچ 370 کے راز کو ثابت قدمی کے ساتھ حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

خیال رہے کہ ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 آٹھ مارچ سنہ 2014 کو کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس میں 239 مسافر سوار تھے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ملائیشیا ایئر لائنز کی لاپتہ ہونے والی پرواز کی تلاش کرنے کا کام گذشتہ سال جنوری میں بند کر دیا گیا تھا جس کے خلاف اس پرواز پر موجود افراد کے لواحقین نے احتجاج کیا تھا۔

طیارہ

،تصویر کا ذریعہReuters

ایم ایچ 370 کیسے غائب ہوئی؟

ایم ایچ 370 طیارے نے کوالالمپور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے آٹھ مارچ کو سنیچر کے روز مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح پونے ایک بجے اڑان بھری تھی اور اسے بیجنگ کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے وہاں پہنچنا تھا۔

ملائیشیا ائیر لائنز کا کہنا ہے کہ جہاز کے اُڑنے کے بعد ایک گھنٹے سے کم وقت میں اس کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ جہاز کی جانب سے خطرے کا کوئی سگنل نہیں ملا تھا۔

ملائیشیا کے حکام کی جانب سے جاری کیے والے ٹرینکنگ ڈیٹا نے بظاہر اس بات کی تصدیق کی کہ یہ جہاز آسٹریلیا کے جنوب مغربی علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔

ابھی تک کیا ملا ہے؟

ملائیشیا ائیر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 کی تلاش کا کام فضائی تاریخ کے سب سے بڑے زیرِ آب آپریشنز میں سے ایک تھا اور اس میں آسٹریلیا، ملائیشیا اور چین جیسے ممالک شامل تھے۔

اس آپریشن کے دوران 120,000 مربع کلو میٹر کا علاقہ تلاش کیا گیا۔ اس میں اندازاً 120 ملین ڈالر کی لاگت آئی اور اسے 1,046 دنوں کی تلاش کے بعد گذشتہ سال جنوری میں بند کر دیا گیا تھا۔