سعودی عرب کا پانچ سو ارب ڈالر کی لاگت سے رہائشی اور کاروباری مرکز تعمیر کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب نے پانچ سو ارب ڈالر کی لاگت سے ایک نیا شہر اور کاروباری زون تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے این ای او ایم (نیوم) نامی منصوبے کے بارے میں بتایا کہ ملک کے شمال مغربی علاقے میں 26 ہزار پانچ سو مربع کلومیٹر پر محیط ہو گا۔
اس منصوبے کا اعلان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ بین الاقوامی بزنس کانفرنس میں کیا گیا۔
منصوبے کو مصر اور اردن تک توسیع دینے کا اعلان بھی کیا گیا تاہم دونوں ممالک کی جانب سے تاحال اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے اس منصوبے میں نو شعبوں پر توجہ دی جائے گی جس میں خوراک، ٹیکنالوجی، توانائی اور پانی شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ منصوبہ ولی عہد محمد بن سلمان کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت ملک کا انحصار تیل سے حاصل ہونے والی آمدن پر کم کرنا ہے۔
اس سے پہلے اگست میں سعو دی عرب نے سیاحوں کے لیے ایک بڑے پروجیکٹ کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں بحرِ احمر کے ساتھ موجود 50 جزیرے لگژری سیرگاہوں میں بدل جائیں گے اور اس منصوبے سے امید کی جا رہی ہے کہ اس سے غیر ملکی سیاح اور مقامی افراد کو متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی معیشت کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔
بی بی سی کے معاشی امور کے نامہ نگار اینڈریو واکر کے مطابق محمد بن سلمان کے ویژن پر یقیناً سوال بھی اٹھتے ہیں کہ یہ منصوبہ کتنا حقیقی ہے۔
سعودی عرب کے بارے میں مزید پڑھیے
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ این ای او ایم (نیوم) نامی منصوبے کو ریاست کے علاوہ، مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی طرف سے سرمایہ فراہم کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق این ای او ایم (نیوم) نامی منصوبے سے سال دو ہزار تیس تک سعودی معیشت میں ایک سو ارب ڈالر تک حصہ ہو گا اور یہ بحرِ احمر کے ساحل اور عقابہ خلیج پر ایک پرکشش منزل ہو گا جو ایشیا، افریقہ اور یورپ سے جوڑے گا۔










