95 سالہ ’انڈیانا جون‘ کے نوادرات پر تنازع، تحقیقات کا مطالبہ

آسٹریلیا کی 95 سالہ خاتون کے پاس قدیم مشرق وسطیٰ کے نوادرات ہونے پر عالمی سطح پر شور مچ گیا ہے۔

جون ہاورڈ جو سابق اقوام متحدہ کے سفیر کی اہلیہ ہیں 60 اور 70 کی دہائی ہیں اس علاقوں میں جایا کرتی تھیں جہاں آثار قدیمہ کی تلاش کے کھدائی کا کام جاری ہوتا تھا۔

حال ہی میں دا ویسٹ آسٹریلین نامی اخبار نے ان کا پروفائل کیا جس میں انھوں نے اپنے پاس موجود نوادرات دکھائے۔ اس خبر کے ساتھ ہی دنیا بھر میں شور مچ گیا ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کی جائیں کہ ان کے پاس یہ نوادارت کیسے آئے۔

آسٹریلوی میڈیا کا کہنا ہے کہ دفتر خارجہ اس بارے میں تحقیقات کر رہا ہے۔

دوسری جانب مصر کے نوادرات کے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل شعبان عبدالجواد نے سڈنی مارننگ ہیرلڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصری دفتر خارجہ سے آسٹریلوی دفتر خارجہ سے تحقیقات کرنے کی درخواست کی ہے۔

'ہم تحقیقات چاہتے ہیں کیسے یہ نوادرات مصر سے باہر گئے۔'

اس تنازعے کے باوجود ابھی یہ واضح نہیں کہ ان نوادرات کو لانے پر جون ہاورڈ نے کوئی قانون توڑا یا نہیں۔

اخبار میں چھپنے والے مضمون میں جون ہارورڈ کو ہاورڈ 'انڈیانا جون' کہا گیا ہے۔ ان کو ایسا ہیریسن فورڈ کی مشہور فلم انڈیانا جونز کے حوالے کہا گیا ہے۔ اس فلم میں ہیریسن فورڈ کا کردار آثار قدیمہ کے ماہر کا ہے۔

نوادرات کیسے آسٹریلیا پہنچے؟

جون ہارورڈ کے پاس مصری ممی کا ماسک ہے جو تدفین کے وقت پہنایا جاتا تھا، رومن اسلحہ اور مصر کے قدیم سکے اور زیورات ہیں۔

اپنے شوہر کے اقوام متحدہ کے رابطے استعمال کر کے 11 سال تک جون شام، مصر، لبنان، اردن، فلسطین اور اسرائیل بغیر کسی روک ٹوک کے جاتی رہتی تھیں۔

انھوں نے اپنے اپنے شوہر کی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوادرات تلاش کیے۔ یہ وہ وقت تھا جب عالمی قوانین میں نوادرات قانونی طور پر باہر لے جانے کی روک ٹوک نہیں تھی۔

نوادرات کو کسی اور ملک لے کر جانے پر پابندی کے حوالے سے یونیسکو کا کنونشن 1970 میں آیا تھا۔

تاہم اس حوالے سے مصر کے قومی قوانین 1880 سے موجود ہیں۔ اور جن دیگر ممالک میں جون پھرتی رہی ہیں اور نوادرات وہاں سے آسٹریلیا لے کر جاتی رہیں وہاں پر 1950 سے نوادرات کو ان ممالک سے کسی اور ملک لے کر جانے پر پابندی کے حوالے سے قوانین لاگو ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ نے جبن ہاورڈ کے پاس نوادرات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہر آثار قدیمہ مبنیکا ہانا نے مصر میں آسٹریکیا کے سفیر کو ایک خط میں لکھا ہے کہ جون ہاورڈ نے سمندری ڈاکو کی طرح یہ نوادرات حاصل کیے ہیں۔