ارجنٹائن کی لاپتہ آبدوز کے سگنلز مل گئے

،تصویر کا ذریعہEPA
ارجنٹائن کے حکام نے کہا ہے کہ انھیں کئی روز قبل بحر اوقیانوس میں لاپتہ ہونے والی اس آبدوز کے سگنلز ملے ہیں جس پر 44 افراد سوار تھے۔
وزارت دفاع اب ان سات ناکام سیٹلائٹ کالز کے مقامات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی جو سنیچر کو موصول ہوئی تھیں۔
ارجنٹائن کی بحریہ کو آبدوز کی تلاش میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے تحقیق کرنے والے جہاز کا تعاون بھی شامل ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
برطانیہ اور علاقے کے دوسرے ممالک نے بھی تعاون کی پیشکش کی ہے۔ امریکی بحریہ ارجنٹائن کو سمندر کے گہرے پانیوں میں بچاؤ کا ساز و سامان بھیج رہی ہے تاکہ اگر آبدوز کہیں سمندر کی گود میں ہو تو اس کا استعمال کیا جا سکے۔
ارجنٹائن کے صدر موریکو ماکری کا کہنا ہے کہ حکومت عملے کے خاندانوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
یہ ڈیزل الیکٹرک آبدوز، جنوبی امریکہ کے جنوبی کنارے اوشوآئیا سے ایک معمول کے مشن کے بعد بیونس آئرس کے جنوب میں اپنے بحری اڈے مار ڈیل پلاٹا واپس آ رہی تھی۔ بحریہ کی کمانڈ کے ساتھ اس کا آخری رابطہ بدھ کی صبح ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال ہے کہ شاید آبدوز میں بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کی وجہ مواصلات میں مشکلات پیش آ رہی تھی۔ بحری پروٹوکول کے مطابق اگر کسی آبدوز کا رابطہ منقطع ہو جائے تو اسے سطح پر آ جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ جرمنی کی تیارہ کردہ اس آبدوز کا 1983 میں افتتاح کیا گیا تھا جو ارجنٹائن کے بحری بیڑے میں شامل تین آبدوزوں میں سب سے نیا اضافہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے قبل بحریہ کے ترجمان اینریکے بالبی نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ ارجنٹائن کی فضائیہ کے ایک جہاز ہرکیولیز سی ون 30 کے ساتھ ساتھ امریکی خلائی ادارے ناسا کا ایک سراغ رساں طیارہ پی تھری آبدوز کی تلاش کے کام میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ارجنٹائن نے بھی ایک جنگی اور دو توپ بردارجہازوں کے ساتھ جزیرہ والدیز کے جنوب مشرق میں اُس علاقے کے اردگرد آبدوز کی تلاش کا کام شروع کیا تھا جہاں آخری بار اُس سے رابطہ ہوا تھا۔
تیز ہواؤں اور اونچی لہروں نے امدادی کارکنوں کے کام کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔









