ترکی:’اعلیٰ ترین یقین دہانی‘ کے بعد امریکی ویزا سروسز بحال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترک حکومت کی جانب سے امریکی سفارتی عملے کی حفاظت کی یقین دہانی کے بعد ترکی میں امریکی سفارت اور قونصل خانے اب مکمل ویزا سروسز بحال کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سال اکتوبر میں امریکی سفارتخانے کے ایک اہلکار کی گرفتاری کے بعد امریکہ نے ملک میں تمام غیر امیگرینٹ ویزا سروسز معطل کر دی تھیں۔
اس اہلکار کو امریکہ میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن سے میبنہ تعلقات کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ترک حکومت کا کہنا ہے کہ گولن گذشتہ سال ملک میں ہونے والی ناکام بغاوت کے ذمہ دار ہیں۔
مزید پڑھیے
امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ انھیں اعتماد ہے کہ ترکی میں سکیورٹی صورتحال میں بہتری آگئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی نے امریکہ کو اعلیٰ ترین سطح پر یقین دہانی کروائی ہے کہ سفارتخانے کے کسی بھی مقامی اہلکار ہراساں نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس وقت ترکی میں 11 امریکی شہری زیرِ حراست ہیں۔
ادھر واشنگٹن میں ترک سفارتخانے نے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعے کے آغاز سے لگائی گئی امریکی شہریوں میں ترکی کے ویزے کی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترک بغاوت اور گولن
ترکی میں گذشتہ برس جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک 40,000 افراد کو گرفتار جب کہ 1,20,000 کو برطرف یا معطل کیا جا چکا ہے۔
اس کے علاوہ سرکاری اداروں کے ہزاروں ملازمین کو بھی حکومت مخالف قرار دیتے ہوئے برخاست کیا گیا ہے جبکہ حزبِ اختلاف کے حامی میڈیا کو بھی بندشوں کا سامنا ہے۔
ان افراد میں فوجی، پولیس، اساتذہ اور سرکاری ملازمین شامل ہیں جن پر شدت پسند گروہوں کے ساتھ روابط کا الزام ہے۔
یہ گرفتاریاں ترک صدر کے متنازع ریفرینڈم میں کامیابی کے بعد ملک میں ان کے مخالفین پر پہلا بڑا کریک ڈاؤن ہے اور اس کا ہدف ملک کی پولیس فورس میں فتح اللہ گولن کے حامی ملازمین تھے۔
اس ریفرینڈم کے دو دن بعد ترکی کی پارلیمان نے ملک میں پہلے سے عائد نو ماہ کی ہنگامی حالت میں مزید تین ماہ کی توسیع کی تھی۔









