برطانوی جوہری آبدوز کے نو اہلکار ’ممنوعہ ادویات‘ کے الزام میں نوکری سے برخاست

بحریہ

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنبرطانوی بحریہ کی جوہری آبدوز ’ایچ ایم ایس ویجیلانٹے‘

برطانیہ کی بحریہ نے 'ایچ ایم ایس ویجیلانٹے' نامی جوہری آبدوز میں کام کرنے والے نو اہلکاروں کو ’ممنوعہ ادویات‘ استعمال کرنے کے الزام میں نوکری سے برخاست کر دیا ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق ان اہلکاروں نے کوکین کا استعمال کیا تھا۔

خیال ہے کہ ملک کے سیکریٹری دفاع مائیکل فیلن نے برطانوی بحریہ میں استمعال ہونے والی تمام آبدوزوں کے عملے کے ڈرگ ٹیسٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔

برطانوی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ممنوعہ ادویات کے استعمال کے خلاف ہیں۔ 'وہ اہلکار وہ ہمارے معیار پر پورے نہیں اترتے انھیں ہم نوکری میں نہیں رکھ سکتے۔'

اس ماہ کے اوائل میں اسی آبدوز کے کپتان سے ان کی کمان واپس لے لی گئی تھی کیونکہ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے عملے کے اہلکار کے ساتھ 'نامناسب تعلق' قائم کیا تھا۔

بحریہ

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنکہا گیا ہے کہ برطانوی سیکریٹری دفاع مائیکل فالون نے قومی بیڑے کی تمام آبدوزوں کے عملے کے ڈرگ ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا تھا

اس واقعے کے بعد بحریہ کی جانب سے پیغام آیا تھا کہ وہ اس کی تفتیش کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل نے بتایا کہ 'ایچ ایم ایس ویجیلانٹے' کے نائب کپتان بھی ایسے الزام کی وجہ سے اپنے عہدے سے ہٹا دیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ 'ایچ ایم ایس ویجیلانٹے' برطانیہ کی چار جوہری آبدوزوں میں سے ایک ہے جو اپنے ساتھ جوہری ہتھیار بھی لے جا سکتی ہے۔

برطانوی بیڑے میں شامل تمام جہاز اور آْبدوزوں پر 'نو ٹچ' کا قانون لاگو ہے جس کے تحت عملے کے افسران ایک دوسرے کے ساتھ ذاتی تعلقات قائم نہیں کر سکتے۔