اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد کسی مذہب یا ملک کے خلاف نہیں: راحیل شریف

راحیل شریف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنراحیل شریف کا کہنا تھا کہ اس اتحاد کا مقصد رکن ممالک کے مابین اپنے ممالک میں انسداد دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے کے لیےاور مدد کرنا ہے'

دہشت گردی کے خلاف 40 اسلامی ممالک کے اتحاد کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد نے ’زمین سے دہشت گردوں کے خاتمے تک ان کے پیچھا جاری رکھنے‘ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اتوار کو دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے اجلاس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ ’ماضی میں ہمارے تمام ممالک میں دہشت گردی کردار ادا کرتی رہی ہے' اور قومی انتظامیہ کے درمیان ’کوئی تعاون نہیں رہا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آج اس اتحاد سے اس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے!

خبررساں اے ایف پی کے مطابق اس عسکری اتحاد کے سربراہ ریٹائرڈ پاکستانی جنرل راحیل شریف نے بھی اس بات پر زور دیا کہ یہ اتحاد کسی مذہب یا ملک کے خلاف نہیں ہے۔

راحیل شریف کا کہنا تھا کہ اس اتحاد کا مقصد رکن ممالک کے مابین اپنے ممالک میں انسداد دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے معلومات کا تبادلہ اور مدد کرنا ہے۔‘

یہ دہشت گردی کے خلاف قائم اسلامی مملک کے عسکری اتحاد کا پہلا اجلاس تھا جس میں 41 ممالک کے وزرائے دفاع اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ دسمبر 2015 میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان سمیت 30سے زائد اسلامی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 34 ممالک تھے تاہم بعدازاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

یہ دہشت گردی کے خلاف قائم اسلامی مملک کے عسکری اتحاد کا پہلا اجلاس تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ دہشت گردی کے خلاف قائم اسلامی مملک کے عسکری اتحاد کا پہلا اجلاس تھا

اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد میں مصر، قطر اور عرب امارات جیسے کئی عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی، ملائشیا، پاکستان اور افریقی ممالک شامل ہیں جبکہ ایران، شام اور عراق اس کا اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ یہ اجلاس ایک وقت میں بلایا گیا ہے جب ریاض اور تہران کے مابین شام، یمن اور لبنان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس اتحاد کے عبوری سیکریٹری جنرل سعودی عرب کے جنرل عبداللہ الصالح کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی ہماری مشترکہ دشمن ہے، کوئی مذہب، مسلک یا نسل نہیں۔‘

اے ایف کی کے مطابق جب اس تحاد کے قیام کا باقاعدہ اعلان ہوا تھا اس وقت قطر بھی اس میں شامل تھا تاہم سعودی حکام کے مطابق اس اجلاس میں قطر نے شرکت نہیں کی۔