مصر: نماز جمعہ کے دوران حملے میں ہلاکتیں 235 ہو گئیں، 130 افراد زخمی

،تصویر کا ذریعہEPA
مصر کے ریاستی میڈیا کے مطابق ملک کے شمالی صوبے سینائی میں ایک مسجد پر جمعے کی نماز کے دوران حملے میں کم از کم 235 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ریاستی نیوز ایجنسی کے مطابق مسجد پر بم حملے کے بعد مسلح افراد نے گولیاں بھی چلائیں۔
حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم 130 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہEPA
عینی شاہدین نے مصری میڈیا کو بتایا کہ یہ حملہ العریش کے قریب بیر العباد نامی قصبے میں جمعے کے نماز کے دوران ہوا۔
مرنے والوں میں عورتیں، بچے اور فوجی اہلکار شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسے مصر میں جاری حالیہ کشیدگی کے بعد ہونے والا بدترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک ایسا حملہ جس کی مثال نہیں ملتی
سیلی نبیل، بی بی سی نیوز، قاہرہ
شمالی سینائی خطے میں اسلامی عسکریت پسند کئی برسوں سے متحرک ہیں لیکن ان کا نشانہ زیادہ تر سکیورٹی فورسز ہوتی ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انھوں نے مسجد میں نمازیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سینا کے شمالی علاقوں میں گذشتہ چند سالوں سے میڈیا کی رسائی نہیں ہے۔ یہاں کسی بھی میڈیا کی تنظینم کو جانے کی اجازت نہیں حتٰی کی ریاستی تعاون سے چلنے والے میڈیا کو بھی نہیں۔
حملوں کی تعداد نے فوجی کارروائیوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ فوج کے آئے دن بیانات سامنے آتے رہتے ہیں کہ اس نے سینا کے مختلف حصوں میں فتح حاصل کر لی ہے لیکن فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جاری لڑائی ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

حملے کا نشانہ بننے والی مسجد صوفی ازم کے پیروکاروں میں مقبول ہے جنھیں شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
مصری حکومت نے اس حملے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
سنہ 2013 کے بعد سے مصر میں حکومت کی سخت اسلامی نظریات کے حامل باغیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت آئی ہے۔
ایک خبر کے مطابق حملے میں بظاہر سکیورٹی فورسز کے حامی لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو اس وقت مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔
مصر کے صدر عبدالفتح السیسی اس واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے سکیورٹی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
جمعے کے نماز کے وقت ہونے والا یہ حملہ کس نے کیا یہ تاحال معلوم نہیں ہو سکا۔
سنہ 2013 میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے بغاوت میں شدت آئی اور حملوں کا آغاز ہوا۔
تب سے سینکڑوں پولیس اہلکار، فوجی اور عام شہری حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر حملے سینائی صوبے کے اس گروہ کی جانب سے ہی کیے گئے جو نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک ہے۔








