’یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے نتائج خطرناک ہوں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اردن کے وزیر خارجہ نے امریکی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسیلم کیا گیا تو اس کے ’خطرناک نتائج‘ ہوں گے۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن سفادی نے امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن کو بتایا ہے کہ اس قسم کا اعلامیہ عرب اور اسلامی دنیا میں ناراضی ابھار سکتا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی ٹی وی چینل سی این این سمیت بہت سے امریکی اورمغربی ذرائع ابلاغ امریکی حکام کے حوالے سے اطلاع دے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ سے اس متنازع فیصلے کا اعلان رواں ہفتے متوقع ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
امریکی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یروشلم کو اگلے ہفتے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ یروشلم پر اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کے مطابق یہ متنازع علاقوں میں شامل ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔
فلسطینی بھی کسی طور بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کی طرف سے اس بارے میں شدید رد عمل سامنے آ سکتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیں گے۔
بی بی سی کے امریکی وزارتِ خارجہ کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان اصل میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے ایک انتخابی وعدے کو پورا کیا جانا ہو گا۔
امریکہ کی ڈیلاویئر یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر مقتدر خان نے بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی خفیہ اداروں اور انٹیلی جنس اور فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے خطے میں تشدد کی نئی لہر آ سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ ان کے اندازوں کے مطابق اس اعلان کا شدید رد عمل سامنے آئے گا اور اس کے نتیجے میں بہت زیادہ جانی نقصان ہو سکتا ہے۔
مقتدر خان نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا کہ فلسطینیوں کے علاوہ یروشلم سمیت اسرائیل میں 20 فیصد آبادی اسرائیلی عربوں کی ہے اور امریکہ کی طرف سے یہ اقدام ان عربوں کو بھی اشتعال دلا کر انھیں شدت پسندی پر مائل کر سکتا ہے۔
امریکی صدر کے اس اعلان کے ممکنہ اثرات پر مزید روشی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے جانے کے خدشات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔










